لیہ کے کسانوں میں تِل کی فصل کاشت کرنے کا رحجان کیوں بڑھ رہا ہے؟

postImg

صابر عطا

postImg

لیہ کے کسانوں میں تِل کی فصل کاشت کرنے کا رحجان کیوں بڑھ رہا ہے؟

صابر عطا

چودھری محمد عباس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس بار اپنے 30 ایکڑ اراضی پر صرف تِل کی فصل کاشت کریں گے۔

وہ جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں 150 ایکڑ زرعی رقبے کے مالک ہیں۔ اس میں سے 70 ایکڑ پر انھوں نے مالٹے کا باغ لگا  رکھا ہے جبکہ باقی 80 ایکڑ  پر وہ کپاس، مونگ اور سبز چارہ کاشت کرتے آئے ہیں۔

اس مرتبہ وہ دوسری فصلوں کے زیر کاشت رقبے میں کمی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اراضی پر تِل اگانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے یہ فیصلہ اس فصل سے حاصل ہونے والے زیادہ منافعے کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔

عباس بتاتے ہیں کہ پچھلے سال انھوں نے 10 ایکڑ رقبے پر تِل کاشت کیے تھے جس سے انہیں صرف چار ماہ میں پانچ لاکھ سے بھی زیادہ منافع حاصل ہوا جبکہ کپاس اور مونگ کی فصلیں جو تِل سے تین گنا زیادہ رقبے پر لگی ہوئی تھیں ان سے بھی وہ اتنا منافع نہیں کما سکے۔

تل ایک تیل دار فصل ہے جسے اعلیٰ معیار کے تیل اور پروٹین کی وجہ سے فصلوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ تل کے بیج میں تیل کی مقدار 50 سے 58 فیصد اور پروٹین 22 فیصد تک ہوتی ہے۔

تِل کے بیج کچے بھی کھائے جاتے ہیں اور کنفیکشنری کے علاوہ مٹھائیوں اور بیکری کی مصنوعات کے ساتھ صابن، پرفیوم، سبزیوں کے تیل اور کاربن پیپر میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

تل کی کاشت کے لیے لیہ جیسے گرم اور خشک آب و ہوا والے علاقے انتہائی ساز گار ہیں۔

اسی ضلعے سے تعلق رکھنے والے کاشتکار ملک محمد فہد پہلی بار 12 ایکڑ رقبے پر تل کی فصل کاشت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ ان کی کل ملکیتی زمین 20 ایکڑ ہے۔

فہد نے بھی اس بار کپاس اور مونگ کے زیر کاشت رقبے میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عباس کی طرح وہ بھی زیادہ منافعے کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن ان کی نظر میں اس فصل پر آنے والے کم اخراجات بھی اس فیصلے کا ایک بڑا سبب ہیں۔

ملک فہد اور چودھری عباس کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کپاس کی فصل کی پیداوار میں کمی آتی جارہی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کا خرچ بھی پورا نہیں ہوتا۔

عباس کہتے ہیں کہ تل کی فصل کو دو سے تین بار پانی دینا پڑتا ہے۔ بارش ہوجائے تو پھر اس کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

اس کے مقابلے میں کپاس پانچ سے چھ پانی لیتی ہے۔ پھر اس پر کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے اخراجات اس قدر زیادہ ہیں جو کاشت کاروں کی پہنچ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

"مونگ اور کپاس کی چنائی اور کٹائی کی مزدوری کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں جبکہ تِل پر خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے"۔

کپاس کی فصل چھ ماہ کے عرصے کی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تِل ساڑھے تین سے چار ماہ میں تیار ہوجاتے ہیں۔

عباس کہتے ہیں کہ پچھلے سال انھوں نے ایک ایکڑ سے سات من تک تِل کی پیداوار حاصل کی اور اسے منڈی میں 14 ہزار روپے فی من کے حساب سے فروخت کیا۔ اس بار مارکیٹ میں اس کی قیمت 17 سے 18 ہزار روپے فی من تک چل رہی ہے۔

پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ سروس کے اعداد شمار سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ 2020ء سے اب تک تل کی قیمت میں دو گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

2020ء میں مارکیٹ میں ایک سو کلو گرام تل 22 ہزار 850 روپے میں ملتے تھے لیکن آج ان کی قیمت 44 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

اس کے مقابلے میں مونگ کی قیمت میں ان چار سال میں صرف پانچ ہزار روپے فی سو کلو گرام  کا اضافہ ہوا ہے۔ 2020ء میں سو کلو گرام مونگ کی قیمت 16 ہزار 746 روپے تھی جو آج 21 ہزار 362 روپے ہے۔

تِل دھرنے کی جگہ نہیں رہے گی

عباس کہتے ہیں کہ جس طرح انھوں نے تل کے اپنے زیرکاشت رقبے میں اضافہ کیا ہے اسی طرح ان کے ضلعے میں اور لوگ بھی اسے پہلے سے زیادہ رقبے پر کاشت کررہے ہیں۔

"ضلعے میں ریتلہ یا کمزور رقبہ رکھنے والے کاشت کار جو پہلے مونگ کی فصل کاشت کرتے تھے وہ بھی اس بار تِل لگا رہے ہیں"۔

لیہ پاکستان کا وہ ضلع ہے جہاں تِل کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ 2022ء میں یہاں ایک لاکھ 62 ہزار ایکڑ رقبے پر یہ فصل اگائی گئی تھی جو پنجاب میں اگنے والی تِل کی مجموعی فصل کا 27 فیصد تھی۔

خانیوال، پاکپتن اور ساہیوال میں بھی تِل بڑے پیمانے پر کاشت ہوتے ہیں لیکن پچھلے سال ان تینوں اضلاع میں اس فصل کا زیر کاشت رقبہ 27 فیصد تھا جبکہ اکیلے لیہ میں اتنے ہی رقبے پر تِل کاشت کیے گئے۔
ملک بھر میں مجموعی طور پر تل کے زیر کاشت رقبے میں پچھلے کچھ سال کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔

جس طرح پنجاب میں سب سے زیادہ تِل لیہ میں اگائے جاتے ہیں اسی طرح ملک بھر میں تِل کی فصل میں پنجاب کا حصہ 89 فیصد ہے۔

لیہ میں 11 لاکھ 88 ہزار ایکڑ رقبہ زیر کاشت ہے جس میں سے نو لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبہ آبپاش اور پونے تین لاکھ ایکڑ کے قریب غیر بارانی ہے۔

اس ضلع میں سب سے زیادہ لگائی جانے والی فصلوں میں گندم، چنا، کپاس، مونگ، گنا اور چاول ہیں۔ اب تل بھی اب اس علاقے کی ایک اہم فصل بن گئی ہے۔

اس سال چونکہ تل کی فصل کاشت کے مرحلے میں ہے اور حکومت نے تل کے متوقع زیر کاشت رقبے کے حوالے سے اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے لیکن پچھلے سال کی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تب پنجاب میں چھ لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تِل کاشت کئے گئے تھے۔

پنجاب میں یہ 2021ء کی نسبت 39 فیصد اضافہ تھا۔

لیہ میں بھی پچھلے سال یہ فصل 16 فیصد زیادہ رقبے پر کاشت کی گئی تھی۔

<p>تِل کی فصل کو پانی بھی کم لگتا ہے اور خرچہ بھی کم آتا ہے<br></p>

تِل کی فصل کو پانی بھی کم لگتا ہے اور خرچہ بھی کم آتا ہے

پاکستان میں فصلوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے تیل دار اجناس سے متعلق شعبے کے سائنسدان مبشر احمد خان کسانوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے امید ظاہر کررہے ہیں کہ اس بار تِل کے زیر کاشت رقبے میں مزید اضافہ ہوگا۔

محکمہ زراعت (توسیع) تحصیل چوبارہ کے عہدیدار غلام مصطفیٰ اپنے ضلعے میں تِل کی کاشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تیل دار اجناس کے فروغ کے لئے دی جانے والی سرکاری مراعات سے جوڑتے ہیں۔

محکمہ زراعت پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق سال 2019ء میں تیل دار اجناس کے فروغ کے لیے پانچ سال قومی منصوبہ شروع کیا گیا تھا جس کی کل لاگت پانچ ارب ساڑھے گیارہ کروڑ روپے ہے۔

اس منصوبے کے تحت تِل کے فروغ کے لیے کسانوں کو فی ایکڑ پر مراعات دینے کے علاوہ لیہ سیمت پنجاب کے بعض دوسرے اضلاع میں نمائشی پلاٹوں پر فصل کی کاشت پر فی ایکڑ 15 ہزار روپے بھی دیے جارہے ہیں۔

مبشر احمد خان سرکاری مراعات کے علاوہ اس رجحان کو بھی تِل کی بڑھتی ہوئی برآمد سے بھی جوڑتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں اگائی جانے والی زیادہ تر فصل چین برآمد کی جاتی ہے جہاں پر اس کی کھپت بہت زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔

لیہ کی غلہ منڈی میں تِل کی خریدوفروخت کا کام کرنےو الے آڑھتیوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ تیل دار اجناس خاص کر تل کی عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مانگ کے پیچھے چین کی ڈیمانڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سرسوں کی معجزاتی واپسی: پاکستان میں 1973ء کے بعد سرسوں کی سب سے بڑی فصل

ان کا کہنا ہے کہ چین میں تل کی بڑھتی ہوئی طلب کی بدولت پاکستانی مارکیٹ میں پچھلے سال ایک من تِل کی قیمت نو ہزار روپے تھی جو اب بڑھ کر 17 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

2021-22 کے مالی سال میں پاکستان نے ریکارڈ ایک لاکھ 38 ہزار میٹرک ٹن تِل برآمد کئے جس سے 32 ارب 65 کروڑ روپے سے زیادہ منافع حاصل ہوا۔

اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں تِل کی برآمد میں 74 فیصد اور قیمت میں 131 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی 16 جون 2022ء کو جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان اور چین کے درمیان اس فصل کی بڑھتی ہوئی تجارت کا سبب دونوں ملکوں کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تِل کے بیجوں کی برآمد پر ایکسپورٹ ڈیوٹی نہیں لگائی گئی۔

چین نے مالی سال 2022ء کے پہلے تین ماہ میں دنیا کے مختلف ممالک سے تقریباً 60 کروڑ ڈالر مالیت کے تقریباً چار لاکھ ٹن تِل درآمد کیے ہیں۔

چین کو تِل برآمد کرنے والے ملکوں میں نائیجر، ٹوگو اور سوڈان سرفہرست ہیں جبکہ پاکستان کا چھٹا نمبر ہے جس کا چین کو تِل کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 7.67 فیصد حصہ ہے۔

(اس رپورٹ کی تیاری میں لاہور سے آصف ریاض نے معاونت فراہم کی)

 

تاریخ اشاعت 1 مئی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

صابرعطا کا تعلق لیہ سے ہے۔صحافی ،شاعر اور محقق ہیں قومی اخبارات میں فیچر شائع ہوتے ہیں ۔ مختلف ویب سائیٹس کے لیے بھی تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔

thumb
سٹوری

مرد کے لیےطلاق آسان لیکن عورت کے لیےخلع مشکل کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر
thumb
سٹوری

بھنبھور: ہاتھی دانت کی صنعت کا سب سے بڑا مرکز

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

میدان جنگ میں عید: ایک وزیرستانی کا عید کے لیے اپنے گھر جانے کا سفرنامہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
thumb
سٹوری

پاکستان میں صنعتیں کلین انرجی پر چلانا کیوں مشکل ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

بلوچستان: عالمی مقابلے کے لیے منتخب باکسر سبزی منڈی میں مزدوری کر رہا ہے

thumb
سٹوری

گوڑانو ڈیم: تھر کول مائننگ کا پانی کیسے آبادیاں اور ارضیاتی ماحول تباہ کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

جھنگ: سیم اور تھور ہماری زمینوں اور گھروں کو نگل گیا

thumb
سٹوری

نارنگ منڈی میں فرقہ واریت کی آگ کون بھڑکا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ

پہاڑ نے بدلے میں قدرتی جنگل سے نواز دیا

thumb
سٹوری

'قراقرم ہائی وے پر بڑھتے حادثات کی وجہ کیا ہے، انسانی غلطی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

ضلع مہمند: "ہمارا وطن مشکلات کا وطن ہے"

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.