نصف صدی کا قصہ ہے: مانسہرہ کے شِیو مندِر کی ملکیت کا تنازع کب ختم ہو گا؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

نصف صدی کا قصہ ہے: مانسہرہ کے شِیو مندِر کی ملکیت کا تنازع کب ختم ہو گا؟

سید نعمان شاہ

postImg

نصف صدی کا قصہ ہے: مانسہرہ کے شِیو مندِر کی ملکیت کا تنازع کب ختم ہو گا؟

سید نعمان شاہ

درشن لال گذشتہ 27 برس سے پوجا کے لئے ہر ہفتے اپنے شہر ایبٹ آباد سے 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مانسہرہ میں ہندوؤں کی تاریخی عبادت گاہ شِیو مندِر آتے ہیں۔ 

یہ مندِر اسلام آباد کے شمال میں 160 کلومیٹر کی مسافت پر واقع مانسہرہ سے 10 کلومیٹر شمال کی جانب قصبہ گاندھیاں میں چِٹی گَٹی نامی گاؤں میں واقع ہے۔ ہندو دھرم کے ماننے والوں کے نزدیک اس مندِر کے اہمیت کی بنیادی وجہ یہاں موجود 'شِیو لِنگا' (سفید رنگ کا پتھر) ہے جسے وہ وسطی ایشیا کا قدیم ترین مقدس پتھر مانتے ہیں۔ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد بڑی تعداد میں ہندوؤں کی بھارت کوچ کر جانے کی وجہ سے کا یہ تاریخی مندِر غیر آباد ہو گیا تھا۔ 

ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں شعبہ آرکیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شاکر اللہ خان نے سُجاگ کو بتایا کہ گاندھیاں مندِر کا شِیو لِنگا پورے جنوب ایشیا میں سب بڑا اور قدیم لِنگا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "ایک اندازے کے مطابق یہ تقریباً ساتویں صدی سے یہاں پر نصب ہے۔" ان کے مطابق گاندھیاں کے اطراف کے علاقہ میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے چوتھی اور پانچویں صدی کے بدھ مت کے شہروں کے آثار بھی دریافت کیے ہیں۔

انچاس سالہ درشن لال کے مطابق 1992 میں بھارت کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے گرائے جانے کے ردِ عمل میں پاکستان میں مختلف مقامات پر ہندوؤں کی املاک اور مندِروں کو نقصان پہنچایا گیا تو کچھ لوگوں نے اس مندِر کو بھی توڑنے کی کوشش کی۔ مگر یہاں پر مندِر کے اطراف کی زمین کے مالک علی احمد خان نے مقامی افراد کو اس مندِر کو کوئی نقصان نہیں پہنچانے دیا اور خود اس کی حفاظت کی۔ 

اگلے سال ہندو برادری کے اُس وقت کے دو ارکانِ صوبائی اسمبلی سیٹھ بِہاری لال اور گیان سنگھ یہاں آئے اور مندِر کو دوبارہ آباد کرنے کے لئے کوششیں شروع کیں۔ 
درشن لال کہتے ہیں کہ اس کے بعد صوبائی محکمہ اوقاف نے اس ویران مندِر کی دوبارہ تعمیر شروع کی اور ان والد شام لال کو اس معبد کا نگران مقرر کیا۔ رفتہ رفتہ پہلے پاکستان اور بعد میں بیرونِ ملک سے بھی ہندو یاتریوں نے تواتر سے اس مندِر میں پوجا کے لئے آنا شروع کر دیا۔ یہاں سالانہ دو تہوار — فروری کے دوسرے ہفتے میں مہا شیواتری اور ساون (جولائی اگست) کے مہینے میں ناگ پنچمی — کروائے جاتے ہیں۔

درشن لال کے بقول "شروع شروع میں پوجا کے لئے بہت کم لوگ آتے تھے مگر آہستہ آہستہ یاتریوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ فروری 2020 میں مہا شیواتری کے میلہ میں 900 سے زائد ملکی اور غیر ملکی ہندو یاتری شریک ہوئے۔"

اگلے دو سالوں میں کورونہ وبا کی وجہ سے یاتریوں کی تعداد میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔ 

درشن لال کے مطابق مندِر میں یاتریوں کی تعداد تو دن بدن بڑھ رہی ہے مگر یہاں پر یاتریوں کے لئے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے یاتریوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک سال قبل تک تو یہاں پر صرف ایک بیت الخلا تھا۔ 

گذشتہ سال یہاں پر مندِر سے منسلک عمارت کے ساتھ ہی چار بیت الخلا بنائے گئے لیکن یہاں پر آنے والے یاتری اس سے خوش نہیں ہیں کیونکہ درشن لال کے مطابق "ہم بیت الخلا اپنے مقدس مقامات سے دور تعمیر کرتے ہیں۔" وہ کہتے ہیں کہ یہاں آنے والے یاتریوں کو کھانا کھلانے کے لئے لنگر خانہ اور تہواروں کی دیگر تقریبات کے لئے بھی ان کے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔ 

شِیو مندِر کے قریب ہی رہائش پذیر 57 سالہ محمد نواز خان کے مطابق 1972 میں ایک رات کچھ لوگوں نے رات کی تاریکی میں اس پتھر کو کاٹنے کی بھی کوشش کی تاہم ان کے چچا علی احمد خان نے انہیں یہاں سے بھگایا اور مندِر اور اس کے پتھر کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

درشن لال کے مطابق علی احمد خان نے ہی 1993 میں مندِر کی چابیاں ہندو برادری کے سپرد کیں تاہم علی احمد خان اور ان کے خاندان کا یہ دعویٰ ہے کہ مندِر صرف 14 مرلہ زمین پر قائم تھا اس کے علاوہ باقی جگہ ان کی ذاتی ملکیت ہے اس لئے وہ یہاں انہیں دیگر تعیمرات کی اجازت نہیں دیتے۔

دعوے اور حقائق

محمد نواز خان کے مطابق پاکستان بننے کے بعد یہ جگہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے مندِر سمیت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے آنے والے ایک مہاجر کو الاٹ کر دی تھی "جو بعد میں ہمارے والد نے خرید کر اپنے نام کر الی۔" وہ کہتے ہیں کہ 1993 میں جب بِہاری لال اور گیان سنگھ ایک وفد کے ہمراہ اس مندِر کو دیکھنے آئے تو "ہم نے خریدی ہوئی زمین سے مندِر والی جگہ کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں۔"

لیکن دوسری طرف متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایک اہلکار محمد اعجاز صوبائی محکمہ مال کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شِیو مندِر — جس کا قدیمی نام شِوالہ مندِ ہے — چار کنال 13 مرلہ پر محیط ہے جسے 54 برس قبل "جعلی انتقال کے ذریعہ کچھ مقامی لوگوں نے اپنے نام منتقل کروا لیا تھا۔" 

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ محکمہ مال کی 1940-41 کی جمع بندی کے مطابق خسرہ نمبر 64 کے تحت یہ رقبہ شوالہ مندِر کے نام ہے۔ اسی طرح 1946-47 میں سابق خسرہ نمبر 64 کو نیا خسرہ نمبر 86 جاری ہوا تو اس میں بھی یہ رقبہ شوالہ مندِر ہی کے نام رہا۔ چھ سال بعد 1953-54 کی جمع بندی میں بھی شوالہ مندِر کی ہی کا اندراج ہے۔

سنہ 1966 میں جمّوں و کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے فتح محمد نامی شخص کو اراضی خسرہ نمبر 85 میں سات کنال چار مرلہ زمین کا انتقال جاری کیا گیا۔ اعجاز کہتے ہیں کہ "فتح محمد نے 17 جنوری 1968 کو ایک جعلی اور فرضی انتقال نمبر 1164 کے تحت خسرہ نمبر 86 بھی ہتھیا لیا اور اسے علی احمد خان، عبدالواحد، محمد انور خان، صفدر خان وغیرہ پر فروخت بھی کر دیا۔"

وہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد جب مندِر تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا گیا تو ان نئے خریداروں نے اس میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ "یہی وجہ ہے کہ انتقال نمبر 1164 کی منسوخی کے لئے متروکہ وقف املاک بورڈ نے اسی سال محکمہ مال کو مراسلہ تحریر کیا تو ان لوگوں نے سول کورٹ سے رجوع کر لیا۔ سول کورٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو انہوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔"

وہ کہتے ہیں کہ اسی دوران 2007 میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین نے ان انتقالات کی منسوخی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جس کا فیصلہ اِس سال 24 مارچ کو سنایا گیا جس کے تحت کیس کو حتمی فیصلہ کے لئے متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کے پاس بھیج دیا گیا۔

اعجاز کا کہنا ہے کہ جیسے ہی چیئرمین کی جانب سے فیصلہ آئے گا "تو مندِر کی توسیع کے کام کا آغاز ہو جائے گا اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس مندِر میں آنے والے یاتریوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔"

تاریخ اشاعت 18 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سید نعمان شاہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے ہے. 2008 سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہیں اور سیاحت، سیاست، تعلیم، انسانی حقوق، ماحولیات پر رپورٹنگ کرتے ہیں.

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ