مانسہرہ میں چائے کی کاشت کا ناکام حکومتی منصوبہ: نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مانسہرہ میں چائے کی کاشت کا ناکام حکومتی منصوبہ: نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔

سید نعمان شاہ

postImg

مانسہرہ میں چائے کی کاشت کا ناکام حکومتی منصوبہ: نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔

سید نعمان شاہ

اختر نعیم کی عمر 70 سال ہے۔ انہوں نے اپنی جوانی اور ادھیڑ عمری کے کئی سال اس خواہش میں گزارے ہیں کہ کاش وہ بھی اپنے علاقے کے ایک کامیاب کاشت کار رستم خان کی طرح چائے کاشت کر کے بہت سا منافع کما سکیں۔ 

لیکن رستم خان کے برعکس نہ تو ان کے پاس مالی وسائل تھے کہ وہ ایک ایسی فصل اگانے کا تجربہ کر سکیں جس کی پہلی پیداوار چار سال کا وقت لیتی ہے اور نہ ہی انہیں چائے کا معیاری بیج دستیاب تھا۔ لہذا انہوں نے وفاقی حکومت کے ادارے، نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ، سے رجوع کیا جس نے انہیں یقینی دہانی کرائی کہ انہیں چائے کی کاشت سے لے کر اس کی فروخت تک ہر مرحلے میں ہرممکن تکنیکی امداد فراہم کی جائے گی۔  

اختر نعیم کا کہنا ہے کہ انسٹیٹیوٹ نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے نہ صرف ان کی زمین کا تجزیہ کیا اور اسے چائے کی کاشت کے لیے موزوں بنانے کی غرض سے اس میں کئی کیمیائی مادے ڈالے بلکہ انہیں بیج اور ایک ایسی کھاد بھی فراہم کی جو مارکیٹ میں کہیں دستیاب نہیں تھی۔ نتیجتاً 2001 میں انہوں نے اپنی ایک ایکڑ نہری زمین پر چائے کاشت کر دی۔

یوں وہ خیبرپختونخوا کے شمال مشرقی ضلعے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ان پانچ سو کاشت کاروں میں شامل ہو گئے جو سات سو ایکڑ رقبے پر چائے کاشت کر رہے تھے۔

تاہم یہ تجربہ اس قدر ناکام ثابت ہوا کہ ان میں سے اکثر کاشت کاروں نے پچھلے 17 سال میں اسے دہرانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔ نتیجتاً حالیہ سالوں میں اس علاقے میں چائے کے زیرِ کاشت رقبہ کم ہو کر صرف 46 ایکڑ کے قریب رہ گیا ہے۔

اختر نعیم اپنے چائے کے کھیت میںاختر نعیم اپنے چائے کے کھیت میں

اختر نعیم کا کہنا ہے کہ اس کمی کی سب سے بڑی وجہ 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے کی وجہ سے اس نہر کا ٹوٹنا تھا جس سے چائے کے مقامی کھیت سیراب ہوتے تھے۔ ان کے مطابق "نہر کی مرمت میں کئی سال لگ گئے اور اس دوران پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث یہ کھیت خشک ہو گئے"۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن زمینوں کو چائے کی کاشت کے لیے منتخب کیا گیا وہ اتنی زرخیز ہیں کہ وہاں ایک سال میں دو سے تین فصلیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اس کے برعکس چائے کی پہلی پیداوار کے لیے سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے، ان کی نظر میں، چائے کی کاشت مقامی "کاشت کاروں کے لیے مالی اعتبار سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی"۔ 

خود کفالت کا خواب

سرکاری اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ یکم جولائی 2020 سے لے کر 30 جون 2021 تک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر لگ بھگ تین لاکھ ٹن چائے کی پتی استعمال کی۔ اس میں سے صرف 15 ٹن چائے مقامی طور پر اگائی گئی تھی۔ نتیجتاً، وفاقی اداہ شماریات کے مطابق، پاکستان نے صرف جولائی 2020 اور اپریل 2021 کے دوران 53 کروڑ 30 لاکھ ڈالر خرچ کر کے دو لاکھ 21 ہزار تین سو 19 ٹن چائے درآمد کی۔ 

آنے والے سالوں میں ان اخراجات میں اور بھی اضافہ ہونے کی توقع ہے کیونکہ ملک میں چائے کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) اپنی ایک رپورٹ میں اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان میں 2007 اور 2016 کے درمیان چائے کے استعمال میں 35.8 فیصد اضافہ ہوا۔ 

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر کئی زرعی اور معاشی ماہرین عرصہ دراز سے کہتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان کو چائے خود اگانی چاہیے تاکہ اس کی درآمد پر آنے والے بھاری اخراجات سے بچا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے موزوں زمین کی تلاش قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی شروع ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں 1958 میں مانسہرہ کو چائے کی کاشت کے لیے موزوں پایا گیا۔ 

تاہم سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باعث آئندہ تین دہائیوں میں یہاں چائے کی کاشت شروع نہ ہو سکی۔ بالآخر 1987 میں وفاقی حکومت نے مانسہرہ شہر کے شمال میں واقع علاقے شنکیاری میں 50 ایکڑ اراضی پر ایک تحقیقاتی مرکز قائم کیا جس میں تحقیق کے لیے چین کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں اور چائے کا بیج بھی وہیں سے منگوایا گیا۔ ابتدائی طور پر اس مرکز میں کام کرنے والے مقامی سائنس دانوں کی تعداد 28 تھی (جو رفتہ رفتہ کم ہو کر صرف آٹھ رہ گئی ہے)۔  

تقریباً چار سال کی تحقیق کے بعد اس مرکز میں کام کرنے والے ماہرین نے طے کیا کہ شنکیاری اور اس کے نواحی علاقوں، اچھڑیاں اور بفہ، کی زمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ترین ہے۔ 

ان علاقوں میں چائے کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت نے 1996 میں تحقیقاتی مرکز کو ترقی دے کر نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں تبدیل کر دیا تاکہ اس کے سائنس دانوں اس کے 33 ایکڑ پر پھیلے ہوئے چائے کے باغات میں تجربات اور تحقیق کا کام کر سکیں۔ اس کے ذمے مقامی کاشت کاروں کو چائے کی کاشت پر راغب کرنے، انہیں اس کے لیے تکنیکی سہولتیں فراہم کرنے اور فصل کی فروخت میں ان کی مدد کرنے جیسے کام بھی لگائے گئے۔

ترکی کا ایک وفد پاکستانی چائے کا جائزہ لیتے ہوئےترکی کا ایک وفد پاکستانی چائے کا جائزہ لیتے ہوئے

اِس وقت سائنس دانوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے عملے کی کل تعداد 40 ہے جس میں انتظامی افسران اور کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور بھی شامل ہیں۔ ان کی کوششوں سے پیدا کردہ چائے کا کچھ حصہ بیج کے طور پر کسانوں کو دے دیا جاتا ہے اور کچھ تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا بڑا حصہ پتی بنانے والی فیکٹریوں کو فروخت کیا جاتا ہے جس سے حاصل ہونے والی زیادہ تر رقم کسانوں سے خریدےگئے چائے کے سبز پتوں کی قیمت کے طور پر انہیں ادا کر دی جاتی ہے۔

 بقایا رقم انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے مختلف تحقیقی اور انتظامی اخراجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے اہلکاروں کے مطابق اس کے سالانہ اخراجات ڈھائی کروڑ روپے کے لگ بھگ ہیں جن میں سے تقریباً آدھے چائے کی فروخت سے پورے کیے جاتے ہیں (جبکہ باقی رقم وفاقی حکومت سرکاری خزانے سے فراہم کرتی ہے)۔

 چائے برباد کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا

انسٹی ٹیوٹ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ 2001 میں کئی مقامی کاشت کار چائے کی کاشت پر تیار ہو گئے تھے۔ انہیں زرعی ترقیاتی بنک نے ایک لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے بلاسود قرضہ بھی دیا تاکہ انہیں فصل پر آنے والے اخراجات برداشت کرنے میں مشکل نہ ہو۔ 

تاہم ان میں شامل بفہ میرا نامی جگہ کے رہنے والے 74 سالہ حق نواز خان کا کہنا ہے کہ قرض کی رقم کافی نہیں تھی کیونکہ چائے کی کاشت پر آنے والا ان کا خرچہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔ 

چار سال بعد انہیں ایک اور مسئلہ درپیش تھا۔ ان کی فصل تیار ہو چکی تھی لیکن اس کی چنائی کے لیے ماہر مزدور انہیں کہیں نہیں مل رہے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ بھی اس ضمن میں ان کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ چنانچہ، ان کے مطابق، اگلے دو سال وہ اپنے طور پر چنائی کراتے رہے جس کے باعث وہ اچھی پیداوار نہ لے سکے۔

کسان چائے کی چنائی کرتے ہوئےکسان چائے کی چنائی کرتے ہوئے

اگلا مرحلہ چائے فروخت کرنے کا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی فصل کا واحد گاہک انسٹی ٹیوٹ خود ہی تھا لیکن "اس کا ادائیگی کرنے کا نظام بہت ہی سست ہے کیونکہ اس کے لیے کاشت کاروں کو اس وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک پتی تیار کرنے والی فیکٹریاں مقامی طور پر پیدا کردہ چائے مارکیٹ میں فروخت نہ کر لیں"۔

چنانچہ 2007 میں حق نواز خان نے چائے کاشت بند کر دی اور اپنی زمین پر دوسری فصلیں اگا لیں۔

اختر نعیم کو بھی اسی طرح کی شکایات رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کاشت کردہ چائے کی قیمتِ خرید اتنی کم تھی کہ تمام تر حکومتی امداد کے باوجود ان کے پیداواری اخراجات پورے نہیں ہو پاتے تھے۔ 

وفاقی حکومت کے محکمہ زراعت کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری اور چائے کی مختلف اقسام اور ان کی کاشت سے متعلقہ امور کے ماہر ڈاکٹر خورشید خان چائے کی کاشت میں کاشت کاروں کی عدم دل چسپی کی ایک اور وجہ کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اس کی کاشت کا موجودہ طریقہ کار ہے جس کے تحت اسے زمین کے چھوٹے چھوٹے اور الگ الگ ٹکڑوں پر اگایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "اس طریقے سے نہ تو کاشت کاروں کو فائدہ ہو رہا ہے اور نہ ہی چائے کی پیداوار بڑھانے میں کوئی کامیابی ہو رہی ہے"۔ 

ان کی نظر میں اس مسئلے کا واحد حل سینکڑوں ایکڑ اراضی پر ایک مربوط ٹی اسٹیٹ کا قیام ہے جہاں زمین کاشت کاروں کو ٹھیکے پر دے کر انہیں پابند کیا جائے کہ وہ چائے کے علاوہ کچھ اور کاشت نہیں کریں گے۔ 

لیکن نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوحید کے خیال میں سال ہا سال کی کوششوں کے باوجود چائے کی کاشت میں بہتری نہ آنے کی وجہ کچھ اور ہے۔ ان کے مطابق اس کا بنیادی سبب چائے کے سبز پتوں کو پتی میں تبدیل کرنے کے لیے درکار صنعتی سہولتوں کی مقامی سطح پر عدم موجودگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چائے کی کاشت کے فروغ کے لیے یہ سہولتیں ناگزیر ہیں کیونکہ ایک طرف تو یہ مقامی چائے کی خریداری میں اضافے کا باعث بنیں گی اور دوسری طرف ان کے قیام سے "کسانوں کو ان کی فصل کا معاوضہ بھی بروقت ملنے لگے گا"۔

تاریخ اشاعت 18 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سید نعمان شاہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے ہے. 2008 سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہیں اور سیاحت، سیاست، تعلیم، انسانی حقوق، ماحولیات پر رپورٹنگ کرتے ہیں.

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔