جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہے: بلوچستان کے ضلع شیرانی میں چلغوزے پر مبنی مقامی معیشت کو 'نجانے کس کی نظر لگ گئی'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہے: بلوچستان کے ضلع شیرانی میں چلغوزے پر مبنی مقامی معیشت کو 'نجانے کس کی نظر لگ گئی'۔

رفیع اللہ مندوخیل

postImg

جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہے: بلوچستان کے ضلع شیرانی میں چلغوزے پر مبنی مقامی معیشت کو 'نجانے کس کی نظر لگ گئی'۔

رفیع اللہ مندوخیل

بسم اللہ خان کی نم آنکھوں میں بے بسی کا احساس واضح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ مہینے جنگل میں لگنے والی آگ ان کے چلغوزے کے سارے درخت راکھ کر گئی ہے جس سے ان کا واحد ذریعہِ معاش ختم ہو گیا ہے۔

وہ بلوچستان کے شمال مغربی ضلع شیرانی کے ایک پسماندہ علاقے شارغلی میں رہتے ہیں اور جون 2022 کی ابتدا میں کلی سورلکی نامی مقامی گاؤں میں ایک ایسے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہیں جو جنگل میں لگنے والی آگ کے متاثرین نے قائم کیا ہے۔ ان متاثرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت انہیں دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے اور ان کے لیے روزگار کے متبادل ذرائع کا بندوبست کرے۔ 

بسم اللہ خان کی عمر 50 سال ہے اور وہ دو بچوں کے باپ ہیں جن میں سے ایک جسمانی طور پر معذور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ چلغوزے کی فصل سے تقریباً 10 لاکھ روپے سالانہ کما لیتے تھے۔ اس لیے ان کا پورا خاندان ہر سال اس کی چنائی اور فروخت کا شدید انتظار کرتا تھا۔

اِس سال جب چلغوزے کے درختوں پر کونپلیں پھوٹنا شروع ہوئیں تو انہیں امید لگ گئی کہ ان کی فصل اچھی ہو گی اور نتیجتاً انہیں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ آمدن ہو گی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ "آگ نے یہ تمام خواب چکنا چور کر دیے ہیں"۔ 

انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ مستقبل قریب میں ان کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں کیونکہ، ان کے مطابق، "چلغوزے کے درخت کودوبارہ اُگنے اور پہلا پھل دینے میں عام طور پر 20 سے 25 سال لگ جاتے ہیں"۔ اس لیے وہ پریشان ہیں کہ اتنا عرصہ وہ اپنا گھر بار کیسے چلائیں گے۔ ان کے علاقے میں نہ تو کھیتی باڑی ممکن ہے اور نہ ہی سڑکوں، بجلی، پینے کے صاف پانی، طبی مراکز اور سکولوں جیسی سہولتیں موجود ہیں جن کی مدد سے ان جیسے مقامی لوگ اپنی زندگیاں بہتر بنا سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ چلغوزے کے کاروبار سے وابستہ شیرانی کے سبھی لوگ اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں شدید غیریقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ ان میں شامل عبدالودود نامی تاجر کہتے ہیں کہ وہ پچھلے 20 سال سے مقامی لوگوں سے چلغوزے خرید کر ملک کے دیگر علاقوں میں فروخت کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اس سال بھی بڑی بڑی رقمیں درختوں کے مالکان کو پیشگی دی ہیں جن کی واپسی کی انہیں اب کوئی امید نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "اس آگ نے مجھے بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے جس کے صدمے سے نکلنا میرے لیے آسان نہیں ہو گا"۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہِ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے شعبہ نیچرل ریسورس مینیجمنٹ میں کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے ڈاکٹر فیض الباری بھی ان مقامی معاشی نقصانات کی توثیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درخت سے صارف تک پہنچنے کے عمل میں چلغوزہ ہزاروں مقامی لوگوں کو روزگار مہیا کرتا ہے "جو سب شیرانی کے جنگل میں لگنے والی آگ کی وجہ سے اس روزگار سے محروم ہو گئے ہیں"۔

ان کے مطابق ان لوگوں کو آنے والے مہینوں اور سالوں میں "خوراک کے حصول میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے علاقے میں متبادل معاشی ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں"۔ 

جنگل کی آگ کے متاثرین کہتے ہیں کہ وہ چلغوزے کے درختوں کی ہر ممکن حفاظت اسی لیے کر رہے تھے کہ ان کے بغیر ان کے علاقے میں معاشی سرگرمیوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کلی سورلکی کے احتجاجی کیمپ میں موجود ایک 60 سالہ بزرگ، حاجی مسعود، ان حفاظتی انتظامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "مقامی قبائل نے قرآن پر حلف لے کر معاہدہ کر رکھا تھا کہ وہ چلغوزے کے درخت نہیں کٹنے دیں گے"۔

ان کے مطابق اس معاہدے کی وجہ سے کلی سورلکی اور اس کے نواحی علاقے کے باشندوں نے ان لوگوں کی دشمنی بھی مول لے رکھی ہے جو لکڑی کی کٹائی اور فروخت کے کام سے منسلک ہیں۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ "نجانے اس جنگل کو کس کی نظر لگ گئی"۔ 

خوابوں کی راکھ

عالمی ادارہِ خوراک و زراعت اور ورلڈ وائلڈلائف فنڈ نامی ماحول کے تحفظ پر کام کرنے والی بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیم کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سنگم پر واقع کوہِ سلیمان میں چلغوزے کا جنگل 64 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سے ہر سال ساڑھے چھ لاکھ کلوگرام چلغوزہ پیدا ہوتا ہے جس کی مالیت تقریباً تین ارب روپے بنتی ہے اور جو پاکستان میں اس فصل کی مجموعی پیداوار کا 74 فیصد ہے۔ 

اس سروے کا کہنا ہے کہ اگرچہ گلگت بلتستان کے بعض علاقوں اور خیبر پختونخوا کے تین اضلاع، جنوبی وزیرستان، دیامیر اور چترال، میں بھی چلغوزہ پیدا ہوتا ہے لیکن کوہِ سلیمان کے جنگل سے حاصل ہونے والے چلغوزے کا معیار سب سے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے اضلاع شیرانی اور موسیٰ خیل میں بیسیوں دیہات کے ہزاروں لوگ کئی دہائیوں سے اسی جنگل کی پیداوار سے روزی روٹی کما رہے ہیں۔ 

ان ضلعوں کے دوردراز دیہات میں رہنے والے چلغوزے کے کاشت کار ہر سال ستمبر میں اپنی فصل چنتے ہیں، اسے بوریوں میں بھرتے ہیں اور اپنے کندھوں یا اونٹوں پر لاد کر پہاڑوں سے نیچے اتارتے ہیں۔ یوں یہ چلغوزہ بلوچستان کے قصبے ژوب میں پہنچتا ہے ہیں جہاں سے اسے ملک بھر کی بڑی بڑی منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے۔

تین سال پہلے عالمی ادارہِ خوراک و زراعت نے ایک عالمی مالیاتی سہولت، گلوبل انوائرنمنٹ فیسیلٹی (جی ای ایف)، کو استعمال کرتے ہوئے کوہِ سلیمان میں ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا جس کا مقصد چلغوزے کے کاروبار سے وابستہ مقامی لوگوں کو عالمی منڈی سے منسلک کرنا تھا۔ اس کے تحت نہ صرف چلغوزے کے پودوں کی نرسریاں بنائی گئیں بلکہ مقامی لوگوں کو تکنیکی مشورے بھی دیے گئے تاکہ وہ جنگل کی بہتر حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی فصل کی چنائی بھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق کر سکیں۔

آگ کی وجہ سے یہ سارا منصوبہ چوپٹ ہو گیا ہے۔ 

آگ جنگل میں لگی ہے دور دریاؤں کے پار

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ کی ابتدا مئی کے وسط میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ سے ہوئی لیکن تیز ہوا کے باعث یہ جلد ہی لگ بھگ 50 کلومیڑ مغرب میں واقع کوہ سلیمان کے بلند ترین مقام تورغر تک پھیل گئی جو ضلع شیرانی کا حصہ ہے۔ شروع میں کلی سورلکی اور اس کے اردگرد کے دیہات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن بسم اللہ خان کہتے ہیں کہ اس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ تین افراد اس سے جھلس کر ہلاک ہو گئے۔

ان کے مطابق اس کوشش کے دوران آگ کے شعلے ان کے گھروں تک بھی آ گئے "چنانچہ ہمیں ضلعی انتظامیہ اور فلاحی تنظیموں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا"۔ بعدازاں فرنٹیئر کور اور صوبائِی لیویز فورس کے اہلکاروں اور سینکڑوں مقامی رضاکاروں نے آگ بجھانے کے لیے سرتوڑ اقدات کیے۔ انہیں صوبائی فائربریگیڈ، ریسکیو سروس کے عملے اور فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی۔ لیکن ان سب ذرائع کے استعمال کے باوجود اس پر قابو نہ پایا جا سکا۔

آگ کے شروع ہونے کے 15روز بعد بالآخر ایران سے آگ بجھانے والا طیارہ منگوایا گیا جس نے اسے بجھا تو دیا لیکن اس وقت تک ہزاروں درخت جل کر راکھ ہو چکے تھے۔

اگرچہ ابھی تک اس آگ کے لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا لیکن بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات دوستین خان جمالدینی کا کہنا ہے کہ یہ آسمانی بجلی گرنے سے شروع ہوئی۔ دوسری طرف شیرانی کے ڈسرکٹ فارسٹ آفیسر اسے مقامی قبائل کے درمیان تنازعے کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ "کسی شخص نے اپنے مخالفین سے انتقام لینے کے لیے اُن کے درختوں کو آگ لگائی جس نے بعد میں پورے جنگل کو لپیٹ میں لے لیا"۔ 

تاہم ژوب سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہرِ ماحولیات باز میر خان کہتے ہیں کہ اس اقدام سے نہ صرف ہزاروں ایکڑ پر لگے ہوئے درخت جل گئے ہیں بلکہ آگ نے جنگلی جانوروں اور پرندوں کی کئی انواع کو بھی متاثر کیا ہے۔ ژوب میں متعین محکمہ ماحولیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالق داد مندوخیل بھی ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آگ نے مقامی جنگلی حیات سمیت پورے علاقے کے ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے بقول یہ نقصان اتنا شدید ہے کہ "اس کا ازالہ آئندہ کئی دہائیوں میں نہیں ہو پائے گا"۔

تاریخ اشاعت 16 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رفیع اللہ مندوخیل گزشتہ بارہ سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ اس دوران وہ انڈیپنڈنٹ اردو، وائس آف امریکا، ڈان، ایکپسریس ٹریبیون، فرنٹیئرپوسٹ، پاکستان آبزرور، بلوچستان ٹائمز، نوائے وقت اور روزنامہ نئی بات کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔