"ایمبولینس میں خاتون میڈیکل ٹیکنیکشن ہوتی تو آج میرا بچہ زندہ ہوتا"

postImg

عابد محمود بیگ

postImg

"ایمبولینس میں خاتون میڈیکل ٹیکنیکشن ہوتی تو آج میرا بچہ زندہ ہوتا"

عابد محمود بیگ

تئیس سالہ پروین کوثر نارووال شہر سے 26 کلومیٹر دور سیالکوٹ روڈ پر لالے والی گاؤں میں رہتی ہیں۔ ان کے خاوند محمد اسلم مزدوری کرتے ہیں۔ ڈیڑھ سال پہلے رات کے وقت انہیں زچگی کا درد ہوا تو اسلم انہیں موٹرسائیکل پر قریبی بنیادی مرکز صحت میں لے گئے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ڈیوٹی پر موجود ایل ایچ وی نے معائنے کے بعد انہیں نارووال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ریفر کر دیا۔ وہ ریسکیو1122 کی ایمبولینس میں ہسپتال جا رہے تھے کہ راستے میں ہی زچگی کا عمل شروع ہو گیا۔

"ایمبولینس میں کوئی خاتون نہیں تھی اس لئے مرد میڈیکل ٹیکنیشن نے مدد کی پیش کش کی مگر میرے خاوند نے منع کر دیا۔ جب ہم ہسپتال کے لیبر روم میں پہنچے تو تب تک میرا بچہ دم توڑ چکا تھا"۔

نارووال میں ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینس گاڑیاں چلتی ہیں جن کے ساتھ 50 ڈرائیور اور ہنگامی میڈیکل ٹیکنیشنز پر مشتمل 55 رکنی عملہ تین شفٹوں میں کام کرتا ہے۔ ہرایمبولینس پر ایک ڈرائیور اور ایک میڈیکل ٹیکنیشن ڈیوٹی دیتے ہیں۔

ادارے کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر انجینئر نعیم اختر کے مطابق تحصیل نارووال میں چھ، شکرگڑھ اور ظفروال میں تین تین جبکہ کرتارپور میں دوایمبولینس گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔ ضلع میں محکمے کے پاس صرف تین خواتین میڈیکل ٹیکنیشن ہیں جو دن کے اوقات میں ڈیوٹی دیتی ہیں۔

اگر رات کے وقت ایمبولینس میں کسی خاتون کو زچگی جیسی صورتحال کا سامنا ہو تو اسے طبی مدد دینے کے لئے خاتون دستیاب نہیں ہوتی۔

ستائیس سالہ شمیم اختر نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے گاؤں کنجروڑ میں دو بچوں اور ضعیف سسر کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے خاوند روزگار کے لیے بیرون ملک مقیم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال جنوری میں جب ان کے ہاں تیسرے بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو ان دنوں شدید سردی اور دھند پڑ رہی تھی۔ ایسے میں رات کے دو بجے انہیں ناقابل برداشت تکلیف شروع ہو گئی۔ ان کے سسر نے فوری طور پر گاؤں کے ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے مشورہ دیا کہ مریضہ کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جائیں جو وہاں سے 19 کلومیٹر دور تھا۔  کال کرنے پر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس آ گئی لیکن ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ زچگی کا عمل شروع ہو گیا۔

"ایمبولینس میں طبی امداد دینے کے لئے کوئی خاتون نہیں تھی۔ اگرچہ میری بہن ساتھ تھیں لیکن انہیں زچگی میں مدد دینےکا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے مجبوراً مجھے مرد میڈیکل ٹیکنیشن سے ایمبولینس میں ہی ڈلیوری کرانا پڑی۔"

نارووال میں ایسوسی ایشن آف ہیومن رائٹس کی نائب صدر ساجدہ پروین کا کہنا ہے کہ ایمبولینس میں خواتین میڈیکل ٹیکنیشن نہ ہونا افسوسناک ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت حاملہ خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کی فراہم کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پچھلے ڈھائی سال کے دوران نو حاملہ خواتین کی ایمبولینس میں زچگی ہوئی ہے۔ 

نارووال میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حرمت علی بتاتے ہیں کہ ادارے کی ایمبولینس گاڑیاں رواں سال 342 حاملہ خواتین کو ہنگامی صورتحال میں ہسپتال منتقل کر چکی ہیں۔ پچھلے سال یہ تعداد 797 اور اس سے پچھلے سال 427 تھی۔ اس عرصہ میں سات خواتین ڈلیوری کے لئے ہسپتال منتقل کئے جانے کے دوران جاں بحق ہو گئیں۔

حرمت علی کا کہنا ہے کہ خواتین پر مشمتل پیرامیڈیکل عملہ ہسپتالوں میں ڈیوٹی کو ترجیح دیتا ہے اس لیے ریسکیو میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔ وہ خاندانی اور سماجی پابندیوں کو اس کی ممکنہ وجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ نارووال میں شام اور رات کی شفٹ جبکہ تحصیل شکرگڑھ، ظفروال اور کرتارپور میں کسی بھی شفٹ میں کوئی خاتون ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن نہیں ہوتی۔

دوسری جانب لاہور میں ریسکیو 1122 کے ہیڈکوارٹر میں تعینات پبلک ریلیشنز افسر فاروق احمد انکشاف کرتے ہیں کہ ایمبولینس گاڑیوں میں کام کرنے والے میڈیکل ٹیکنیشنز میں خواتین کا کوٹہ 15 فیصد ہے لیکن شام اور رات کے اوقات میں انہیں ایمبولینس پر ڈیوٹی نہیں دی جاتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ کسی صنفی تفریق کے بغیر عملے کا انتخاب کرتا ہے۔ تاہم بہت کم امیدوار اس نوکری کے لئے درخواست دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'سیکورٹی خدشات کے وجہ سے رات کو سروس بند کر دی گئی ہے': ریسکیو 1122 ٹانک

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور نیشنل ہیلتھ پروگرام کے ترجمان ڈاکٹر زاہد رندھاوا نے بتایا کہ صوبے کے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے 2017ء سے حاملہ خواتین کی مدد کے لیے صوبہ بھر میں 1034 ہیلپ لائنز متعارف کروا رکھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے پروگرام کے لیے ضلعے میں 10 ایمبولینس گاڑیاں اور 20 ڈرائیور ہیں جو ریسکیو 1122 کے علاوہ ہیں۔ ان کے ذریعے صرف حاملہ خواتین کو گھر سے قریبی مراکز صحت میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ زچگی کے لیے عملہ سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی موجود ہے اور ضلع نارووال کے 56 میں سے 31 بنیادی مرکز صحت کو حاملہ خواتین کے لیے اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔

پروین کوثر اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو یاد کر کے اب بھی افسردہ ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں انہیں خاتون پیرامیڈیکل اہلکار کی خدمات میسر ہوتیں تو انہیں اپنا بچہ کھونا نہ پڑتا۔

تاریخ اشاعت 23 جون 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عابد محمود بیگ 30 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اردو انگلش الیکٹرانک میڈیا کی صحافت اور انویسٹیگیش نیوز سٹوری پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: نور کاتیار

ارسا ترمیم 2024: مسئلے کا ایک حصہ: محمود نواز شاہ

thumb
سٹوری

پرائیویٹ سکول میں تعلیم: احساس برتری یا کچھ اور ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمعظم نواز

خیبر پختونخوا: پانچ اضلاع کو جوڑنے والا رابطہ پُل 60 سال سے تعمیر کا منتظر

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: محمود الحق

ارسا ترمیم اور کارپوریٹ فارمنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ فضلِ رب

thumb
سٹوری

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

خیبر پختونخوا: نصاب میں نفرت پڑھا کر محبت نہیں سکھائی جا سکتی

thumb
سٹوری

عیسک خماری میں اب کیوں کوئی نہیں کہتا: بجلی لاڑہ بجلی راغلہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ارسا آرڈیننس: دریائے سندھ سے جڑی ایکولوجی، ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کے لیے خطرہ، فاطمہ مجید

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: فرحت اللہ بابر

تھرپارکر: صحرا ہے کہ پھولوں کی نمائش

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.