کاروبار رواں، سماجی ذمہ داریاں مفقود: حیدر آباد کے بازاروں میں خواتین خریداروں کے لیے سہولیات کا فقدان

postImg

پون کمار

postImg

کاروبار رواں، سماجی ذمہ داریاں مفقود: حیدر آباد کے بازاروں میں خواتین خریداروں کے لیے سہولیات کا فقدان

پون کمار

عمرکوٹ کی تحصیل سامارو سے تعلق رکھنے والی سنیتا تقریباً 137 کلومیٹر فاصلہ طے کر کے حیدرآباد کے ریشم بازار میں خریداری کے لیے آئی ہیں۔ انہوں نے اپنی بہن اور ایک بھائی کی شادیوں کے لیے کپڑے اور جوتے خریدنا ہیں جس کے لیے یہ بازار بہترین جگہ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن یہاں آ کر وہ مشکل میں پڑ گئی ہیں کیونکہ اس جگہ خواتین کے لیے نہ تو کوئی بیت الخلا ہے اور نہ ہی پینے کا پانی دستیاب ہے۔

سنیتا اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ صبح سات بجے گھر سے نکلی تھیں اور خریداری کرتے ہوئے انہیں رات کے آٹھ بج گئے ہیں۔ بازار میں طویل وقت صرف کرنے کے بعد سستانے اور بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے انہیں رکشہ لے کر حیدرآباد میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں جانا پڑا۔

اس طرح آنے جانے میں ان کے دو گھنٹے ضائع ہو گئے اور وہ خریداری مکمل نہیں کر سکیں۔ اب انہیں مزید ایک دن حیدرآباد میں رہنا پڑے گا کیونکہ عمرکوٹ آنے جانے پر بہت سا وقت اور پیسہ خرچ ہو گا جس کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔

حیدرآباد کا ریشم بازار ایک پہاڑی پر قائم ہے جہاں کبھی جنگل ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ جگہ کنکریٹ کا جنگل بن چکی ہے۔ یہ بازار خواتین کے ملبوسات، جوتے، میک اپ کے سامان اور چوڑیوں کے حوالے سے خاص شہرت رکھتا ہے۔

اس بازار کی دکاندار ایسوسی ایشن کے صدر محمد طارق کا کہنا ہے ''کہ یہ بازار حیدرآباد میں خریدوفروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں سندھ بھر سے روزانہ تقریباً دس ہزار خواتین آتی ہیں۔ اکثر خواتین یہ شکایت کرتی ہیں کہ بازار میں بیت الخلا، پینے کے صاف پانی اور آرام کرنے کی سہولیات نہیں ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت گاہکوں کو یہ سہولتیں دے سکیں۔''

ریشم بازار کے علاوہ حیدرآباد کی کلاتھ مارکیٹ، لطیف آباد نمبر سات، پریٹ آباد، لیاقت کالونی ، قاسم آباد اور چاندنی مارکیٹ سمیت دیگر بازاروں میں بھی خواتین خریداروں کے لیے بیت الخلا کی علیحدہ سہولت میسر نہیں ہے۔ ان حالات میں شہر اور سندھ کے دیگر علاقوں سے خریداری کے لیے آنے والی خواتین کو سخت پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔

<p>بازار میں بیت الخلا، پینے کے صاف پانی اور خواتین کے بیٹھنے کے لیے مناسب سہولیات نہیں ہیں<br></p>

بازار میں بیت الخلا، پینے کے صاف پانی اور خواتین کے بیٹھنے کے لیے مناسب سہولیات نہیں ہیں

دو بیٹیوں کے ساتھ ٹنڈو محمد خان سے ریشم بازار آنے والی آمنت نے بتایا کہ انہیں گھر سے یہاں تک پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ بسوں کا تھکا دینے والا سفر کرنے کے بعد بازار میں دوران خریداری آرام کی ضرورت پڑتی ہے تو بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ نہ تو دکانداروں نے گاہکوں کی سہولت کے لیے کوئی انتظام کیا ہے اور نہ ہی انتظامیہ نے اس جانب توجہ دی ہے۔

ریشم بازار اور خریداری کے ایسے دیگر مقامات پر خواتین کے لیے بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کے بارے میں جب حیدرآباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو قائم نمائی سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ''بازاروں اور شاپنگ مال میں بیت الخلا بنوانا ضلعی انتظامیہ کا کام نہیں بلکہ یہ میونسپل کارپوریشن اور مارکیٹ کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہم ایسے معاملات میں لوگوں کو سہولت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔''

سیہون شہر سے آنے والی ایک عمررسیدہ خاتون کلثوم نے بتایا کہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث انہیں دن میں کئی مرتبہ بیت الخلا میں جانا پڑتا ہے۔ چونکہ اس بازار میں خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے اس لیے یہاں آ کر انہیں اور ان جیسی بہت سی خواتین کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

فیصل آباد کے بازاروں میں شعلہ اُگلتے 'اژدھے' اور انتظامیہ کی بانسری

حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر فاروق خان سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ چند ہی روز پہلے اس عہدے پر آئے ہیں اس لیے صورتحال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ تاہم انہوں ںے یقین دلایا کہ وہ دکانداروں کی تنظیم کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔

اس مسئلے کے بارے میں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر فاخر شاکر کا کہنا ہے ''چند جگہوں پر بیت الخلا ضرور موجود ہیں لیکن سماجی روایات خواتین کو وہاں جانے سے روکتی ہیں۔ بازاروں میں بیت الخلا بنوانا بلدیہ کا ہی کام ہے لیکن ہمارے پاس اس مقصد کے لیے بجٹ نہیں ہوتا البتہ جہاں ضرورت اور گنجائش ہو وہاں ہم لوگوں کو سہولیات فراہم کرتے رہتے ہیں۔''

انہوں ںے یہ بھی بتایا کہ جن بازاروں میں خواتین کے لیے بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں ہے وہاں اس کا اہتمام کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو لکھ دیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت 2 مارچ 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

پون کمار کا بنیادی طور پر تعلق ضلع عمرکوٹ، سندھ سے ہے، گذشتہ 9 برس سے حیدرآباد میں صحافت کر رہے ہیں۔

thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.