میٹھا میٹھا ہپ ہپ: شوگر ملیں گنے کی مٹھاس میں کمی بیشی کر کے کس طرح کاشت کاروں کو لوٹ رہی ہیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

میٹھا میٹھا ہپ ہپ: شوگر ملیں گنے کی مٹھاس میں کمی بیشی کر کے کس طرح کاشت کاروں کو لوٹ رہی ہیں۔

آصف ریاض

postImg

میٹھا میٹھا ہپ ہپ: شوگر ملیں گنے کی مٹھاس میں کمی بیشی کر کے کس طرح کاشت کاروں کو لوٹ رہی ہیں۔

آصف ریاض

غلام دستگیر ایک بڑے زمیندار ہیں۔ اس بار انھوں نے ایک سو دس ایکڑ رقبے پر گنا کاشت کیا جسے اب وہ  اپنے علاقے، ضلع جھنگ کی تحصیل شور کوٹ ، میں واقع مختلف شوگر مِلوں کو بیچ رہے ہیں۔

غلام دستگیر ضلعی شوگر کین کنٹرول بورڈ کے ممبر ہونے کے ساتھ شور کوٹ تحصیل میں کسانوں کی تنظیم پاکستان کسان بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ وہ شوگر مِلوں کی جانب سے گنے کے وزن میں کی جانے والی بے جا کٹوتیوں اور گنے کی شرحِ مٹھاس یا ریکوری ریٹ (یعنی ایک سو کلو گرام گنے سے کتنے کلو گرام چینی ہیدا ہوتی ہے) میں کی جانے والے تبدیلیوں کے بارے میں بھی کافی معلومات رکھتے ہیں۔ اسی لیے مِل کو اپنا گنا بھیجنے سے پہلے وہ خود اس کا وزن کرا لیتے ہیں۔

جب انھوں نے 22 جنوری 2021 کو گنے کا ایک ٹرالر شوگر مِل کو بھیجنا تھا تو انہوں نے ایک پرائیویٹ کانٹے (weigh bridge) سے اس کا وزن کرایا جو 30240 کلو گرام نکلا۔ لیکن دو دن بعد شورکوٹ کے پاس واقع کشمیر شوگر مِل میں لگے ہوئے کانٹے نےاسی گنے کا وزن 1770 کلو گرام کم دکھایا۔ 
مِل نے ان کے گنے کی قیمت ڈھائی سو روپے فی 40 کلو گرام لگائی تھی- اس حساب سے انہیں دونوں کانٹوں پر کیے گئے وزن میں فرق کی بنا پر 11 ہزار روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

غلام دستگیر کے نام جاری کی گئی گنے کی خریداری کی رسید (سی پی آر) کے مطابق گنے کے وزن میں دو سو کلو گرام کی کٹوتی اسے باندھنے کے لئے استعمال ہونے والے ڈنٹھلوں کے وزن کی بنیاد پر کی گئی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ وزن میں باقی ماندہ فرق اس لئے پیدا ہوا کیونکہ مِل کا کانٹا صحیح نہیں تھا۔ 

اسی علاقے کے رہنے والے ایک اور کسان کوثر عباس خان نے شور کوٹ کینٹ روڈ پر لگے ہوئے ایک کمپوٹرائزڈ کانٹے سے 22 اور 23 جنوری کو گنے کا وزن کرایا اور پھر اسے 23 جنوری کو کشمیر شوگر مِل بھیج دیا جہاں اس کا وزن 600 کلو گرام کم ریکارڈ کیا گیا۔ اگر اس میں سے گنے کو باندھنے میں استعمال کیے گئے ڈنٹھلوں کا وزن ایک سو پندرہ کلو گرام کے حساب سے منہا کیا جائے تو پھر بھی وزن میں 485 کلو گرام کا فرق برقرار رہتا ہے۔

کوثر عباس خان کے مطابق سوائے اس کے کہ مل کے کانٹے میں گڑ بڑ ہے اس فرق  کی کوئی اور وجہ ان کی سمجھ میں نہِیں آتی۔  

شور کوٹ ہی کے موضع بدھ رجبانہ سے تعلق رکھنے والے کسان چوہدری محمد یوسف کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ بھی کشمیر شوگر مِل والوں نے کچھ ایسا ہی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ روز پہلے انھوں نے گنے کی ایک ٹرالی مِل کو بھیجی جس کے وزن میں سے 880 کلو گرام کی کٹوتی کر لی گئی لیکن چونکہ انہوں نے خود بھی گنے کا وزن کرایا تھا اس لئے انہوں نے مِل والوں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ معاملے کے حل کے لئے وہ پاکستان کسان بورڈ کے علاقائی سرپرست محمد اشفاق اور ایک دوسرے کسان غلام دستگیر کی ہمراہی میں مِل میں گئے جہاں کین مینجر مہر رؤف سے ان کی بات ہوئی۔ 

ان کے مطابق مہر رؤف نے پہلے تو یہ توجیہہ پیش کی کہ وزن میں کٹوتی گنے کی ناقص صفائی اور اس کی شرحِ مٹھاس کم ہونے کی بنا پر کی گئی ہوگی لیکن محمد یوسف کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اسے مِل میں آیا ہوا اپنا مزید  گنا دکھایا تو اس نے تسلیم کیا کہ کٹوتی کی یہ وجہ درست نہیں۔ 
اس کے بعد اس نے حساب لگا کر بتایا کہ مِل نے محمد یوسف کو 4335 روپے مزید دینا ہیں جو وہ اگلے دن آ کر لے سکتے ہیں۔ 

تاہم مہر رؤف ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہماری مِل میں صرف ایک ہی کانٹا ہے جس پر گنے کا وزن بھی کیا جاتا ہے اور چینی، شیرے اور گنے کی میل کا بھی'۔ ان کے مطابق اگر یہ کانٹا کم تول رہا ہے تو پھر اس پر تلنے والی مِل کی اپنی مصنوعات کا وزن بھی کم ریکارڈ کیا جا رہا ہے جو کہ مِل کے لئے سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ ان کے بقول 'یہ کیسے ممکن ہے کہ مِل اپنی ہی چیزوں کا وزن خود کم کرے'۔ 

ان کا کہنا ہے کہ گنے کے وزن میں کٹوتی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار شور کوٹ کے علاقے میں گنے کی ایسی قسمیں لگائی گئی ہیں جو حکومت سے منظور شدہ نہیں اور جن کی شرحِ مٹھاس بہت کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ہماری مِل ان اقسام کے گنے کی خریداری نہیں کرتی جس کی وجہ سے کسانوں کو بہت زیادہ شکایات پیدا ہوئی ہیں'۔ 

ان کے بقول کٹوتی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس بار گنے کی فصل کو وائٹ فلائی نامی ایک بیماری نے بھی متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی شرحِ مٹھاس متاثر ہوئی ہے۔

تاہم مِلوں کی جانب سے کم شرحِ مٹھاس کی بنیاد پر گنے کے وزن میں کٹوتی کرنے کا عمل شور کوٹ تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے انتہائی جنوبی ضلعے رحیم یار خان تک پھیلا ہوا ہے جہاں کا گنے شرحِ مٹھاس کے حوالے سے بہترین مانا جاتا ہے۔ 

رحیم یار خان میں حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق ضلعی صدر اور پچھلے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار میاں غوث محمد اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت گنے کی کم از کم قیمتِ خرید ساڑھے آٹھ فیصد شرحِ مٹھاس کی بنیاد پر طے کرتی ہے لیکن 'ہمارے ضلعے میں پچھلے 15 سے 20 سال کے دوران یہ شرح کبھی بھی ساڑھے 12 فیصد سے کم نہیں رہی'۔ 

ان کے مطابق اس مرتبہ بھی کین کمشنر پنجاب نے شرحِ مٹھاس کا جائزہ لینے کے لئے ایک موبائل لیبارٹری رحیم یار خان بھیجی جس نے گنے کے نمونے لے کر ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیوٹ فیصل آباد کے شوگر کین ریسرچ سینٹر میں ٹیسٹوں کے لئے بھیجے جن سے پتہ چلا کہ رحیم یار خان کے گنے میں شرحِ مٹھاس ساڑھے 13 سے 14 فیصد ہے۔

اتنی اچھی شرحِ مٹھاس والا گنا بیچنے والے کسان عدالتی احکامات کی رو سے اضافی قیمت حاصل کرنے کے اہل ہیں لیکن میاں غوث محمد کے بقول 'مِلوں والے ایک طرف تو انہیں یہ اضافی ادائیگی نہیں کر رہے جبکہ دوسری طرف وہ اس شرح کو کم ظاہر کر کے چینی کی پیدواربھی کم دکھا رہے ہیں جس سے انہیں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کرنے میں مدد ملے گی'۔ 

اپنے نکتہِ نظر کے حق میں دلیل دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اگر شرحِ مٹھاس ساڑھے آٹھ فیصد تصور کی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ سو کلو گرام گنے سے ساڑھے آٹھ  کلو گرام چینی پیدا ہوتی ہے لیکن ساڑھے تیرہ فیصد شرحِ مٹھاس کے حساب سے سو کلو گرام گنے سے ساڑھے تیرہ کلو گرام چینی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 'مِلوں والے اس اضافی چینی کو سرکاری حساب کتاب میں ظاہر نہیں کرتے بلکہ اسے چوری چھپے فروخت کر دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ملک میں چینی کی پیدوار ضرورت سے کم ہونے کا تاثر دیتے ہیں اور ایسی افواہیں پھیلاتے ہیں کہ اس کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کے بعد وہ اس کی قیمت بڑھا دیتے ہیں'۔ 

حکومتی تحقیقات اور اقدامات

پنجاب کے کین کمشنر محمد زمان وٹو کہتے ہیں کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت حکومت شرحِ مٹھاس زیادہ ہونے کی بنا پر مِل مالکان کو گنے کی زیادہ قیمت دینے کا حکم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اپنے ایک فیصلے میں مِلوں کو حکم دے رکھا ہے کہ اگر شرحِ مٹھاس 8.5 فی صد سے زیادہ ہو تو وہ ہر اضافی فیصد کی وجہ سے گنے کی قیمتِ خرید میں پانچ روپے فی 40 کلو گرام کا اضافہ کرنے کے پابند ہیں۔   

لیکن وہ کہتے ہیں کہ مِلیں اس ادائیگی میں بھی ہیر پھیر کرتی ہیں۔

اس سلسلے میں وہ 2017-18 کے سیزن میں شوگر ملوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سال شوگر ملوں نے کل ایک ارب 10 کروڑ 99 لاکھ 95 ہزار دو سو من گنے کا رس نکالا جس کی شرحِ مٹھاس ان کے اپنے مقرر کردہ ریٹ کی بنیاد پر 9.63 فیصد تھی۔ یہ شرح بنیادی شرحِ مٹھاس (8.5 فیصد) سے 1.13 فیصد زیادہ تھی جس کی بنیاد پر شوگر مِلوں کو گنے کی قیمت کی مد میں چھ ارب 27 کروڑ روپے کی اضافی ادائیگی کرنا تھی لیکن ان کے بقول کسانوں کو اس اضافی ادائیگی کا ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ 

جنوری کے پہلے ہفتے میں محمد زمان وٹو نے صوبائی محکمہِ صنعت کو ایک خط بھِی لکھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ شوگر مِلیں ریکوری ریٹ کم دکھا رہی ہیں۔ خط میں انہوں نے اس امر کی نشان دہی بھی کی کہ شوگر مِلیں کم شرح مٹھاس دکھا کر غیر قانونی طور پر چینی بنا رہی ہیں جسے بعد ازاں چوری چھپے فروخت کیا جا رہا ہے۔

شوگر ملوں نے انہیں جو رپورٹیں بھیجی ہیں ان میں بھی شرحِ مٹھاس میں رد و بدل کر کے چینی کی پیدوار کم دکھانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق 10 نومبر 2020 سے لے کر   25 جنوری 2021 تک دو کروڑ 36 لاکھ 21 ہزار نو سو 81 میٹرک ٹن گنے سے رس نکالا جا چکا ہے جس سے 9.06 فیصد شرحِ مٹھاس کے حساب سے بننے والی چینی کی مقدار 21 لاکھ 18 ہزار چار سو 21 میٹرک ٹن ظاہر کی جا رہی ہے۔ 

لیکن کین کمشنر کی طرف سے کرائے گئے ٹیسٹوں میں پنجاب میں اوسط شرحِ مٹھاس 10.72 فیصد پائی گئی ہے۔ اس شرح کے حساب سے 25 جنوری تک نکالے گئے گنے کے رس سے 22 لاکھ تین ہزار پانچ سو 43 میٹرک ٹن چینی بننی چاہیے تھی۔ گویا شرحِ مٹھاس کو کم دکھا کر شوگر ملوں نے 85 ہزار ایک سو 22 میٹرک ٹن چینی ایسی پیدا کی ہے جسے وہ ریکارڈ پر لائے ہی نہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

گنے کے واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی: کسانوں کو شکر گنج شوگر مِل پر اعتبار نہیں رہا۔

اس خفیہ طور پر تیار کردہ چینی کی کل قیمت 85 روپے فی کلو گرام کے حساب سے سات ارب 35 کروڑ 37 لاکھ تین سو 17 روپے بنتی ہے جس پر شوگر مِلوں نے کوئی حکومتی ٹیکس بھی ادا نہِیں کیا۔ دوسری طرف، محمد زمان وٹو کے بقول، انہوں نے اس چینی کی لاگت بھی قانونی طور پر تیار کردہ چینی کی لاگت میں شامل کر دی ہے جس سے ان کے ریکارڈ کردہ فی کلو گرام پیداواری اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ 

گذشتہ برس پیدا ہونے والے چینی کے بحران کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بنائی جانے والی شوگر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ بھی اسی طرح کے عوامل کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس کے مطابق مٹھاس کی شرح میں ایک فیصد کمی بیشی سے چینی کی پیدوار پر آنے والے اخراجات میں دس فیصد تک کا فرق آ جاتا ہے۔ اس کمیٹی کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک ہی علاقے میں کام کرنے والی مِلوں نے مٹھاس کی مختلف شرحیں طے کر رکھی تھیں۔

کمیٹی کی رپورٹ   کا یہ بھی کہنا ہے کہ مِلیں خام مال اور محصولات کے غلط تخمینے کے ذریعے بھی چینی کی لاگت بڑھا کر پیش کرتی ہیں تا کہ اس کے نتیجے میں وہ چینی مہنگے داموں بیچ سکیں۔ مثال کے طور پر جو مزدور اور مشینیں گنے سے چینی کے علاوہ دیگر چیزیں، مثال کے طور پر الکوحل اور شیرہ وغیرہ، بناتے ہیں ان کی تنخواہیں اور دوسرے اخراجات  بھی چینی ہی کے پیداواری خرچے میں ڈال دیے جاتے ہیں حالانکہ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق ایسا کرنا بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیار (آئی ایف آر ایس) کی خلاف ورزی ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 2 فروری 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 10 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔