پاکستان میں رہنے والے بودھ: 'ہم اپنی بقا کے لیے اپنی مذہبی شناخت چھپاتے چلے آ رہے ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پاکستان میں رہنے والے بودھ: 'ہم اپنی بقا کے لیے اپنی مذہبی شناخت چھپاتے چلے آ رہے ہیں'۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

پاکستان میں رہنے والے بودھ: 'ہم اپنی بقا کے لیے اپنی مذہبی شناخت چھپاتے چلے آ رہے ہیں'۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

میر محلہ میں وقت ٹھہرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تنگ اور بل کھاتی گلیاں قدیم ویرانوں کا حصہ معلوم ہوتی ہیں اور اس کے بوسیدہ اور ٹوٹے پھوٹے گھر بھوت پریت کا مسکن نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ گھروں کی دہلیز پر کھڑی عورتیں بھی اپنی اصل عمر سے بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ 

میر محلہ سندھ کے شمالی ضلعے نوشہرو فیروز کے اہم قصبے محراب پور کے مرکز میں واقع ایک چھوٹی سی آبادی ہے جس میں تقریباً 50 ہزار لوگ بستے ہیں جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے۔ ان میں پاکستان کے بچے کھچے بودھ مت سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔

محراب پور میں بودھ مت کے پیرو کاروں کی موجودگی ایک خفیہ راز جیسی ہے کیونکہ اس قصبے کے بیشتر لوگ بھی ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ درحقیقت مقامی سطح پر لوگ اس آبادی کو سندھی میں 'ہندواں جا گھر' کہتے ہیں جس کا مطلب 'ہندوؤں کے گھر' ہے حالانکہ اعتقادات اور مذہبی رسومات کے اعتبار سے ان دونوں مذاہب میں بہت کم چیزیں ہی مشترک ہیں۔ 

بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ محراب پور میں رہنے والے قریباً 200 بودھوں کے پاس نہ تو  اپنی کوئی عبادت گاہ ہے اور نہ ہی وہ اپنے مذہبی تہوار کھلے عام مناتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض اوقات وہ ہولی، دیوالی اور رکھشا بندھن جیسے ہندوانہ تہوار اور رسومات مناتے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ 

بودھ برادری کے مطابق اس رازداری کا سبب ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت عام نہیں کرنا چاہتے۔ میر محلہ میں غلام نامی ایک 75 سالہ بودھ بزرگ کا کہنا ہے کہ ان کی برادری 'اپنے مذہب کی بقا کے لیے' طویل عرصہ سے اپنی مذہبی شناخت چھپاتی چلی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بودھوں کا پاکستان سے صفایا ہو چکا ہوتا۔ 

جمن نامی ایک اور مقامی رہائشی بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بودھ اس لیے خفیہ زندگی گزار رہے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کی صورت میں انہیں دوسرے مذاہب اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے یا پھر ان کی زندگیاں جہنم سے بھی بدتر ہو جائیں گی۔ 

محراب پور میں بودھوں کے گھر ایک چار دیواری کے اندر واقع ہیں جس سے غیر بدھ اکثریتی آبادی میں ان کی موجودگی کو لاحق خطرات کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ اس چار دیواری میں داخلے کے دو ہی بڑے راستے ہیں جن میں ایک مشرق اور دوسرا مغربی جانب واقع ہے۔ اس چار دیواری کی تعمیر کا مقصد بودھ آبادی کو کسی نا خوشگوار صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے۔

52 سالہ جمن ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں۔ وہ میر محلہ میں رہنے والے واحد بودھ ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلوائی ہے۔ دیگر لوگ اس قدر غریب ہیں کہ وہ بمشکل دن میں ایک وقت کی روٹی کا اہتمام کر پاتے ہیں۔ جمن کا کہنا ہے کہ ''محراب پور میں رہنے والا قریباً ہر بودھ مزدور کی حیثیت سے کام کرتا ہے''۔

لالہ نامی 26 سالہ نوجوان بودھ ان کی باتوں کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: ''میرے والد اور دادا مزدور تھے اس لیے میں بھی مزدوری کرتا ہوں کیونکہ ان کی طرح میں بھی تعلیم حاصل نہیں کر سکا اب میرا بیٹا بھی یہی کام کرے گا''۔ لالہ سکول نہ جانے کا ذمہ دار اپنے والدین کو قرار نہیں دیتے کیونکہ ان کے مطابق ''ہمیں بچپن سے ہی ایسے حالات کا سامنا ہے جو ہمیں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتے''۔ 

جمن کے خیال میں ان کی برادری جس شدید غربت میں رہ رہی ہے وہ اس کی مسلسل پسماندگی کا نتیجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محراب پور میں رہنے والے بودھ طویل عرصہ سے نا انصافیوں کا سامنا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ''ہم تقریباً دو صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں مگر ہمارے خستہ حال گھروں اور ہماری کچی گلیوں کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس عرصہ میں ہم نے کتنی ترقی کی ہے''۔ 

سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے اس برادری کی معاشی محرومی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ جمن کہتے ہیں: ''ہم ایسے جانوروں کا گوشت نہیں کھاتے جنہیں اکثریتی آبادی ناپاک سمجھتی ہے۔ ہم اپنے گھروں، اپنی گلیوں اور اپنے جسم کو صاف ستھرا رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہم اس لیے برے سلوک کے حق دار ہیں کیونکہ ہم ان جیسے نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہم اس محلے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔'' 

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ''اب ہمارا اس الگ تھلگ جگہ پر رہنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ متعدد مواقع پر با اثر لوگوں نے اس زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ہمیں اس محلے سے جبراً نکالنے کی کوشش کی ہے''۔

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیسے 1984 میں جب ان کے چچا کا انتقال ہوا تو انہیں قریبی قبرستان میں دفن کیا گیا کیونکہ طویل عرصہ سے یہی دستور چلا آ رہا تھا۔ لیکن اگلے دن مولویوں نے بودھوں سے قبر کھودنے اور میت کو کسی اور جگہ منتقل کرنے کو کہا اور ان کی مزاحمت پر انہیں مارنے پیٹنے کی دھمکی دی۔ اس صورت حال میں ہم نے ایک مقامی با اثر شخصیت سے شکایت کی جس نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ ہم دوبارہ کبھی اپنے مردے اس مقامی قبرستان میں دفن نہیں کریں گے اور ہمارے جو اجداد پہلے سے وہاں دفن ہیں ہم ان کی قبروں پر بھی کبھی نہیں جائیں گے''۔ جمن کہتے ہیں کہ ''ہم نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور قریب ایک ویرانے میں اپنے قبرستان کے لیے الگ جگہ خرید لی''۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی برادری کو ایک اور مذہبی طبقے کی جانب سے بھی ایسے ہی خطرات لاحق ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ''ہمیں مسلمانوں کی نسبت ہندوؤں سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ ہندو ہمیشہ ہمیں اپنے مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ ہمیں ہندو بنا کر پاکستان میں اپنی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں، مگر ہمارا کیا ہو گا؟ ہمارے مذہب کا کیا ہو گا؟ یوں لگتا ہے کسی کو ہماری فکر نہیں''۔ 

جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا مسلمان بھی ان کی برادری کے ارکان کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں میں بہت سے بودھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ 

جمن اپنی برادری کی آئندہ نسلوں کے بارے میں بے حد فکر مند ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر موجودہ صورتحال میں تبدیلی نہ آئی تو پھر مستقبل قریب میں یہاں کوئی بودھ باقی نہیں رہے گا۔ 

جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا کبھی ان کی برادری نے محراب پور چھوڑ کر کہیں اور جانے کا سوچا ہے تو ان کا جواب آتا ہے کہ ''ہم کہاں جائیں گے؟ کیا یہاں سے انڈیا ہجرت کرنے والے ہندوؤں کو ان کے تمام جائز حقوق اور وہ عزت ملی جس کے وہ حقدار تھے؟'' 

ان کے خیال میں ان وجوہات کی بنا پر مقامی بودھ اپنی جائے پیدائش کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ ''ہمیں جو بھی مصائب برداشت کرنا پڑیں کر لیں گے مگر اس زمین کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہماری زندگی اور موت اسی زمین سے جڑی ہے''۔

تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بعض مقامی بودھ محراب پور چھوڑ کر نا معلوم جگہوں پر منتقل ہو گئے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ''ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں''۔

اجتماعی زوال

محراب پور کے بودھ زندہ رہنے کی جدوجہد میں اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں یہ علم یا پروا نہیں ہے کہ مقامی اور قومی سیاست میں کون جیتا اور کون ہارا ہے۔ اسی لیے ان کے بڑوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اپنی معاشی ترقی کے لیے وہ کس کی مدد لیں۔ چنیسر نامی ایک مقامی بودھ کا کہنا ہے کہ ''کبھی کوئی سرکاری افسر یہ دیکھنے نہیں آیا کہ ہم یہاں کس حال میں جی رہے ہیں۔ کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ہم دیگر پاکستانی شہریوں کے برابر حقوق کے حق دار نہیں ہیں؟''

چونکہ محراب پور میں رہنے والے بودھوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں وہ اجتماعی طور پر عبادت کر سکیں اس لیے ہر بودھ گھرانے میں ایک کونہ عبادت کے لیے وقف ہوتا ہے۔ اس کونے کو 'مورت' کہا جاتا ہے۔ جمن کے مطابق ''ہمیں دوسروں کو یہ دکھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ہم کتنے مذہبی ہیں یا کس طرح عبادت کرتے ہیں اسی لیے ہم اپنی مذہبی سرگرمیوں کو اپنے تک محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔''

بودھ جو واحد سالانہ تہوار مناتے ہیں وہ وساکھی ہے تاہم یہ لوگ اس تہوار کی تقریبات کو بھی خفیہ رکھتے ہیں۔ جمن کے مطابق ان کی برادری کے بیشتر لوگ وساکھ کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں جو اپریل اور مئی کا عرصہ ہوتا ہے۔ وساکھ کے دوران بودھ چارپائی کے بجائے زمین پر سوتے ہیں۔ 

جمن بتاتے ہیں کہ اس تہوار کے دن بھی وہ نئے کپڑے پہننے یا ملاقاتوں اور ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس موقع پر ہر گھرانے کی خواتین اچھا کھانا بناتی ہیں جسے سب گھر والے مل بیٹھ کر کھاتے ہیں اور پھر اپنے روزانہ کے معمول کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔ 

مسلمانوں کی طرح لیکن ہندوؤں اور مسیحیوں کے برعکس بودھوں میں بھی خون کے رشتوں کے درمیان شادی کا رواج ہے۔ جمن بتاتے ہیں کہ ''ہم اپنے رشتہ داروں میں ہی لڑکیوں لڑکوں کے رشتے ڈھونڈنتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں''۔ 

تاہم بعض اوقات کوئی نہ کوئی بودھ لڑکی کسی غیربودھ لڑکے کے ساتھ بھاگ بھی جاتی ہے۔ جمن کے مطابق ''جب کبھی ایسا ہو تو ہم اس لڑکی کو دوبارہ کبھی اس محلے میں واپس آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اس کے والدین بھی اس کے ساتھ ہر طرح کا ناتہ توڑ لیتے ہیں۔''

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 27 فروری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 3 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔