ژوب میں غذائی قلت: امدادی طبی غذائیت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ

postImg

عطا کاکڑ

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ژوب میں غذائی قلت: امدادی طبی غذائیت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ

عطا کاکڑ

loop

انگریزی میں پڑھیں

محمد طاہر کی شادی 2004 میں ہوئی اور ان کے ہاں دس بچوں نے جنم لیا جن میں سے دو وفات پا چکے ہیں۔ ان دونوں کی موت شدید غذائی قلت کا نتیجہ تھی۔ ان دنوں ان کا ڈیڑھ سالہ سب سے چھوٹا بیٹا بھی غذائی قلت کے باعث شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہے جس کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔

طاہر اکثر بے روزگار رہتے ہیں اور ان کی اہلیہ کی صحت بھی اچھی نہیں ہے جس کے باعث وہ بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا سکتیں۔ اس لیے جب ان کے پاس پیسے ہوں تو وہ بچوں کے لیے خشک دودھ لے آتے ہیں۔ کبھی انہیں اپنے چھوٹے بچوں کو بکریوں کا دودھ پلانا پڑتا ہے جس سے ان کا پیٹ اکثر خراب رہتا ہے۔

اس گھرانے کا تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب کی یونین کونسل اشیوت سے ہے۔ یہ 60 گھروں پر مشتمل گاؤں ہے جہاں واحد طبی سہولت ایک بنیادی مرکز صحت ہے جس پر ایک مرد نرس تعینات ہے۔

طاہر بتاتے ہیں کہ اس مرکز صحت میں اگرچہ بنیادی نوعیت کی دوائیں میسر ہوتی ہیں لیکن غذائیت کے حوالے سے کسی قسم کی مدد دستیاب نہیں ہے۔

 "کئی سال پہلے یہاں غذائی مدد بھی فراہم کی جاتی تھی جس سے خوراک کی قلت کا شکار بچہ اور ماں دونوں تندرست ہوجاتے تھے۔ لیکن اب ایسا کچھ بھی میسر نہیں ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ ژوب شہر اور قریبی علاقوں میں اب بھی غذائی مدد دی جاتی ہے لیکن ہمارے گاؤں کے لوگوں کی مشکلات پر کسی نے توجہ نہیں دی۔"

بنیادی مرکز صحت میں تعینات نرس نے بتایا کہ جب غذائی قلت پر قابو پانے کا پروگرام چل رہا تھا تو اس وقت وہ سٹرپنگ سے معلوم کر لیتے تھے کہ کون سا بچہ یا خاتون غذائی قلت کا شکار ہے لیکن اب اس مرکز صحت میں یہ پروگرام بند ہو گیا ہے اس لیے ان کے پاس غذائی قلت کی نشاندہی کرنے والا آلہ نہیں ہے۔ تاہم وہ مریض کی جسمانی حالت دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آیا وہ غذائی کمی کا شکار ہے یا نہیں۔ اب ایسے لوگوں کو صرف مشورہ ہی دیا جا سکتا ہے کہ وہ شہر جا کر کسی غذائی پروگرام سے مدد حاصل کریں۔

ژوب کے نیوٹریشن کوارڈینیٹر اجمل خان مندوخیل  بتاتے ہیں کہ ضلع میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے 5 آوٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سنٹر یا او ٹی پی مراکز ہیں جن میں سول ہسپتال ژوب، بنیادی صحت مرکز صحت یونین کونسل گردا بابر، آر ایچ سی یونین کونسل شیخان،  یول ڈسپنسری یونین کونسل بادینزئی اور کمیونٹی سنٹر ناصرآباد شامل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا نیوٹریشن پروگرام ژوب میں بھی فعال ہے جس کیلئے مالی تعاون عالمی ادارہ برائے خوارک، ڈبلیو ایف پی، یونیسف، صحت کا عالمی ادارہ ڈبلیو ایچ او اور یو ایس ایڈ کرہے ہیں جبکہ ایمرجنسی ریلیف فار ریفیوجیز پروگرام سے 6 سے 59 ماہ کی عمر کے بچوں کوغذائی خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔

متعدد مراکز صحت پر غذائی مدد میسر نہ ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں ںے بتایا کہ 2022 کے پہلے چھ مہینے میں سہ ماہی بنیادوں پر ان کے ضلعے کو ایک ہزار کارٹن غذائی خوراک (ریڈی ٹو یوز تھیراپیٹک فوڈ، آی ایف اے یا آئرن فولک ایسڈ کی گولیاں) موصول ہوئی جس کے بعد دسمبر تک امداد بند رہی جبکہ رواں سال جب دوبارہ غذائی قلت پر قابو پانے اک پروگرام دوبارہ شروع ہوا تو تب سے مہنے میں سو کارٹن ملتے ہیں جو کافی نہیں ہوتے۔

 پولیو پروگرام ای پی آئی سے اخذ شدہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اجمل خان نے بتایا کہ ضلع ژوب کی پانچ یونین کونسلوں میں غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد 18 ہزار 215 ہے جن میں 7015 دودھ پلانے والی یا حاملہ خواتین ہیں۔

مراد بی بی( فرضی نام)  کا تعلق ضلع ژوب سے تقریبا 60 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاوں سے ہے۔ وہ ہر تین مہینے بعد ژوب کے بازار میں واقع ایک کلینک آتی ہیں جہاں انہیں اور ان کے بچے کو سہ ماہی بنیاد پر 15 سے 20 ہزار روپے مالیت کی ایسی ادویات دی جاتی ہیں جن سے غذائی قلت پوری ہو جاتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی عمر 35 سال ہے اور ان کے چار بچے ہیں، سب سے چھوٹا بیٹا دو مہینے کا ہے جس کو وہ اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خرابی صحت کےباعث ان کا دوودھ بچے کے کافی نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں دودھ پلانے کے بعد خود انہیں درد ہونے لگتا ہے اور چکر آتے ہیں۔ چونکہ ان کے علاقے میں غذائیت کے حوالے سے سرکاری سطح مدد میسر نہیں اس لیے انہیں یہاں آنا پڑتا ہے۔

طبی ماہر ڈاکٹر جمیلہ کا کہنا ہے کہ جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا پاتیں یا انہیں درست طریقے سے دودھ پلانا نہیں آتا ان کے بچے بھوکے رہتے ہیں اور رفتہ رفتہ غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچے کو ایسی بوتل میں دودھ پلایا جائے جو صاف نہ ہو تو اس کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور قے و اسہال کے نتیجے میں اس کے جسم سے ضروری نمکیات خارج ہو جاتے ہیں جو غذائی قلت کا سبب بنتے ہیں۔

"جب ماں کی اپنی بنیادی غذا پوری نہ ہو اور وہ ہر سال بچے پیدا کرے گی تو ماں اور بچے دونوں کی صحت پر اثر پڑےگا۔ بچوں میں کم سے کم دو سال کا وقفہ ضروری ہے۔ ایک تو اس سے ماں دوبارہ صحت یاب ہو گی جبکہ اس طرح بچے کو بھی ماں کا دودھ مکمل طور پر مل جائے گا اور یوں دونوں کسی حد تک غذائی قلت کے خطرے سے بچ جائیں گے۔"

ضلع ژوب کی آبادی ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہے اور یہاں تقریباً 50 ہزار گھرانے آباد ہیں۔ یہاں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.30 فیصد ہے۔ غذائیت کے حوالے سے قومی سروے 2018 کے مطابق ضلع ژوب میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد میں سالانہ سات فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سیلاب کے بعد بلوچستان میں غذائی قلت بڑھ گئی، لاکھوں بچوں کی بڑھوتری خطرے سے دوچار

بلوچستان میں پانی کی قلت اور خشک سالی کے حالیہ ادوار نے صوبے کے 33 اضلاع میں سے 20 کو شدید متاثر کیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تقریباً ایک لاکھ خاندان اور سترہ لاکھ مال مویشی پانی کی قلت اور خشک سالی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس سے صحت اور غذائیت کے سنگین مسائل نے جنم لیا ہے۔

اجمل خان کے مطابق غذائی پروگرام کا آغاز بنیادی مراکز صحت میں شروع کرنا ہوتا ہے لیکن اکثر علاقوں میں اول صحت کی سہولیات سرے سے ہی موجود ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ غیر فعال ہیں۔ لوگ مراکز صحت میں ڈیوٹی دینے سے پرہیز کرتے ہیں یا سرے سے وہاں جاتے ہی نہیں۔
ڈی ایچ او ژوب کے دفتر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ضلع کے بیشتر علاقوں میں مراکز صحت غیرفعال یا جزوی فعال ہیں جن میں مہینوں بعد بنیادی ضرورت کی ادویات آتی ہیں جو ایک سے دو روز میں تقسیم ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔

اجمل خان کے مطابق ضلع میں موجودہ پانچ او ٹی پیز سے غذائی قلت پر قابو پانا مشکل ہے۔ اسی لیے مدد کے لیے یونیسف سے رابطہ کیا گیا جس کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ضلع ژوب کی ان یونین کونسلوں میں مزید 10او ٹی پیز سنٹر بنائے جائیں گے جہاں غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے

تاریخ اشاعت 4 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے عطا کاکڑ فری لانس صحافی ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.