بیٹھنے کی جگہ ہے نہ بیت الخلا: میانوالی کا ادھورا بس اڈا مسافروں کے لیے زحمت بن گیا

postImg

فیصل شہزاد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بیٹھنے کی جگہ ہے نہ بیت الخلا: میانوالی کا ادھورا بس اڈا مسافروں کے لیے زحمت بن گیا

فیصل شہزاد

loop

انگریزی میں پڑھیں

میانوالی کے محمد رومان خان سول سیکرٹیریٹ لاہور میں ملازم ہیں۔ ہر جمعے کی شام وہ اپنے آبائی شہر جاتے ہیں اور اتوار کی شام لاہور کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پچھلے دو سال سے انہیں میانوالی کے لاری اڈے پر شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس جگہ کوئی ویٹنگ روم (انتظارم گاہ) نہیں ہے اور شدید گرمی سردی میں انہیں سڑک پر کھڑے ہو کر بس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

شفیق احمد کپڑے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے سسرال کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ اکثر اپنے بیوی بچوں کو سرگودھا لے جانے کے لیے اسی اڈے سے بس پکڑتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ساتھ بیوی بچے سفر کر رہے ہوں تو زیادہ پریشانی ہوتی ہے کیونکہ اس اڈے پر نہ تو بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ ہی کہیں سایہ دکھائی دیتا ہے حتیٰ کہ بیت الخلا کی سہولت بھی نہیں ہے۔

تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں میانوالی میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تھے۔ لاری اڈے کی تعمیرنو کا منصوبہ انہی میں سے ایک ہے۔ 27 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے اس منصوبے میں بسوں کے ٹرمینل، ٹوائلٹ بلاک اور مسافر خانہ تعمیر کیا جانا تھا۔

تعمیرنو کا یہ عمل مارچ 2023ء میں مکمل ہونا تھا مگر نگران حکومت آنے کے بعد اس کے لیے فنڈ جاری نہیں کیا گیا نتیجتاً ٹھیکیدار نے کام روک دیا۔

اب اڈے کی نئی عمارت کا ڈھانچہ تیار ہو چکا ہے۔ تعمیراتی کام شروع ہونے کے بعد تمام بس ٹرمینل سروس روڈ پر منتقل کر دیے گئے تھے جہاں بڑی تعداد میں مسافر بسوں پر سوار ہوتے اور اترتے ہیں۔

ٹرمینل کی سڑک پر منتقلی سے صفائی کا انتظام بھی خراب ہو گیا ہے۔ ملازمت کے لیے پچھلے 10 سال سے عیسیٰ خیل جانے آنے والے احمد جمال خان کہتے ہیں کہ سڑک پر بس سٹینڈ بنا دینے سے گندگی کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کچھ دیر کھڑا ہونا بھی محال ہے۔

میانوالی میں تعینات ایس ڈی او بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ فیض شبیر کا کہنا ہے کہ اس جگہ سٹیٹ آ'ف دی آرٹ' لاری اڈا بنایا جا رہا ہے جس سے مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کے علاوہ شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ اڈے کے لیے مختص کیے جانے والے 27 کروڑ 40 لاکھ روپے میں سے اب تک صرف 10 کروڑ روپے کے قریب ہی فنڈ جاری ہوئے ہیں۔

"بدقسمتی سے حکومت کی تبدیلی کے بعد فنڈ روک دیے گئے تھے ورنہ مارچ 2023ء میں یہ منصوبہ تکمیل کو پہنچ جاتا۔ ہماری کوشش ہے کہ فنڈ میسر آنے پر جلد از جلد اسے مکمل کر لیا جائے کیونکہ روزانہ ہزاروں مسافروں کو تکلیف اٹھانا پڑ رہی ہے"۔

نیازی ایکسپریس میانوالی کے منیجر فیصل خان نے لوک سجاگ کو بتایا کہ لاری اڈے کی تکمیل میں تاخیر سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہونے سے دن کے وقت نکلنے والی بسوں میں مسافروں کی تعداد نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔

"ہمیں مجبوراً  کم بسیں چلانا پڑ رہی ہیں۔ سڑک پر منتقلی سے قبل ہر ایک گھنٹے بعد اڈے سے بس نکلتی تھی لیکن اب ہر تین گھنٹے بعد نکلتی ہے اور اس میں بھی سواریاں بمشکل پوری کی جاتی ہیں۔

ٹرانسپورٹروں کے علاوہ شہر کے سیکڑوں رہائشیوں کا روزگار بھی اسی لاری اڈے سے منسلک ہے۔ ان میں ایک مشہور چائے خانے کے مالک خدا بخش بھی ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ وہ لاری اڈے میں گزشتہ 35 سال سے چائے خانہ چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پشاور میٹرو بس سروس: شہریوں کے لیے سہولت یا خزانے پر بوجھ؟

"اڈے کی ازسر نو تعمیر کے لیے ہونے والی کھدائی سے ہر طرف مٹی کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس کی وجہ سے اب ہماری دکان تک پیدل ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ پہلے ہمارے پاس تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی لیکن اب اکا دکا لوگ ہی یہاں چائے پینے آتے ہیں۔"

لاری اڈے پر کام کرنے والے سرکاری ٹھیکیدار عطا اللہ خان نے بتایا کہ اس منصوبہ کا تقریباً نصف کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب حکومت کی طرف سے فنڈ روکے جانے کے سبب کام بند پڑا ہے۔ اڈے کا مرکزی ڈھانچہ اور سیوریج کا نظام مکمل تیار ہو گیا ہے جبکہ مسافر خانہ اور ٹوائلٹ بلاک زیرِ تعمیر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر فنڈ جاری کر دیے جائیں تو چھ ماہ میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔

تاریخ اشاعت 22 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فیصل شہزاد کا تعلق میانوالی سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں اور گزشتہ 5 سال سے محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.