ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بلوں میں ڈالے گئے اضافی یونٹ: پنجاب بھر کے کسان شدید نالاں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بلوں میں ڈالے گئے اضافی یونٹ: پنجاب بھر کے کسان شدید نالاں۔

آصف ریاض

postImg

ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بلوں میں ڈالے گئے اضافی یونٹ: پنجاب بھر کے کسان شدید نالاں۔

آصف ریاض

عامر غنی کا خیال تھا کہ اگست 2021 میں ان کے زرعی ٹیوب ویل کا بجلی کا بِل زیادہ نہیں آئے گا کیونکہ ان کے اندازے کے مطابق جولائی کے پورے مہینے میں اس نے محض دو ہزار 61 یونٹ بجلی صرف کی تھی جس کی قیمت لگ بھگ 18 ہزار روپے بنتی ہے۔ لیکن جب انہیں بِل موصول ہوا تو اس میں صرف شدہ یونٹوں کی تعداد چھ ہزار 61 درج تھی جن کی ٹیکسوں سمیت قیمت 72 ہزار چار سو 65 روپے لکھی گئی تھی۔

چونکہ بِل پر لگی ہوئی میٹر کی تصویر سے واضح تھا کہ ان کے ٹیوب ویل نے دو ہزار 61 یونٹ ہی استعمال کیے تھے اس لیے اسے وصول کرتے ہی انہوں نے اپنے علاقے میں بجلی فراہم کرنے والے سرکاری ادارے، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، کے ایک اعلیٰ عہدے دار کو فون کر کے کہا کہ اگر یونٹوں کی تعداد کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو وہ بِل ہی جمع نہیں کرائیں گے۔

جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے علاقے خان پور میں رہنے والے عامر غنی ایک بڑے زمیندار ہیں اور ضلعی انجمن کاشت کاران کے جنرل سیکرٹری ہونے کی وجہ سے سرکاری اداروں میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ لہٰذا میپکو حکام نے فوری طور پر ان کی بات مان لی اور ان کا بِل درست کر دیا۔

لیکن اسی ضلعے کے ایک دوسرے کاشت کار  فرمان اللہ کو بھیجا گیا اسی طرح کا اضافی بِل کبھی درست نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں پہلے کبھی 75 ہزار روپے سے زیادہ ماہانہ بِل نہیں آتا تھا لیکن اگست 2021 میں انہیں دو لاکھ 19 ہزار روپے کا بِل بھیج دیا گیا۔ انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ بِل پر ان کے ٹیوب ویل کے میٹر کی تصویر بھی نہیں جس سے انہیں پتہ چل سکے کہ صرف کردہ یونٹوں اور بِل پر درج کردہ یونٹوں میں کتنا فرق ہے۔

تاہم جب وہ بِل درست کرانے کے لیے میپکو کے مقامی دفتر گئے تو پہلے تو کسی نے ان کی بات ہی نہیں سنی لیکن جب کسی نہ کسی طرح وہ سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) تک پہنچ گئے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا بِل تو کم نہیں کیا جا سکتا البتہ ان کے ٹیوب ویل کے میٹر کا معائنہ ضرور کیا جائے گا تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہیں اس میں کوئی خرابی تو نہیں۔

بِل درست کرانے کی اِس لاحاصل تگ و دو میں فرمان اللہ اسے جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی گزار بیٹھے چنانچہ اضافی یونٹوں کی قیمت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اب بِل دیر سے جمع کرانے کا جرمانہ بھی بھرنا پڑے گا جو 21 ہزار روپے سے زیادہ بنتا ہے۔

رحیم یار خان میں کئی کسانوں کو انہی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ آل پاکستان کسان فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری تنظیم کے چیئرمین محمود الحق بخاری کہتے ہیں کہ انہوں نے میپکو کے سربراہ کو اس ضلعے سے کم از کم 23 ایسے بل بھیجے ہیں جن میں درج کیے گئے یونٹ حقیقت میں خرچ ہونے والے یونٹوں سے زیادہ ہیں۔

تاہم میپکو کے خان پور ڈویژن کے ایگزیکٹو آفیسر ( ایکسین)  ثناء اللہ ظفر یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان کے ادارے نے کسانوں کو غلط بِل بھیجے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کسانوں کے بِلوں میں اضافی یونٹ پائے گئے ہیں ان کے ٹیوب ویل کا میٹر یا تو بند رہا ہو گا یا اسے جان بوجھ کر سست کر دیا گیا ہو گا جس کا پتہ چلنے پر انہیں معمول سے زیادہ بِل بھیجے گئے ہیں۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی میپکو اہل کار نے کسی کاشت کار کے ساتھ بِل کے معاملے میں زیادتی کی ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متعلقہ اہل کار کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

خرچہ کسان کا، کمائی کمپنی کی

اگست ہی کی 16 تاریخ کو چار سو کے قریب کسان وسطی پنجاب میں واقع ضلع حافظ آباد کے قصبے جلال پور بھٹیاں میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے مقامی دفتر کے سامنے احتجاج کر رہے تھے۔ ان میں سے کئی عملے سے تکرار کر رہے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے دفتر کے اندر گھس کر عملے کی نشستوں پر قبضہ جما لیا تھا۔

ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے ٹیوب ویلوں کے بِل جلد از جلد درست کیے جائیں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ان کی بے چینی اور غصہ بڑھ رہا تھا کیونکہ اس دن بِل جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ اگر ان کے بِل وقت پر درست نہ کیے گئے تو یا تو انہیں بِلوں پر درج اضافی رقم ادا کرنا پڑے  گی یا وقت پر بِل ادا نہ کر سکنے کی صورت میں ان کے ٹیوب ویلوں کی بجلی کٹ جائے گی۔

جب انہیں احتجاج کرتے ہوئے دو گھنٹے گزر گئے تو دفتر میں متعین ایگزیکٹو انجینئر (ایکسین) رمضان عالم نے ان سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے مسئلے کا حل ضرور نکالیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے کسانوں سے انفرادی طور پر ان کی شکایات سنیں اور اپنے ماتحت عملے کو ان کے بِلوں کی درستگی کے احکامات دیے۔

تاہم ڈھائی گھنٹے میں وہ صرف 43 بِل درست کر سکے چنانچہ انہوں نے باقی کسانوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے بِل اگلے روز درست کر دیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے بِل جمع کرانے کی تاریخ بھی ایک ہفتہ بڑھا دی۔

احتجاج  کرنے والے کسانوں کے رہنما شاہ نواز ہنجرا کہتے ہیں کہ بِلوں میں درج اضافی یونٹوں کی وجہ سے ایک بہت بڑی رقم کسانوں کی جیب سے نکل کر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے پاس چلی جاتی۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ صرف احتجاج والے دن درست کیے گئے بِلوں میں مجموعی طور پر 62 ہزار تین سو 16 یونٹ اضافی تھے جن کی مالیت سات روپے تیس پیسے فی یونٹ کے حساب سے چار لاکھ 54 ہزار نو سو چھ روپے بنتی ہے (جبکہ 43 ٹیوب ویلوں میں سے ہر ایک کے حصے میں آنے والے اضافی یونٹوں کی اوسط تعداد ساڑھے 14 سو تھی)۔

ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ اگر ضلع حافظ آباد میں بجلی سے چلنے والے تمام پانچ ہزار دو سو 70 ٹیوب ویلوں میں سے ہر ایک کو بِل میں ساڑھے 14 سو اضافی یونٹ بھیجے گئے ہوتے تو اس کے نتیجے میں مقامی کسان بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کو پانچ کروڑ 57 لاکھ 82 ہزار نو سو 50 روپے کی اضافی ادائیگی کرتے۔ اگر ضلعے کے صرف 50 فیصد ٹیوب ویلوں کو ہی ایسے بِل بھیجے گئے ہوں تو بھی اضافی رقم تقریباً دو کروڑ 79 لاکھ روپے بنتی ہے۔

کسانوں کی شکایات کا سبب کیا ہے؟

جولائی 2021 کے آخری ہفتے میں جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کے سینکڑوں کسانوں نے وہاڑی شہر میں واقع میپکو کے دفتر کے سامنے ٹیوب ویلوں کے غلط بِل موصول ہونے کے خلاف کئی روز احتجاجی دھرنا دیے رکھا۔ لیکن جب میپکو حکام نے ان کے مطالبات پر کان نہ دھرے تو انہوں نے بالآخر ٹریکٹر ٹرالیوں کی مدد سے لاہور اور ملتان کو ملانے والی شاہراہ کو بند کر دیا۔

شاہراہ کی بندش سے پیدا ہونے والے آمد و رفت اور نقل و حمل سے متعلقہ مسائل کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ اور میپکو اہلکاروں کو فوری طور پر کسانوں سے مذاکرات کرنا پڑے جن میں طے پایا کہ بِلوں میں درج اضافی یونٹوں کی چھان پھٹک کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی مقامی اسسٹنٹ کمشنر کریں گے اور اس میں میپکو کے دو اہل کار اور کسانوں کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

ان کسانوں کے احتجاج کو منظم کرنے والے مقامی کاشت کار ذوالفقار اعوان کو توقع ہے کہ کمیٹی میں ضلعی انتظامیہ کی موجودگی سے میپکو حکام بِلوں کے بارے میں کسانوں کی شکایات کا نہ صرف فوری ازالہ کریں گے بلکہ اپنی شکایات اس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے والے کسانوں کو اس "ہتک آمیز رویے" سے بھی نجات مِل جائے گی جو میپکو کے دفاتر میں ان کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔

محمود الحق بخاری اس رویے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک چھوٹے سے مسئلے کے حل کے لیے بھی کسانوں کو بار بار بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر میں حاضر ہونا پڑتا ہے جہاں بڑے افسر تو ان سے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن ماتحت عملہ بھی ان کے ساتھ درشتی اور بد تمیزی سے پیش آتا ہے۔ ان کے مطابق ان کمپنیوں کے دفاتر بھی کسانوں کے گھروں سے کئی کئی کلومیٹر دور واقع ہوتے ہوں جہاں آنے جانے میں نہ صرف وقت لگتا ہے بلکہ پیسے بھی خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے بقول کسانوں کو ان دفاتر کے چکر اس لیے لگوائے جاتے ہیں کہ "وہ تھک ہار کر خود ہی اپنی شکایت واپس لے لیں"۔

عامر غنی کو بھی بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے کئی قسم کی شکایات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی تاروں سے چوری اور ضائع ہونے والی بجلی کا نقصان پورا کرنے کے لیے اس وقت تک صارفین، خاص طور پر کسانوں، کے بِلوں میں اضافی یونٹ ڈالتی رہتی ہیں جب تک اس سے متاثر ہونے والے لوگ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔

حکومتی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں لوگوں کو بہت تنگ کرتی ہیں۔ وفاقی حکومت کے محکموں میں بد انتظامی اور بدعنوانی روکنے کے لیے کام کرنے والے ادارے، وفاقی محتسب، کو بہاولپور ڈویژن سے اس سال ابھی تک موصول ہونے والی چار ہزار شکایات میں سے 80 فیصد سے زیادہ میپکو ہی کے بارے میں ہیں۔

اس طرح کنزیومر پروٹیکشن کونسل پنجاب میں 2016 اور 2019 کے درمیان ایسے تمام سرکاری اداروں کے بارے میں 29 ہزار سات سو 71 شکایات درج ہوئیں جن کا کام لوگوں کو مختلف سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان میں سے 18 ہزار سات سو 65 شکایات صرف بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے بارے میں تھیں۔

ایسی شکایات کے صحیح ہونے کا ثبوت 22 جنوری 2019 کو لاہور کے اردو اخبار روزنامہ پاکستان میں چھپنے والی اس خبر سے ملتا ہے کہ جولائی 2018 اور دسمبر 2018 کے درمیان صرف چھ ماہ میں بدعنوانی میں ملوث ہونے، بجلی چوری میں مدد کرنے اور سرکاری سامان کی خوردبرد کرنے پر میپکو کے 23 ملازمین کو نوکریوں سے نکالا گیا اور 25 دیگر افسروں اور ملازمین کی تنزلی کی گئی۔ اسی طرح 63 مزید ملازمین کو کمپنی نے حکم دیا کہ وہ اپنے اقدامات کے نتیجے میں اسے ہونے والے نقصان کی قیمت ادا کریں جبکہ 463 افسروں اور اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ اور 86 کی ترقی روک لیے گئے۔

لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اہل کاروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سنٹرل لیبر یونین کے جنرل سیکریٹری خورشید احمد اس ساری صورتِ حال کی ذمہ داری کمپنیوں کی پالیسیوں اور نادانستہ طور پر ہو جانے والی انسانی غلطیوں پر ڈالتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں میں بد انتظامی کی بڑھتی ہوئی شکایات کی ایک بڑی وجہ ان کے اہل کاروں کی تعداد کا ضرورت سے کم ہونا ہے۔ ان کے مطابق "پچھلے چھ سال سے ان کمپنیوں میں بھرتیاں نہیں کی گئیں حالانکہ ہر سال بڑے پیمانے پر ان کے ملازمین ریٹائر بھی ہورہے ہیں"۔

وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی افرادی قوت کی کمی کے باعث یہ کمپنیاں میٹر ریڈنگ جیسے کئی اہم کام اچھی طرح سے نہیں کر پاتیں۔ ان کے بقول ان کے عملے کی تعداد اس قدر کم ہے کہ "ہر ایک میٹر ریڈر کو کئی کئی میل کا سفر طے کر کے محدود سے وقت میں سینکڑوں میٹروں کی رِیڈنگ لینا ہوتی ہے جس کے باعث اس سے ہونے والی غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے"۔

تاریخ اشاعت 10 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔