یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے: 'ضلع بدین میں پانی کی قلت سے 60 فیصد زرعی زمینیں ناقابل کاشت ہو رہی ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے: 'ضلع بدین میں پانی کی قلت سے 60 فیصد زرعی زمینیں ناقابل کاشت ہو رہی ہیں'۔

محمد عباس خاصخیلی

postImg

یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے: 'ضلع بدین میں پانی کی قلت سے 60 فیصد زرعی زمینیں ناقابل کاشت ہو رہی ہیں'۔

محمد عباس خاصخیلی

محمد رمضان نے اپنا گاؤں ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ وہاں پانی نہ ملنے کی وجہ سے ان کے مویشی مر رہے ہیں اور ان کی زمین بنجر ہو رہی ہے۔ 

ان کے گاؤں میں پینے کا پانی تک دستیاب نہیں۔ اس لیے، ان کے مطابق، ان کے گھر کا کوئی ایک مرد ہر روز موٹرسائیکل پر 14 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ایک قصبے میں جاتا ہے اور وہاں سے پانی کی دو بڑی بوتلیں خرید کر لاتا ہے۔ لیکن ان بوتلوں سے ان کی "صرف کھانے پینے کی ضروریات ہی پوری ہوتی ہیں"۔

وہ زیریں سندھ کے شہر بدین سے 33 کلومیٹر جنوب میں واقع بگھڑا میمن نامی گاؤں میں رہتے ہیں جہاں ان کا خاندان صدیوں سے آباد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پانی کی قلت کی وجہ سے اب وہ اپنی 12 ایکڑ خاندانی اراضی پر کوئی فصل کاشت نہیں کر پاتے۔ پچھلے دو سالوں میں انکی چار بھینسیں، ایک گائے اور نو بکریاں بھی چارہ نہ ملنے کی وجہ سے مرچکی ہیں۔

اس لیے اب وہ اپنی اراضی بیچ کر کسی ایسی جگہ منتقل ہونا چاہتے ہیں جہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہو۔ 

 بگھڑا میمن سے تقریباً آٹھ کلومیٹر مزید جنوب میں شیخ کیریو بھانڈاری نامی بستی واقع ہے جس سے آگے کوئی انسانی آبادی نہیں بلکہ سمندر ہے۔ یہاں کے 60 سالہ رہائشی محمد سلیم ملاح کہتے ہیں کہ وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوئے، یہیں جوان ہوئے اور اب بوڑھے بھی اسی میں ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے "پانی کی ایسی قلت پہلے کبھی نہیں دیکھی'' جیسی اب دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں تک دریائی پانی پہنچانے والی نہر، میرواہ کینال، اس سال اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں اس قدر خشک رہی کہ اس کے پاٹ میں "ہر وقت ریت اڑتی رہتی تھی"۔ 

سندھ کے زمین داروں کی تنظیم، سندھ آبادکار ایسوسی ایشن، کے صدر سید فیاض شاہ راشدی بھی یہی شکایت کرتے ہیں۔ وہ ضلع بدین میں ہی رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں پانی کی کمی اس قدر شدید ہے کہ اس سال اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں وہ اپنی ایک سو 20 ایکڑ اراضی میں سے صرف 20 ایکڑ پر ہی فصلیں کاشت کر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کی زمین پر کام کرنے والے 15 کسان بیروزگار ہو گئے ہیں۔ 

بدین میں رہنے والے ہزاروں زمین داروں اور لاکھوں کسانوں کو اسی صورتِ حال کا سامنا ہے کیونکہ، سید فیاض شاہ راشدی کے اندازے کے مطابق، پانی کی قلت کی وجہ سے اس ضلعے کی 70 فیصد سے 80 فیصد زمین پر اس سال موسم بہار اور اوائلِ گرما میں کوئی فصل کاشت نہیں کی جا سکی۔ اس قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں تحصیل بدین کی سیرانی، احمد راجھو، شہید دودو سومرو، بھڈمی اور کڈھن نامی یونین کونسلیں جبکہ تحصیل ٹنڈو باگو کی پنگریو، خلیفو قاسم، شادی لارج اور کھوسکی نامی یونین کونسلیں اور نندو نامی قصبہ شامل ہیں۔

ان آبادیوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد محمد رمضان کی طرح اپنے آبائی گھر بار چھوڑ کر بدین شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں منتقل ہو رہی ہے۔ 
اگرچہ حکومتِ سندھ کے کسی محکمے یا ادارے نے ابھی تک یہ جائزہ نہیں لیا کہ پانی کی کمی نے ان لوگوں کو مجموعی طور پر کتنا معاشی نقصان پہنچایا ہے تاہم سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام اور چائنا ایگری کلچر یونیورسٹی بیجنگ کے آٹھ طلبا نے اس کا کچھ اندازاہ لگانے کی کوشش ضرور کی ہے۔ اپریل 2022 میں شائع ہونے والی ان کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ضلع بدین کی 60 فیصد زرعی زمینیں پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں اور نتیجتاً تیزی سے ناقابل کاشت ہوتی جا رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے باعث ان کے مالک زمین داروں اور ان پر کام کرنے والے کسانوں اور کھیت مزدوروں کی ایک بڑی تعداد اپنے روزگار سے محروم ہو رہی ہے۔ 

<p>ضلع بدین کے دوردراز ساحلی بستیوں میں پانی پہنچانے والی میرواہ نہر سوکھی پڑی ہے<br></p>

ضلع بدین کے دوردراز ساحلی بستیوں میں پانی پہنچانے والی میرواہ نہر سوکھی پڑی ہے

بدین کے رہنے والے بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ان کے لیے نیا نہیں۔ ان کے مطابق پچھلی ایک دہائی سے ہی انہیں ان کی زرعی اور گھریلو ضرورتوں سے کہیں کم پانی مل رہا ہے۔  ٹنڈوباگو کی یونین کونسل خیرپور گنبو کے کاشت کار2012 سے پانی کی قلت کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ اس لیے وہ ہر سال متعدد بار اپنے علاقے سے بستی ملکانی نامی قصبے تک پیدل مارچ کرتے ہیں تاکہ حکومت کو اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتا سکیں۔ 

سندھ میں ماہی گیروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کو بھی شکوہ ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے ہزاروں مقامی ماہی گیر بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس کے ارکان نے اس سال جون میں بدین شہر میں پیر چوک نامی جگہ پر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ اس موقعے پرخطاب کرتے ہوئے اس کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسلم ملاح نے کہا کہ دریائی پانی کی عدم دستیابی اور خشک سالی کے باعث ضلع بدین میں پائے جانے والے میٹھے پانی کے 90 فیصد قدرتی ذخیرے خشک ہو چکے ہیں اور ان میں پنپنے والی مچھلیاں معدوم ہو گئی ہیں۔

دریائی پانی کی متنازع تقسیم

حسنین مرزا سندھ اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رکن ہیں۔ ان کا حلقہ انتخاب بدین میں ہی واقع ہے۔ اس سال مئی میں ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے ضلعے کے مشرقی حصے کودریائے سندھ کا پانی فراہم کرنے والی پھرھو اور دمبالو نامی دو نہروں کا پانی ایک بالائی ضلعے ٹنڈو الہ یار میں لگے ہوئے ایک ریگولیٹر پر روک دیا گیا ہے تاکہ وہاں واقع ان زمینیوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے جو مبینہ طور پر حزب اقتدار کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ ایک بڑے زمین دار کی ملکیت ہیں۔ 

اسلم ملاح بھی اسی طرح کا شکوہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومتِ سندھ حیدرآباد اور جام شورو کے درمیان دریائے سندھ پر بنے کوٹری بیراج سے نکلنے والی نہروں کے پانی کی "درست تقسیم میں ناکام رہی ہے" جس کے باعث دریائی پانی بدین، ٹھٹہ اور سجاول کے "زیریں اضلاع میں نہیں پہنچ رہا"۔ 

دریائے سندھ کے جنوبی دہانے پر واقع شہر ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے انجینئر اور آبی امور کے ماہر اوبھایو خشک ان سے متفق نہیں۔ وہ پانی کی قلت کی ذمہ داری دریائے سندھ کے بہاؤ میں کمی پر ڈالتے ہیں جس کی وجہ، ان کے مطابق، دریائی پانی کی غیرمنصفانہ بین الصوبائی تقسیم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب اس سال مئی اور جون کے مہینوں میں اپنے مقررہ حصے، 24 ہزارسات سو مکعب میٹر فی سیکنڈ، سے تقریباً دگنا پانی استعمال کر رہا تھا۔ "اس سے پورے صوبہ سندھ میں بالعموم اور بدین، ٹھٹہ اور سجاول کے اضلاع میں بالخصوص نہری پانی کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ 

ان کے اس دعوے کی تصدیق ان اخباری رپورٹوں سے ہوتی ہے جن کے مطابق 18 مئی 2022 کو جنوبی پنجاب میں واقع تونسہ بیراج سے 79 ہزار نو سو 30 مکعب میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے پانی دریائے سندھ میں چھوڑا گیا لیکن تین دن بعد جب یہ پانی صوبہ سندھ میں واقع گڈو بیراج پر پہنچا تو اس کی مقدار59 ہزار دو سو 60 مکعب میٹر فی سیکنڈ رہ گئی تھی۔ گویا 20 ہزار چھ سو 70 مکعب میٹر فی سیکنڈ پانی راستے میں ہی خرچ ہو گیا تھا۔

یہ معاملہ منظرِعام پر آنے کے بعد وفاقی حکومت نے اس کی چھان بین کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی جس نے دونوں بیراجوں کے درمیان دریائی پانی کے غائب ہونے کی تصدیق کی۔ لیکن حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود جون کے آخر تک سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

تھرپارکر میں پانی کی قلت: 'ہم کئی نسلوں سے چیخ رہے ہیں کہ ہمیں پانی چاہیے لیکن حکومت نے کبھی ہماری بات نہیں سنی'۔

اسی بنا پر ضلع بدین ہی کے ایک حلقے سے منتخب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی تاج محمد ملاح کہتے ہیں کہ پانی کی قلت محض ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ اس سے پورے صوبہ سندھ کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ مشرقی بدین میں یہ قلت نسبتاً زیادہ ہے لیکن ان کے مطابق اس کی وجہ اس کا نہری نظام کے آخری سرے پرواقع ہونا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو عام حالات میں بھی اس علاقے میں نہری پانی کم ہی پہنچتا ہے لیکن اس بار چونکہ "دریا سندھ میں ہی کم پانی آ رہا ہے تو یہاں اس کی فراہمی پہلے کی نسبت اور بھی کم ہوگئی ہے"۔

آبی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس بھی سمجھتے ہیں کہ جنوبی سندھ میں پانی کی قلت کی بنیادی وجہ دریائے سندھ کے بہاؤ میں کمی ہے لیکن ان کی نظر میں یہ کوئی غیرمعمولی امر نہیں بلکہ، ان کے مطابق، ہر سال مئی اور جون میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان مہینوں میں دریا میں موجود تقریباً دو ملین ایکڑ فٹ پانی تربیلا ڈیم میں ذخیرہ کر لیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نہروں کے ذریعے "صوبہ سندھ کے انتہائی جنوبی اضلاع میں پہنچنے والا پانی بہت کم رہ جاتا ہے"۔ 

تاریخ اشاعت 5 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔