ٹانک میں "جرمن سکیم" کیوں ناکام ہوگئی؟

postImg

محمد زعفران میانی

postImg

ٹانک میں "جرمن سکیم" کیوں ناکام ہوگئی؟

محمد زعفران میانی

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک کی چار لاکھ آبادی میں قریباً نصف لوگ پینے کے لئے کچے تالابوں میں جمع ہونے والے بارشوں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں مرکزی شہر ٹانک کی سوا لاکھ آبادی بھی شامل ہے جسے بنیادی ضرورت کا پانی ٹانک زام نامی علاقے میں واقع ایک تالاب سے پہنچایا جاتا ہے۔

اس تالاب کا پانی پہلے ایک نالے کے ذریعے شہر کے قریب چند چھوٹے تالابوں میں آتا ہے جہاں سے اسے پائپ لائنوں کے ذریعے لوگوں کے گھروں میں بھیجا جاتا ہے۔

شہر کو پانی مہیا کرنے والے یہ چھوٹے تالاب احمد شاہ نامی علاقے میں واقع ہیں، جنہیں سو سال پہلے بنایا گیا تھا۔

ٹانک زام کے بڑے تالاب سے یہ پانی جس نالے کے ذریعے ان کچے تالابوں میں لایا جاتا ہے وہ بھی کچا ہے جس کے کناروں پر نہ تو کوئی حفاظتی بندوبست ہے اور نہ ہی اس کی نگرانی کا کوئی انتظام ہے جس کی وجہ سے آئے روز جانور اس میں گر کر ہلاک ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح یہ نالہ ہمیشہ آلودہ رہتا ہے۔

مقامی ڈاکٹر شیخ احسان اللہ کا کہنا ہے کہ یہ پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ نالے سے ملحقہ دیہات کے لوگ اسی میں نہاتے اور کپڑے دھوتے ہیں اور ان کے مویشی بھی اسی نالے میں پانی پیتے ہیں اور یہ آلودگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

چونکہ اس پانی کو بڑے پیمانے پر صاف کرنے یا نتھارنے کا کوئی انتظام نہیں ہے اس لئے ٹانک میں لوگوں کی بڑی تعداد ایسی بیماریوں میں مبتلا رہتی ہے جو آلودہ پانی سے جنم لیتی ہیں۔

انٹرنیشنل جرنل فار انوائرنمنٹل سٹڈیز میں ضلع ٹانک کے حوالے سے چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہاں ہسپتالوں میں آنے والے 78 فیصد مریض پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں، 14 فیصد ٹائیفائیڈ اور آٹھ فیصد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اگر ملحقہ ضلع جنوبی وزیرستان میں بارشیں زیادہ ہوں تو اس نالے میں سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور پانی اس کے کنارے توڑ کر باہر نکل آتا ہے۔

ایسے واقعات کے بعد عام طور پر نالے کی مرمت میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔اگر بارشیں کم ہوں تو ٹانک زام کے تالاب میں پانی کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے نتیجتاً شہر کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹانک کے شہریوں کو شکایت ہے کہ کچے نالے کے قریبی دیہات کے کسان سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے آبپاشی کے لئے اس نالے کا پانی چوری کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی فروخت کرنے والے لوگوں نے بھی نالے پر غیرقانونی کنکشن لگا رکھے ہیں۔ اس طرح شہر کو پانی کی سپلائی میں خلل آتا رہتا ہے۔ جب عوامی دباؤ بڑھتا ہے تو انتظامیہ پانی بحال کرا دیتی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

ٹانک اور گرد و نواح میں زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر موجود نہیں ہیں۔

مقامی ماہر ارضیات محمد ظاہر شاہ کے مطابق شہر میں زیر زمین پانی کڑوا ہونے کی وجہ نکاسی آب کے نظام کی خرابی ہے کیونکہ سیوریج کا پانی زیر زمین پانی میں مل کر اس میں تیزابیت کو بڑھا دیتا ہے اور اس طرح یہ پانی ناقابل استعمال ہو جاتا ہے۔

"اگر نکاسی آب کا نظام ٹھیک کر دیا جائے تو کچھ عرصہ بعد زیر زمین پانی بھی قابل استعمال ہو سکتا ہے"۔

محکمہ پبلک ہیلتھ کے ایکسیئن عبدالرحمٰن بتاتے ہیں کہ ضلع بھر میں جہاں میٹھا پانی دستیاب ہے وہاں مختلف ادوار میں 142 ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں جن سے ڈبرہ، گومل، اتار، بیٹنی اور کنڈی کی لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ آبادی کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان میں سے 20 ٹیوب ویل کچھ عرصہ پہلے خراب ہو گئے تھے جن میں سے 13 کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ سات ٹیوب ویل ایسے ہیں جنہیں سرے سے چالو ہی نہیں کیا گیا۔

"جن علاقوں میں ٹیوب ویل کام کر رہے ہیں وہاں بھی پانی کا بحران ہےکیونکہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث ٹیوب ویل بہت مختصر وقت کے لئے ہی چلائے جا سکتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پانی کی قلت رہتی ہے"۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022ء میں ٹانک میں پینے کے پانی کی نئی سکیموں اور ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے 15 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔

اس حوالے سے سابق صوبائی وزیر بلدیات فیصل امین خان نے کہا تھا کہ ضلع ٹانک کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے 28 ٹیوب ویلوں کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی عملی پیشرفت تاحال نظر نہیں آئی۔

ٹانک کے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لئے 1994ء میں جرمنی کے ترقیاتی بینک "کے ایف ڈبلیو" کی مالی اعانت سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'یوناپ'نے احمد شاہ میں چھ ٹیوب ویل اور ایک لاکھ گیلن گنجائش کے حامل تین بڑے ٹینک بنائے تھے اور ان سے شہر تک پانی لانے کیلئے 14 انچ قطر کی اٹھارہ ہزار رننگ فٹ پائپ لائن بچھائی تھی (جسے مقامی طور پر جرمن سکیم کہا جاتا ہے) لیکن انتظامیہ کی جانب سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونےکے باعث رفتہ رفتہ تمام ٹیوب ویل خراب ہو گئے اور اس نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'نہ تو فلٹر پلانٹس کی مرمت ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام ہے': گجرات میں شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور

تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر قدرت اللہ مروت بتاتے ہیں کہ جرمن سکیم کی بحالی کے لیے یوناپ  کی مدد اور 18کروڑ 65 لاکھ روپے کی لاگت سے ٹیوب ویلوں کی مرمت کر کے انہیں شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ تیار ہے۔اس منصوبے کے تحت 10کلومیٹر طویل پائپ لائن سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں چھ پکے تالاب اور پانی کے چھ بڑے ٹینک بنائے جائیں گے۔

قدرت اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد مرکزی شہر کی حد تک پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

مگر علاقے کے مکین نور عالم خان کو قدرت اللہ کے دعوے پر زیادہ بھروسہ نہیں۔ نورعالم سماجی شخصیت ہیں اور شہری سہولیات کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ منتخب نماٸندوں اور انتظامی افسران کی جانب سے پانی کے مساٸل کے حل کے لٸے اقدامات کے بلند دعوے ہوتے رہتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔  

تاریخ اشاعت 24 جون 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد زعفران میانی کا تعلق جنوبی ضلع ٹانک سے ہے۔ وہ حالات حاضرہ اور اپنے آبائی شہر کے مقامی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

لاہور: اندرون شہر کے کئی علاقوں میں سولر پینلز لگانا مشکل، حل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

ضلع خیبر: ڈوبتی ہوئی زراعت کو سولر سسٹم کا سہارا

لاہور کی یونیورسٹیاں، فضائی آلودگی کے خلاف متحد

thumb
سٹوری

شانگلہ میں سیاح کیوں نہیں جاتے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

آزاد کشمیر: میرپور میں ماحول دوست عوامی گاڑی چل پڑی

thumb
سٹوری

شمسی توانائی، قبائلی ضلع خیبر کے لوگوں کی تکالیف کیسے کم کررہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

بجلی آئے نہ آئے، ہسپتال کھلا ہے

thumb
سٹوری

کاسا-1000: کرغزستان اور تاجکستان سے بجلی لانے والی ٹرانسمشن لائن کا کام کب شروع ہو گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

لیپ آف فیتھ: اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ پوڈ کاسٹ سیریز- ڈاکٹر یعقوب بنگش

کل مالی تھا آج ایم فل ہوں

چلتے پھرتے سولر سسٹم بھکر پہنچ گئے

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا میں انصاف کے متبادل نظام کی کمیٹیاں، ایک بھی خاتون شامل نہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.