یونیورسٹی آف میانوالی: "مجھے فکر ہے کہ کوئی میری بیٹی کی تصویر سوشل میڈیا پر لگا کر تماشا نہ بنا دے"

postImg

فیصل شہزاد

postImg

یونیورسٹی آف میانوالی: "مجھے فکر ہے کہ کوئی میری بیٹی کی تصویر سوشل میڈیا پر لگا کر تماشا نہ بنا دے"

فیصل شہزاد

یونیورسٹی آف میانوالی میں پانچویں سمیسٹر کے طالب علم محمد کامران ان دنوں طلبہ اور سول سوسائٹی کو منظم کرنے میں مصروف ہیں جس کا مقصد یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی ایک مہم کا توڑ کرنا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ "مارچ کے آخری ہفتے یونیورسٹی میں سپورٹس گالا کا انعقاد کیا گیا جس کے اختتام پر' کلچرڈے' منایا گیا۔ اس موقع پرطلبہ نے ثقافتی رقص کیا جس کی ویڈیوز ساتھی طلبا و طالبات نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کر دیں۔ اس پر چند نام نہاد 'سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس' نے یونیورسٹی اور طلبہ و طالبات کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔

یہ مہم شروع کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کوئی اور نہیں، پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (پی آئی ایچ آر او) نامی این جی او کے ضلعی آرگنائزر رب نواز خان ہاتھی خیل تھے۔ ان کے بعد خود کو صحافی کہلانے والے سوشل میڈیا ٹرولز اور 'مٹھی میانوالی' اور'نیازی ٹی وی' جیسے  گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی یونیورسٹی کے خلاف سرگرم ہو گئے۔

کامران بتاتے ہیں کہ اگلے ہی روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں رب نواز نے یونیورسٹی کے سکیورٹی کے معاملات کو دیکھنے والے ایک پروفیسر کا ان کے دفتر میں انٹرویو کیا۔ اس میں رب نواز نے کلچرڈے کو ایشو بنا کر پروفیسر کی تذلیل کی اور ویڈیو شیئر کر دی جس پر سول سوسائٹی اور سیاسی وسماجی کارکنوں نےاحتجاج کیا۔

پروفیسر کی ہتک آمیز ویڈیو آنے بعد طلبہ نے یونیورسٹی میں مظاہرہ کیا۔ کلاسز کے بعد یونیورسٹی گراؤنڈ میں جلسہ کیا گیا اور وائس چانسلر آفس تک مارچ کیا گیا۔

احتجاج کے دوران طلبا نے خود کو منظم  کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرونی عناصر کو یونیورسٹی کے معاملات دخل اندازی نہیں کرنے دیں گے ۔ اسی دوران فیس بک پر طلبہ نے یونین بنانے کی باتیں بھی شروع کر دیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے ساتھ مذاکرات کیے جن کا مطالبہ تھا کہ رب نواز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اس پر ساتھیوں سمیت یونیورسٹی میں داخلے پر بھی پابندی لگائی جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے مطالبہ تسلیم کرنے کی زبانی یقین دہانی تو کرادی مگرکوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

پچپن سالہ محمد حیات خان  کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کی صاحبزادی یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں پڑھتی ہیں۔ حیات کہتے ہیں کہ انہیں فکر لاحق ہے کہ کوئی ان کی بیٹی کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر لگا کر تماشا نہ بنا دے کیونکہ یونیورسٹی انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف  کارروائی نہیں کر رہی۔

انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں چھٹے سمیسٹر کی طالبہ عابدہ  کہتی ہیں "دکھ اس بات کا ہے کہ جو شخص غیرت کی آڑ لے کر یونیورسٹی کے خلاف مہم چلا رہا ہے اسے پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نامی این جی او نے اپنا ضلعی عہدیدار بنا رکھا ہے۔''

<p>طلبا کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بیرونی عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے<br></p>

طلبا کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بیرونی عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے

پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (پی آئی ایچ آر او) انسانی حقوق کی علمبردار ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر لکھے "مشن" کے مطابق یہ ایک آزاد، قومی تنظیم ہے جو انسانی وقار کو برقرار رکھنے اور سب کے لیے انسانی حقوق کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک متحرک تحریک کے حصے کے طور پر کام کرتی ہے۔مشن سٹیٹمنٹ کے بقول تنظیم کے قیام کا مقصد لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور انہیں با اختیار بنانا اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہے۔

پی آئی ایچ آر او کے شکایات سیل کے انچارج شہزاد احمد نے اسلام آباد سے لوک سجاگ کو فون بتایا کہ رب نواز ہاتھی خیل کو "متعدد شکایات" سامنے آنے کے بعد ان کے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے اور ان  کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔

مگر بار بار پوچھنے پر وہ یہ نہیں بتا سکے کہ رب نواز کو کب ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ رب نواز  کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن 27 مارچ 2023ء کو جاری کیا گیا تھا مگر لوک سجاگ کی درخواست کے باوجود تادم تحریر ادارے نے ان سے لاتعلقی کا خط پیش نہیں کیا۔شہزاد احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد اس معاملے پر کارروائی کریں گے۔

طلبہ اس معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ کے رویے سے سخت مایوس ہیں۔ بی ایڈ کے آخری سمیسٹر کے طالب علم عرفان اللہ خان کے مطابق تین سال یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی مہم جاری ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ اب کے پورا ضلع آواز بلند کر رہا ہے لیکن یونیورسٹی  انتظامیہ حسبِ معمول خاموش ہے۔

تاہم طلبہ نے یونیورسٹی  کے دفاع میں ایک دستخطی مہم شروع کر رکھی ہے۔ سول سوسائٹی، وکلاء، صحافیوں، تاجروں اور شعراء سمیت ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات، یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ کے حق میں پیغامات جاری کر رہی ہیں۔

سماجی شخصیات اور ڈینٹل سرجن ڈاکٹر حنیف نیازی اور علی خان پائی خیل یونیورسٹی کی حمایت میں سرگرمِ عمل ہیں۔ حنیف نیازی کہتے ہیں کہ میانوالی میں یونیورسٹی کسی نعمت سے کم نہیں لیکن بدقسمتی سے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ ضلعے کی بیٹیوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بندکرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

ادھر سوشل میڈیا ٹرولز کے خلاف کارروائی کی زبانی یقین دہانی کے اگلے ہی روز یونیورسٹی حکام نے احتجاج پر طلبا و طالبات کو یونین و انجمن سازی  سے باز رہنے کے لیے ایک تنبیہی نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

صنفی تفریق کا شکار یونیورسٹی آف نارووال کی طالبات: گرلز ہاسٹل کے قیام میں اور کتنا عرصہ لگے گا؟

رجسٹرار آفس سے جاری کردہ اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ "طلباء و طالبات کو سٹوڈنٹ یونین، فیڈریشن یا تنظیم بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ہم نصابی سرگرمیوں اور مثبت گفتگو کے لیے یونیورسٹی میں قائم سوسائٹیز میں ہی حصہ لیں۔ بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی۔"

یونیورسٹی رجسٹرار ڈاکٹر لیاقت اس نوٹس کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں یونین بنانے پر پابندی ہے۔ یونیورسٹی آف میانوالی کے طلباء و طالبات کو بھی یونین بنانے سے روکنے کے لیے مذکورہ لیٹر جاری کیا گیا جو قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے۔

انگریزی ڈیپارٹمنٹ  کی طالبہ نسرین کہتی ہیں کہ "ہم نے اپنے اساتذہ اور ادارے کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی لیکن یونیورسٹی نے ہمارے خلاف ہی لیٹر جاری کر دیا جس سے طلباء و طالبات کا مورال متاثر ہوا۔ یہ لیٹر دینا ہی تھا تو کسی اور وقت کا انتظار کر لیتے۔"

یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے وزیٹنگ فیکلٹی ممبر ساجد اللہ خان  ضلع میانوالی ہی کے رہائشی ہیں۔ وہ کہتے ہیں "میری خواہش تھی کہ اسی یونیورسٹی میں بطور مستقل استاد فرائض سر انجام دوں لیکن موجودہ حالات میں اگر مجھے مستقل تعیناتی کی آفر کی بھی جائے تو میں دس بار سوچوں گا۔"

تاریخ اشاعت 19 اپریل 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فیصل شہزاد کا تعلق میانوالی سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں اور گزشتہ 5 سال سے محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

منوڑہ میں چار سو سالہ پرانا مندر دیکھنے والوں کو اب بھی اپنی جانب کھینچتا ہے

thumb
سٹوری

چھ سالوں سے سیالکوٹ میں پبلک پارک کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعابد محمود بیگ
thumb
سٹوری

"خیراتی ہسپتال کے عملے نے شاپر میں بچے کا دھڑ تھما کر کہا فوراً مٹھی ہسپتال جائیں، مریضہ کی حالت نازک ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو
thumb
سٹوری

رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعرفان الحق
thumb
سٹوری

گرینائٹ کا لالچ ننگر پارکر میں سب کچھ کیسے تباہ کر دے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

پشاور: افغان خواجہ سراؤں کی ملک بدری پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

thumb
سٹوری

موسمیاتی تبدیلیاں بلوچستان میں کھجور کو کیسے متاثر کر رہی ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفیروز خان خلجی

کشمیر: چار روزہ سنو فیسٹیول

thumb
سٹوری

عام انتخابات 2024ء: پولنگ سٹیشن سے آر او آفس تک کا سفر، انتخابی نتائج میں تاخیر کیوں ہوئی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

مخصوص نشستوں کی اگر مگر اور بنتے بگڑتے نمبر: کونسی پارٹی کہاں حکومت بنا پائے گی اور کیسے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی

نظام مصطفیٰ، ضیاالحق اور 1977 کے انتخابات کی کہانی

thumb
سٹوری

کوئٹہ شہر کچرے اور پلاسٹک کا ڈھیر کیوں بنتا جا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعطا کاکڑ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.