غیرمسلم پاکستانیوں کے لیے بنائے گئے شادی، طلاق اور وراثت کے قوانین: ایک عدالتی اور پارلیمانی تاریخ۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

غیرمسلم پاکستانیوں کے لیے بنائے گئے شادی، طلاق اور وراثت کے قوانین: ایک عدالتی اور پارلیمانی تاریخ۔

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

غیرمسلم پاکستانیوں کے لیے بنائے گئے شادی، طلاق اور وراثت کے قوانین: ایک عدالتی اور پارلیمانی تاریخ۔

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

ہندوستان کی تقسیم سے پہلے برطانوی حکمرانوں نے اس خطے میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خاندانی معاملات میں ان کے روایتی قاعدے قوانین ہی لاگو رکھنے کا راستہ اپنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ برصغیر میں بسنے والے مختلف مذاہب کے لوگ شادی، طلاق، وراثت اور ایسے دیگر خاندانی معاملات میں الگ الگ رسوم و روایات اور مذہبی قواعد پر عمل کرتے تھے۔

تاہم انگریز حکمرانوں نے مسیحیوں اور ہندوؤں میں رائج شادی، طلاق اور وراثت سے متعلق روایات اور قواعد کو چند قوانین میں ڈھال دیا جن میں 1869 کا مسیحی طلاق ایکٹ، 1872 کا مسیحی شادی ایکٹ اور 1929 کا ہندو وراثت ایکٹ نمایاں ہیں۔ 

قیام پاکستان کے بعد پہلی تین دہائیوں میں اقلیتوں کے خاندانی معاملات میں چند تبدیلیوں کے ساتھ انہی قوانین پر عمل ہوتا رہا تاہم ضیاالحق کی حکومت کے دوران 1980 کی دہائی کے آغاز میں پہلی مرتبہ ان میں ایک اہم تبدیلی لائی گئی جس کے بعد اب تک انسانی حقوق اور ملکی آئین کے تقاضوں کے مطابق متعدد مزید تبدیلیاں بھی کی جا چکی ہیں۔  

ذیل میں پاکستانی مسیحیوں، ہندوؤں، سکھوں اور کیلاش مذاہب کے ماننے والوں کے شادی بیاہ، طلاق اور وراثت سے متعلق قوانین میں ترامیم کے لیے کی جانے والی کوششوں، اس سلسلے میں متعارف کرائی گئی مختلف تبدیلیوں اور نئی قانون سازی کی زمانہ وار تفصیل دی گئی ہے۔

مسیحی عائلی قوانین میں تبدیلیاں اور قانون سازی

پاکستان میں مسیحیوں کے لیے رائج خاندانی معاملات کے قوانین کم و بیش 1869 کے مسیحی طلاق ایکٹ اور 1872 کے مسیحی شادی ایکٹ کا تسلسل ہی ہیں۔

1869میں نافذ کیے گئے طلاق ایکٹ کی رو سے مسیحی جوڑوں میں طلاق کے لیے بدچلنی، دوسری شادی یا ریپ کو بنیاد بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ شوہر یا بیوی کے مذہب تبدیل کرنے کی صورت میں بھی طلاق ممکن تھی۔

جنوری 1981 میں اس وقت کے صدر ضیا الحق کی حکومت نے اس ایکٹ کی دفعہ 7 ختم کر دی۔ اس تبدیلی کے بعد مسیحی جوڑوں میں علیحدگی قانونی طور پر صرف اسی صورت میں ممکن تھی جب شوہر یا بیوی میں سے کوئی فرد بدچلنی کا مرتکب ہوا ہو۔

2011 میں پاکستان میں خواتین کی صورتحال کے بارے میں قائم کیے گئے قومی کمیشن نے اس قانون پر اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد چند مسودہ ہائے قوانین تیار کیے تاہم حکومت انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہ کر سکی۔ 

2012   میں خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی نگران کمیٹی نے اپنے جائزے میں تجویز کیا کہ شادی اور طلاق کے مسیحی قوانین کو بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ 

2013 میں ایک از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ پنجاب کے 20 اضلاع میں 150 پادری اور بشپ پنجاب حکومت سے لائسنس یافتہ ہیں اور صرف انہی کے سامنے کی گئی شادیاں رجسٹرڈ مانی جائیں گی۔ 

2014 میں وفاقی حکومت نے کرسچن میرج ایکٹ 1872 اور طلاق ایکٹ 1869 میں ترمیم کرنے کے لیے ڈرافٹ بل تیار کیے مگر ان پر مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔

جنوری 2015 میں امین مسیح نامی شخص نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے مگر اس کے لیے وہ اسے بدچلنی کا مرتکب نہیں ٹھہرانا چاہتا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ 7 کی عدم موجودگی میں مسیحی جوڑوں کے لیے گھریلو ناچاقی یا کسی اور وجہ سے طلاق دینا یا لینا ممکن نہیں رہا جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ امین مسیح نے عدالت سے درخواست کی کہ اس دفعہ کو بحال کیا جائے تاکہ مسیحیوں کے لیے طلاق کا عمل آسان ہو سکے۔  

مارچ 2017 میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اس وقت کے وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پنجاب اسمبلی مسیحی خاندانی قوانین میں مزید ترمیم کرے گی۔

مئی 2017 میں حکومت ِپاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی دو سالہ رکنیت کے لیے ہونے والے انتخابات سے قبل انسانی حقوق کی پاسداری کے عہد کا تحریری اعلان اقوامِ متحدہ کے دفتر میں جمع کروایا جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ملک میں مسیحی خاندانی قوانین میں جائز ترامیم کی جائیں گی۔

جون 2017 میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ دیا کہ دفعہ 7 ایک غیر جمہوری حکومت نے حذف کی تھی اور اس سلسلے میں مسیحیوں کے چرچ یا ان کے رہنماؤں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی اس لیے اس کا خاتمہ ایک غیر آئینی اقدام تھا۔اس دفعہ کی بحالی کے بعد مسیحی خواتین کو طلاق لینے کے لیے بدچلنی جیسے الزام کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور طلاق کے لیے دیگر وجوہات کو بھی بنیاد بنایا جا سکے گا۔ لیکن اسی سال اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی گئی جو لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے پاس زیرِ التوا ہے۔

2017 میں انسانی حقوق کی وفاقی وزارت نے مسیحی شادی اور طلاق کے ایکٹ میں ترمیم سے متعلق دو بِل تصحیح اور ترمیم کے لیے وزارتِ قانون کو بھجوائے جس کے بعد انہیں کابینہ کو پیش کیا جانا تھا۔

ستمبر 2019 میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مسیحی شادی اور طلاق کا ایکٹ منظور کر لیا گیا۔ لیکن مسیحی مذہبی حلقوں کا کہنا تھا کہ ایکٹ کی منظوری سے قبل ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور  یہ کہ اس کی بعض شقیں ان کے مذہبی احکامات کے منافی ہیں۔ 

فروری 2021 میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اعلان کیا کہ حکومت نے مسیحی شادی اور طلاق ایکٹ کا ترمیمی بل تیار کر لیا ہے جسے جلد قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ 

2021 میں شہزاد فرانسس اور صابر مائیکل نامی دو شہریوں نے طلاق ایکٹ کی دفعہ 10 کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جو جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ اس دفعہ کے تحت ایک مسیحی جوڑے میں طلاق صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ان میں سے کوئی ایک زنا کا مرتکب ہوا ہو۔

ہندو، سکھ اور کیلاش برادری کے عائلی قوانین میں تبدیلیاں اور قانون سازی

تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان میں ہندوؤں کی شادیوں اور طلاقوں کو رجسٹر کرنے کا کوئی طریقہ کار وضع نہ کیا جا سکا جس کے نتیجے میں پاکستانی ہندوؤں کو کئی طرح کے سماجی و قانونی مسائل کا سامنا رہا۔ نچلی ذات (شیڈولڈ کاسٹ) کے ہندو ان مسائل سے خاص طور پر متاثر ہوئے۔ 

شادی رجسٹریشن کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ہندوؤں کو نوکری، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ڈومیسائل کے حصول، ووٹ کے اندراج اور وراثت کے حق جیسے بہت سے معاملات میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

2000 میں رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی خاتون گُڈی مائی نے ایک مقامی عدالت میں درخواست دی کہ ہندو شادی کی رجسٹریشن کا قانون نہ ہونے کے باعث وہ شوہر سے علیحدگی کے بعد اس سے اپنا اور اپنے بچوں کا مالی حق نہیں لے سکتی۔ علیحدگی کے بعد اس خاتون کے شوہر نے اسے اپنی بیوی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے میں اس خاتون کو اپنی شادی ثابت کرنے کے لیے واقعاتی شہادتیں پیش کرنا پڑیں جنہیں عدالت نے تسلیم کیا اور قرار دیا کہ ہندو شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔

دسمبر 2008 میں ہندوؤں کی تنظیم ہرے رام فاؤنڈیشن نے حکومت پاکستان کو ہندو شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک قانون کا مسودہ پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں فوری قانون سازی کی جائے۔ اس وقت کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے اس تنظیم کو تین ماہ میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی۔

جنوری 2015 میں سونیا تلریجہ نامی خاتون نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہندوﺅں کی وارثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق پاکستان میں 1929کا قانون رائج ہے جو اس وقت کے مقامی رسم و رواج کی بنیاد پر وضع کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت ہندو مردوں کو وراثت کے سلسلے میں خواتین پر فوقیت حاصل ہے جو کہ دستور پاکستان کے منافی ہے کیونکہ پاکستانی آئین کے تحت جنس کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاسکتا ۔درخواست میں انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں 1956 میں برطانوی دور کے قانون میں ترمیم کر کے وراثت کے حوالے سے خواتین اور مردوں میں امتیاز ختم کردیا گیا تھا لہٰذا پاکستان میں بھی ایسی ہی قانون سازی کی جائے۔

فروری 2016 میں سندھ کی صوبائی اسمبلی نے ہندو میرج بل منظور کر لیا۔ یہ بل صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے اسمبلی میں پیش کیا۔ اس بل کے مطابق صوبہ سندھ میں رہنے والے اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہندو مرد اور عورتیں اپنی مرضی سے اپنی شادی رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں۔ سکھوں اور زرتشت مذہب کے ماننے والوں کی شادیوں کی رجسٹریشن بھی اسی ایکٹ کے تحت ممکن بنائی گئی۔

ستمبر 2016 میں قومی اسمبلی نے ہندو میرج ایکٹ متفقہ طور منظور کر لیا جس کے تحت ہندو شادیوں کی رجسٹریشن کو قانونی حیثیت حاصل ہو گئی۔ یہ بل اس وقت کی حکومت میں انسانی حقوق کے وفاقی وزیر کامران مائیکل نے پیش کیا تھا۔ 

اس قانون کے مطابق شادی کے وقت لڑکے اور لڑکی کی عمریں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہونا لازمی ہے۔ اگر دونوں میاں بیوی ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے الگ رہ رہے ہوں اور وہ شادی ختم کرنا چاہیں تو اس قانون کے تحت ان کی شادی منسوخ تصور کی جائے گی۔ شادی کی منسوخی کے چھ ماہ کے بعد فریقین دوبارہ شادی کرسکتے ہیں اور یہ اقدام غیر قانونی نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ہندو وراثت کے قانون میں صنفی امتیاز: ایک عورت کی اپنا حقِ وراثت منوانے کے لیے طویل عدالتی لڑائی۔

ہندو شادی کی رجسٹریشن کی بابت بنائے گئے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر اس ایکٹ کے تحت چھ ماہ قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ مزید برآں اگر کوئی ہندو شخص اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرتا ہے تو یہ ایک قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ 

مارچ 2018 میں پنجاب اسمبلی نے سکھ میرج ایکٹ کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ اسے پنجاب سکھ آنند کارج ایکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کی رو سے  18 سال سے کم عمر سکھ لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹرڈ نہیں ہو گی۔ سکھ بچے اپنے باپ کی نسل میں شادی نہیں کر سکیں گے، شادی کے لیے چار پھیرے ضروری ہوں گے اور شادی مذہبی کتاب گرو گرنتھ صاحب کی تعلیمات کی روشنی میں رجسٹرڈ ہو گی۔

مئی 2018 میں سندھ کی صوبائی اسمبلی نے ہندو میرج ترمیمی ایکٹ کی منظوری دی جس کے مطابق ہندو خواتین اپنے شوہر کی موت کے چھ مہینے بعد دوسری شادی کر سکتی ہیں۔ اس ترمیم کی رو سے اب ہندو خواتین اپنی شادی ختم کرنے کے لیے بھی درخواست دے سکتی ہیں۔ اس ترمیم میں طلاق کے بعد ماں اور بچوں کے مالی تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ یہ بل پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے نند کمار گوکلانی نے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا تھا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ 

اکتوبر 2020 میں خیبر پختونخوا حکومت نے کیلاش قبیلے کی روایات اور ثقافت کو تحفظ دینے کے لیے کیلاشا میرج ایکٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ اس مجوزہ قانون کے تحت کیلاش قبیلے میں شادیوں، جہیز، طلاق اور وراثت سے متعلق روایات اور ثقافت کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 18 جون 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔