زنجیریں توڑ کر اولمپکس مشعل اٹھانے والی ثنا کپری: جھڈو کی سپیشل ایتھلیٹ نے علاقے کی پہچان بدل دی

postImg

اشفاق لغاری

postImg

زنجیریں توڑ کر اولمپکس مشعل اٹھانے والی ثنا کپری: جھڈو کی سپیشل ایتھلیٹ نے علاقے کی پہچان بدل دی

اشفاق لغاری

جھڈو صوبہ سندھ کے ضلع میرپور خاص کی تحصیل ہے۔ یہ علاقہ اپنی مرچ منڈی، پران ندی اور ہر سیلاب میں زیر آب آنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

لیکن اب ثنا کپری اس کی ایک اور پہچان بن گئی ہیں۔

اکیس سالہ ثنا سپیشل ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے گزشتہ مہینے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

اگرچہ وہ ان مقابلوں میں کوئی میڈل تو نہ جیت سکیں لیکن ان کا انتخاب دنیا کے ان سات کھلاڑیوں میں ہوا جنہوں نے سپیشل اولمپکس کی مشعل اٹھائی اور اپنے ملک کا نام روشن کیا۔

ثنا کا تعلق جھڈو کے ایک چھوٹے سے گاؤں حاجی نیاز محمد کپری سے ہے۔ چند سال پہلے وہ اپنے گھر میں قیدیوں کی سی زندگی گزار رہی تھیں۔

چونکہ وہ بمشکل بولتی ہیں اور دماغی طور پر بھی اپنی عمر سے پیچھے ہیں اس لیے ان کی نانی اس خوف سے انہیں زنجیروں میں باندھ دیتی تھیں کہ کہیں وہ گھر سے باہر سڑک پر کسی گاڑی سے نہ ٹکرا جائیں یا پانی کے تالاب میں نہ ڈوب جائیں۔

ثنا جرمنی سے واپس آئیں تو انہیں زنجیروں سے باندھ کر رکھنے والی نانی نے ہی سب سے پہلے ان کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے۔

ثنا دو بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کے والدین خادم حسین اور نورالنسا کے مطابق ان کی پیدائش 30 اپریل 2002ء کو ہوئی۔ انہیں پیدائشی طور پر جھٹکے (فٹس) پڑنے کی بیماری تھی۔ اس طرح وہ بولنے سے معذور اور دماغی طور پر سپیشل بچی تھیں۔

ثنا کو ان کے اہلخانہ ناصرف علاج کی غرض سے بہت سی جگہوں پر لے گئے بلکہ روحانی مدد کی امید میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ سے لے کر بلوچستان میں شاہ نورانی تک بھی جاتے رہے۔

اس دوران انہیں میرپور خاص میں ماہر نفسیات ڈاکٹر لکیشن کھتری کو دکھایا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ثنا کا علاج دوا میں نہیں بلکہ کھیل میں ہے۔

ثنا کی زندگی بدلنے میں ان کی رشتہ دار خانزادی کپری کا نمایاں کردار ہے۔

وہ اپنے گاؤں کی پہلی گریجوایٹ طالبہ بھی ہیں۔انہوں نے ثنا کی صلاحتیں پہچان کر انہیں سپیشل اولمپکس پاکستان کے نمائندے نور احمد ناریجو سے متعارف کرایا۔ اس طرح ان دونوں نے ثنا کو زنجیروں سے آزاد کرایا اور کھیل کے میدان تک پہنچنے میں مدد دی۔

2017ء میں ثنا کو سپیشل اولپمکس پاکستان کے کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا جس کے بعد اس ادارے نے عروج فاطمہ کو ثنا کا کوچ مقرر کردیا۔ انہوں نے ثنا کو روزانہ جسمانی ورزشیں اور دوڑ کی تربیت دینے کے علاوہ کھانا کھانے، اپنا خیال رکھنے اور رہن سہن کے دیگر طریقے بھی سکھائے۔

عروج بتاتی ہیں کہ گزشتہ برس آنے والے سیلاب کے دوران تھر ایجوکیشن الائنس نامی این جی او کے قائم کردہ عارضی سکول میں انہیں دو ماہ تک تعلیم دی گئی۔ ثنا کے پاس دوڑنے کے لئے مخصوص جوتے اور کھیلوں کا لباس نہیں تھا جو سپیشل اولمپکس نے انہیں مہیا کیا۔

پچھلے ڈیڑھ سال میں ثنا میرپور خاص ریجن، صوبہ سندھ اور قومی سطح پر کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں خصوصی افراد کے کھیلوں کے کئی مقابلوں میں 400 اور 800 میٹر فاصلے کی دوڑ جیت چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

اولمپکس مقابلے: جذبہ جواں، صلاحیت بھرپور لیکن پھر بھی جیت ابھی تک ایک خواب۔

سترہ تا 25 جون ہونے والے سپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز میں 190 ممالک کے سات ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔

کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں مشعل پکڑ کر دوڑنے کے لئے جن سات کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ان میں ثنا کپڑی بھی شامل تھیں۔

جرمنی میں ثنا کی کوچنگ اور دیکھ بحال کرنے والی ارم مجید کے مطابق انہوں 400 میٹر اور 800 میٹر کی دوڑ کے مقابلوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی۔

اس کے علاوہ انہوں نے ریلے ریس میں بھی اچھا آغاز کیا لیکن دوڑ کے دوران گر گئیں اور مقابلے میں شامل نہ رہ سکیں۔

ارم مجید کہتی ہیں کہ ثنا نے یوں تو دوڑ کے بہت سے مقابلے جیتے ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ زندگی کی دوڑ میں واپس آ گئی ہیں۔

"اگر ان جیسے خصوصی بچوں کو  تھوڑی توجہ سے اور پیار دیا جائے تو وہ بھی ثنا کی طرح اپنی زندگی کو بہتر اور کارآمد بنا سکتے ہیں"۔

تاریخ اشاعت 8 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

منوڑہ میں چار سو سالہ پرانا مندر دیکھنے والوں کو اب بھی اپنی جانب کھینچتا ہے

thumb
سٹوری

چھ سالوں سے سیالکوٹ میں پبلک پارک کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعابد محمود بیگ
thumb
سٹوری

"خیراتی ہسپتال کے عملے نے شاپر میں بچے کا دھڑ تھما کر کہا فوراً مٹھی ہسپتال جائیں، مریضہ کی حالت نازک ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو
thumb
سٹوری

رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعرفان الحق
thumb
سٹوری

گرینائٹ کا لالچ ننگر پارکر میں سب کچھ کیسے تباہ کر دے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

پشاور: افغان خواجہ سراؤں کی ملک بدری پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

thumb
سٹوری

موسمیاتی تبدیلیاں بلوچستان میں کھجور کو کیسے متاثر کر رہی ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفیروز خان خلجی

کشمیر: چار روزہ سنو فیسٹیول

thumb
سٹوری

عام انتخابات 2024ء: پولنگ سٹیشن سے آر او آفس تک کا سفر، انتخابی نتائج میں تاخیر کیوں ہوئی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

مخصوص نشستوں کی اگر مگر اور بنتے بگڑتے نمبر: کونسی پارٹی کہاں حکومت بنا پائے گی اور کیسے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی

نظام مصطفیٰ، ضیاالحق اور 1977 کے انتخابات کی کہانی

thumb
سٹوری

کوئٹہ شہر کچرے اور پلاسٹک کا ڈھیر کیوں بنتا جا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعطا کاکڑ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.