میٹھا میٹھا ہپ: کیا دو طالبات کی ہلاکت بہاولپور کے نجی ہاسٹلز کو قانون کے دائرے میں لا پائے گی؟

postImg

محمد یاسین انصاری

postImg

میٹھا میٹھا ہپ: کیا دو طالبات کی ہلاکت بہاولپور کے نجی ہاسٹلز کو قانون کے دائرے میں لا پائے گی؟

محمد یاسین انصاری

بہاولپور کے ایک نجی گرلز ہاسٹل کی چھت گرنے کے واقعہ نے ایک بار تو پوری ضلعی انتظامیہ کو متحرک کر دیا تھا لیکن اب ایک ماہ بعد حالات واپس 'پرانی ڈگر' پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام کا غصہ ختم، معاملہ ختم۔

انتیس اپریل کو ریاض کالونی میں ہونے والے اس حادثے میں صادق ویمن یونیورسٹی کی دو طالبات جاں بحق ہو گئی تھیں۔

صالحہ منور بی ایس باٹنی اور مائدہ اقبال بی ایس نفسیات کے چوتھے سمسٹر میں تھیں۔ وہ دونوں کزن تھیں اور اپنی یونیورسٹی سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور واقع گاؤں چک 172 مراد چشتیاں کی رہنے والی تھیں۔

صالحہ کے والد نے لوک سجاگ کو بتایا کہ وہ دونوں حادثے سے پانچ روز قبل ہی گھر سے دوبارہ اپنے ہاسٹل گئی تھیں۔

مائدہ کا اکلوتا بھائی فوج میں ہے اور حادثے والے دن اس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تھی جس میں مرحومہ بہن سمیت ان کا خاندان مدعو تھا لیکن بوجوہ جا نہیں پایا۔

صالحہ اور مائدہ جس نجی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھیں وہ گاڈر اور ٹی آئرن سے بنی ایک دو منزلہ عمارت میں تھا۔ یہ عمارت عبدالستار نامی شخص کا گھر تھا جس میں انہوں نے یونیورسٹی کی 50 طالبات کو رہائش مہیا کی ہوئی تھی۔

چھت پر رکھی پانی کی ٹینکی مسلسل ٹپکتی رہتی تھی جسے متعدد شکایتوں کے باوجود مرمت نہیں کروایا گیا اور جس سے چھت کمزور ہو کر بالاآخر گر گئی۔

اس حادثے نے بہاولپور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ہزار ہا طلبا و طالبات اور ان کے والدین کو افسردہ اور مضطرب کر دیا ہے۔

سب کا ایک ہی سوال ہے: نجی ہاسٹلز قانوناً کس ادارے کی ذمہ داری ہیں؟ اس بے تحاشہ بڑھتے ہوئے کاروبار کے اصول و ضوابط کون طے کرے گا اور کون ان پر عمل کروائے گا؟

طلبہ کہاں سر چھپائیں؟

صادق ویمن یونیورسٹی کی افسر تعلقات عامہ میڈم نعیمہ نے لوک سجاگ کو بتایا کہ یونیورسٹی میں چھ ہزار کے قریب طالبات زیرتعلیم ہیں جبکہ یونیورسٹی کا رقبہ کم ہے اور ہاسٹل صرف دو ہیں جن میں 600 کے قریب طالبات رہائش پذیر ہیں۔ مریم ہاسٹل میں 200 اور فاطمہ ہاسٹل جو ایک سال قبل ہی تعمیر ہوا اس میں 400 طالبات کی گنجائش ہے۔

باقی طالبات نجی ہاسٹلوں میں رہائش رکھنے پر مجبور ہیں۔

میڈم نعیمہ نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی کیلئے ائیرپورٹ کے قریب نہر اے بی برانچ پر سوا سو ایکڑ رقبہ مختص کیا گیا ہے جہاں تدریسی شعبہ جات کے علاوہ سات ہاسٹلوں کی تعمیر کا بھی منصوبہ ہے جن ڈھائی سے تین ہزار طالبات کی رہائش کی گنجائش ہوگی۔

لیکن اس زمیں پر قبضہ ہو چکا ہے اور معاملہ عدالت میں ہے جس کی وجہ سے تعمیر ممکن نہیں ہو رہی۔

یونیورسٹی کے لیگل ونگ کے حکام کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کی زمین پر سابق صوبائی وزیر ملک اقبال چنڑ کے لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔معاملہ عدالت میں ہے جہاں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ رقبہ پر ان کی بلڈنگز اور شیڈز تعمیر ہیں اگر ان کو گرا دیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا جس پر سول عدالت نے عارضی حکم امتناعی جاری کر دیا۔

اقبال چنڑ 2013ء میں بہاولپور سے نون لیگ کی جانب سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہو کر صوبائی وزیر اور چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

لوک سجاگ نے ان کے بھائی ملک اعجاز چنڑ سے استفسار کیا تو جواب ملا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور وہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔

ڈھائی ارب روپے سالانہ کا کاروبار

بہاولپور شہر سوا کروڑ آبادی والے بہاولپور ڈویژن میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا واحد مرکز ہے۔ یہاں اسلامیہ یونیورسٹی، صادق ویمن یونیورسٹی، گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج، گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج اور قائد اعظم میڈیکل کالج میں گردونواح اور پنجاب بھر سے آنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات زیرتعلیم ہیں۔

اسلامیہ یونیوسٹی بہاولپور میں طلبا کی کل تعداد 70 ہزار بتائی جاتی ہے۔ دیگر اداروں کی طرح یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں بھی گنجائش ناکافی ہے یہاں سات ہاسٹلز میں چھ ہزار 300 طالبات رہتی ہیں اور تین ہزار طلبا پانچ ہاسٹلز میں رہائش رکھتے ہیں جبکہ اندازاً 15 ہزار طلبا و طالبات نجی ہاسٹلز میں رہنے پر مجبور ہیں۔

طلبہ کو لا محالہ نجی ہاسٹلز میں قیام کرنا پڑتا ہے۔ رہائش کی طلب کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے شہر میں چھوٹے بڑے گھروں میں پارٹیشن کر کے انہیں ہاسٹلز میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ایک بستر جتنی جگہ کا کم از کم ماہانہ کرایہ پانچ ہزار روپے ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق بہاولپور شہر میں نجی ہاسٹلز کے کاروبار کا حجم تقریباً ڈھائی ارب روپے سالانہ ہے۔

نجی ہاسٹل اپنے آپ کو کسی قاعدے قانون کو ماتحت تصور نہیں کرتے۔ متعلقہ اداروں کو بھی ان پر کوئی قانون لاگو کرنے کی پروا نہیں۔بس دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جب سے پولیس کو اپنے علاقے میں کرایہ داروں کا ریکارڈ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے تب سے وہ ان ہاسٹلز کی ایک سرسری سی فہرست تیار کر کے اپنے پاس رکھنے لگے ہیں۔

قانوناً ان ہاسٹلز پر پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ایکٹ 1976ء کا اطلاق ہونا چاہیے جس کے تحت ان کے لیے لازم ہوتا ہے کہ ہاسٹل کے قیام کی پیشگی اجازت طلب کریں اور صحت، صفائی، محفوظ بلڈنگ اور دیگر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں جس کا متعلقہ حکام کو ہر سال معائنہ کرنا ہوتا ہے۔

قانون پر عمل درآمد کی صورت میں میونسپل کارپوریشن کو ان ہاسٹلز کی عمارات کو معائنہ کے بعد قابل رہائش یا خطرناک قرار دینا ہو گا اور لینڈ ریکارڈ میں ان کی حیثیت رہائشی سے تبدیل کر کے کمرشل کرنا ہو گی۔

اس عمل سے گزرنے سے ان پر ٹیکسوں کی شرح بڑھ جائے گی اور سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کا اطلاق بھی ہو جائے گا اور یہ ظاہر ہے مالکان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

آئی بلا کو ٹال تُو: حادثے کا ذمہ دار کون؟

ریاض کالونی کے سانحے کے بعد پولیس نے کمال مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوسٹل کے مالک عبدالستار کے خلاف تھانہ سول لائنز میں دفعہ 302 کے تحت یعنی قتلِ عمد کا مقدمہ درج کر لیا۔ ساتھ ہی ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ پولیس نے ڈیڑھ ماہ قبل تمام نجی ہاسٹلوں کا سروے کروا کے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ دیا تھا کہ اس حوالے سے کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ خطرناک عمارتوں کو سربمہر کرنا ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری ہے۔ ڈی پی او بہاولپور کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو جو خط 30 مارچ کو ارسال کیا گیا تھا اس میں ایسے 34 ہاسٹلز کی فہرست شامل تھی جو پولیس کے مطابق کسی بھی ادارے کی اجازت یا علم کے بغیر کام کر رہے تھے۔

اس لسٹ میں ریاض کالونی کا وہ گرلز ہاسٹل شامل نہیں تھا جس میں حادثہ ہوا۔

تاہم تھانہ سول لائنز کے ایس ایچ او عامر لعل دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ہاسٹل کے کرایہ داری معاہدے اور وہاں رہنے والی طالبات کا ریکارڈ تھانے میں موجود ہے۔ جہاں تک عمارت کمزور اور خطرناک ہونے کا تعلق ہے تو یہ دیکھنا تحصیل میونسپل کارپوریشن کا کام تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس حادثے کے دوسرے روز میونسپل کارپوریشن کے افسروں نے تھانے میں آکر اس ہوسٹل کے نام پرانی تاریخوں میں لکھا ایک نوٹس جمع کرانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کے حکام حادثے کی ذمہ داری اور کسی تادیبی کاروائی سے بچنے کے لیے اب نجی ہاسٹلز کو گزری ہوئی تاریخوں میں نوٹس جاری کر رہے ہیں۔

کارپوریشن کے چیف آفیسر نے اس سلسلے میں لوک سجاگ کو کوئی معلومات دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے ریکارڈ کے حوالے سے بھی کہا کہ ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے انہیں ہاسٹلز کے ریکارڈ اور معلومات دینے سے روک دیا ہے۔

اچانک نمودار ہونے والی نجی ہاسٹل مالکان ایسوسی ایشن

متعلقہ اداروں پر ہاسٹلز کو قانون کے دائرے میں لانے کا دباؤ جونہی بڑھا، اچانک ایک نجی ہاسٹل ایسوسی ایشن نمودار ہو گئی۔

اس کے صدر حافظ شعبان ایک نجی ہاسٹل کے مالک ہیں اور سرپرستِ اعلیٰ بلال بلوچ ہیں جو مسلم لیگ نون کے رہنما اور ایم پی اے کے امیدوار ہیں۔

حافظ شعبان نے دعویٰ کیا کہ بہاولپور میں لگ بھگ ایک ہزار نجی ہاسٹل ہیں جو 35، 40 ہزار طلبا و طالبات کو رہائش کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے دعویٰ کے ثبوت کے طور پر 'بہاولپور کے ایک ہزار نجی ہاسٹلوں' کی فہرست دینے سے انکار کیا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات: 'غریب طبقے کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنا معاشرتی مساوات کے لیے انتہائی ضروری ہے'۔

ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسوسی ایشن کب سے کام کر رہی ہے تو ان کا جواب تھا کہ "یہ تنظیم دوچار روز پہلے ہی قائم ہوئی ہے"۔

حافظ صاحب نے کہا کہ چھت گرنے کا واقع ایک اتفاقی حادثہ تھا لیکن اس میں ہاسٹل مالک عبدالستار کی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو تمام ہاسٹلوں کی عمارتوں کا محکمہ بلڈنگ کے ساتھ معائنہ کرے گی اور خطرناک عمارتوں کو بند کر کے طلبہ کو معیاری عمارتوں میں منتقل کیا جائے گا۔

حافظ صاحب نے بلڈنگ رولز کے مطابق ان ہاسٹلز کو کمرشل قرار دینے کی مخالفت کی اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز کے مذمت کرتے ہوئے کہا: "اگر عمارتوں کو کمرشل قرار دے دیں گے تو فیسوں اور ماہانہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے باعث مالکان کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور انہیں کرائے بڑھانے پڑیں گے جس سے طالب علموں کے رہائشی اخراجات دو گنا ہو جائیں گے"۔

معروف قانون دان محمد صادق کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو انتظامیہ خوب حرکت میں آتی ہے لیکن "زیادہ زور معاملے کو دبانے پر ہوتا ہے اور مسائل کے مستقل سدباب کا کبھی نے نہیں سوچا جاتا"۔

تاریخ اشاعت 1 جون 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمدیاسین انصاری بہاول پور کے نوجوانوں صحافی ہیں۔ عرصہ 23 سال سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.