بچ نہ سکا میں ذات سے اپنی: جنوبی سندھ کے شیڈولڈ کاسٹ ہندو سیاسی کارکنوں کو انتخابی اور جماعتی سیاست میں منفی امتیازی سلوک کا سامنا۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بچ نہ سکا میں ذات سے اپنی: جنوبی سندھ کے شیڈولڈ کاسٹ ہندو سیاسی کارکنوں کو انتخابی اور جماعتی سیاست میں منفی امتیازی سلوک کا سامنا۔

اشفاق لغاری

postImg

بچ نہ سکا میں ذات سے اپنی: جنوبی سندھ کے شیڈولڈ کاسٹ ہندو سیاسی کارکنوں کو انتخابی اور جماعتی سیاست میں منفی امتیازی سلوک کا سامنا۔

اشفاق لغاری

دو ماہ پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوا تو شروع میں تلسی بائی نے بھی کونسلر کی عام نشست کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔ لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے آپ کو اس میدان سے باہر کر لیا۔  وہ کہتی ہیں کہ ان کا ماضی کا تجربہ اتنا برا رہا ہے کہ اب وہ کبھی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔

سندھ کے جنوبی ضلع تھرپارکر کے ضلعی صدر مقام مٹھی کے کھوکھر محلہ میں رہنے والی 41 سالہ تلسی بائی پانچ بچوں کی ماں ہیں اور ہندو شیڈولڈ کاسٹ برادری میگھواڑ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور اوائل جوانی سے ہی اپنے شیڈولڈ کاسٹ ہم مذہبوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

انہوں نے2018  میں تھرپارکر کے ایک حلقے سے قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا تھا جس میں انہیں ایک ہزار دو سو 30 ووٹ ملے تھے۔ ان کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی تھے جنہوں نے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے اور جو ایک اونچی ذات کے ہندو ہیں۔

اس انتخاب میں تلسی بائی کے مدمقابل 13 امیدوارتھے جن میں سے نو مسلمان اور چار ہندو تھے۔ ان ہندو امیدواروں میں سے دو کا تعلق شیڈولڈ کاسٹ برادریوں سے تھا اور دو کا تعلق اونچی ذاتوں سے۔ وہ اس حلقے کی واحد خاتون امیدوار تھیں۔

انتخابی مہم کے دوران ہونے والے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کے مخالفین نے ان کی ذات اور سماجی حیثیت کا تواتر سے مذاق اڑایا۔ اس عمل میں، ان کے مطابق، نہ صرف مسلمان بلکہ اونچی ذات کے ہندو امیدوار بھی شامل تھے کیونکہ "وہ شیڈولڈ کاسٹ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے"۔

تاہم ذات پات کی بنیاد پر سیاسی امتیاز کا سامنا صرف تلسی بائی کو ہی نہیں کرنا پڑا بلکہ کئی دوسرے مقامی شیڈولڈ کاسٹ ہندو بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں۔

سندھ اسمبلی کے سابق رکن 50 سالہ پونجو بھیل (جن کا تعلق شیڈولڈ کاسٹ بھیل برادری سے ہے) اس کی ایک حالیہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب جون 2022 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی نے تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ میں چند یونین کونسلوں میں بھیل اور میگھواڑ امیدواروں کو چیئرمین کے عہدوں کے لیے نامزد کرنا چاہا تو اونچی ذات کی ٹھاکر راجپوت برادری کے ایک مقامی سیاست دان نے صاف کہہ دیا کہ وہ کسی شیڈولڈ کاسٹ چیئرمین کے ماتحت نائب چیئرمین نہیں بنیں گے۔

پونجو بھیل کا تعلق تھرپارکر کے نواحی ضلع عمر کوٹ سے ہے۔ وہ ایک بار 2002 سے لے کر 2007 تک اور دوسری بار 2013 سے لے کر 2016 تک متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اقلیتوں کے لیے مخصوص کردہ نشست پر سندھ اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ اب وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں اور وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ذات پات کی بنیاد پر پائی جانے والی تقسیم سندھ کے ہندو سماج میں ہر سطح اور ہر شعبے میں موجود ہے لیکن سیاست میں یہ نسبتاً زیادہ نمایاں ہے۔ ان کے مطابق حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اس کی ایک نمایاں مثال تھرپارکر کی یونین کونسل سینگارو میں دیکھنے میں آئی جہاں شیڈولڈ کاسٹ میگھواڑ آبادی کی اکثریت ہے۔ لیکن، ان کے مطابق "اس کے باوجود اس برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو مبینہ طور پر محض ذات پات کی بنیاد پر اس کے چیئرمین کا امیدوار نامزد نہیں کیا گیا"۔

ذات بقابلہ جماعت

ارباب لطف اللہ سندھ اسمبلی کے رکن اور کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کے بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی ہیں۔ ان کا تعلق تھرپارکر کے ارباب خاندان سے ہے جو کئی دہائیوں سے انتخابی سیاست میں سرگرم ہے۔ ان کے والد ارباب امیر حسن قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں جبکہ ان کے چچا ارباب غلام رحیم 2004 سے لے کر 2007 تک سندھ کے وزیرِاعلیٰ کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

ارباب لطف اللہ 2017 میں 28 سال کی عمر میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے لیکن ان کی جماعت کے کئی ارکان کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے اس کے ضلعی صدر گیان چند کی صدارت میں ہونے والے کسی ایک اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ اس جماعت سے وابستہ ایک سرگرم سیاسی کارکن اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ گیان چند کے میگھواڑ ہونے کی وجہ سے ارباب لطف اللہ ان کی قیادت کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔

گیان چند کی عمر 56 سال ہے اور انہوں نے زرعی انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ مارچ 2015 سے مارچ 2021 تک پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ کے رکن رہے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے ضلع تھرپارکر کے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے ارباب غلام رحیم کے مقابلے میں 2013 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا اور دوسرے نمبر پر آئے تھے۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ارباب لطف اللہ ان کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے۔ لیکن اس بات کو براہِ راست ذات پات سے منسلک کرنے کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ "ایسے اجلاسوں میں بیٹھنا شاید انہیں اپنے مرتبے سے کم  تر کام لگتا ہے"۔

تاہم کسی شخص کا نام لیے بغیر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "ہم نے بہت محنت کر کے اپنی جماعت کے اندر ذات پات کا نظام توڑا ہے )لیکن) کچھ لوگ اب اس نظام کو دوبارہ مستحکم کر رہے ہیں"۔ اس لیے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ "وہ ایسے لوگوں کے رویے کا نوٹس لے اور ان کے خلاف کارروائی کرے جو خود کو اس کے ضابطہ اخلاق سے ماورا سمجھتے ہیں"۔

دوسری طرف ارباب لطف اللہ کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی معاملات میں ان کی عدم شمولیت کی وجہ گیان چند کی صدرات نہیں بلکہ ان کے اپنے خاندان کے اندر سیاسی ذمہ داریوں کی تقسیم ہے۔ ان کے مطابق "جماعتی معاملات کی ذمہ داری میرے بڑے بھائی ارباب امان اللہ کے پاس ہے جو باقاعدگی سے اس کے مقامی اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں"۔ تاہم وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خود بھی 26 جون 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں شرک ہو چکے ہیں جس کی صدارت گیان چند نے ہی کی تھی اور جس میں تھرپارکر سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

<p>پونجو بھیل چیئرمین پیپلز پارٹی پاکستان بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ<br></p>

پونجو بھیل چیئرمین پیپلز پارٹی پاکستان بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ

گیان چند اُن کے اس دعوے کو درست قرار نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں کہ اس اجلاس میں بھی ان کے بجائے ان کے بھائی نے ہی شرکت کی تھی۔

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

تازہ ترین مردم شماری کے مطابق تھرپارکر کی 43 فیصد آبادی ہندومذہب کی ماننے والی ہے۔ اس میں سے دو تہائی کا تعلق ان شیڈولڈ کاسٹ برادریوں سے ہے جنہیں مقامی سماج میں نچلی ذاتیں کہا جاتا ہے۔ مٹھی سے 15 کلومیٹر دور ایک  گاؤں میں رہنے والے فن کار سنگتراش صحرائی کہتے ہیں کہ ان برادریوں کے افراد اپنی روزمرہ زندگی کے ہر شعبے میں ہر روز امتیازی سلوک سے دوچار ہوتے ہیں۔

اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "اگر کوئی شیڈولڈ کاسٹ خاتون کسی بس میں کھڑی ہو کر سفر کر رہی ہو تو مرد حضرات اسے اپنی نشست پیش نہیں کرتے"۔ اسی طرح، ان کے مطابق، "شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھانے اور ایک ہی مندر میں عبادت کرنے کی اجازت بھی نہیں"۔ حتیٰ کہ مذہبی تہواروں پر بھی "اونچی ذات کے ہندو نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ بات چیت تک نہیں کرتے"۔

پونجو بھیل اس حوالے سے پیش آنے والے ایک انتہائی ناخوشگوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اکتوبر 2013 میں تھرپارکر کے نواحی ضلع بدین کے قصبے پنگریو میں بھورو بھیل کی لاش اس وجہ سے اس کی قبر سے نکال دی گئی کہ مقامی مسلمان نہیں چاہتے تھے کہ ایک شیڈولڈ کاسٹ ہندو کو ان کے مردوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔

وہ اس صورتِ حال کی ذمہ داری ان لوگوں پر ڈالتے ہیں "جو اقتدار کے ایوانوں میں نچلی ذاتوں کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں"۔ ان کا کہنا ہے کہ میگھواڑ، بھیل اور کولہی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ کسی نہ کسی حیثیت میں صاحب اختیار ہیں یا رہے ہیں انہوں نے ذات پات کے امتیاز کو ختم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔ بلکہ، ان کے بقول، "یہ لوگ شیڈولڈ کاسٹ برادریوں کے حقوق کا شور صرف اسی وقت مچاتے ہیں جب ان کا ذاتی مفاد خطرے میں ہوتا ہے"۔

وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شیڈولڈ کاسٹ برادریوں سے تعلق رکھنے والے مقتدر لوگ ذات پات کے نظام کو برقرار رکھنے میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ وہ اپنے سے کم تر ذاتوں کے لوگوں سے وہی سلوک کرتے ہیں جو اونچی ذات والے اُن سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے کبھی "باگڑی، جوگی اور شکاری جیسی پسماندہ ترین شیڈولڈ کاسٹ برادریوں کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کیا"۔

تاہم تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر سے تعلق رکھنے والی 43 سالہ سینیٹر کشوبائی، جنہیں عام طور پر کرشنا کولہی یا کرشنا کماری کہا جاتا ہے، پونجو بھیل سے پوری طرح متفق نہیں۔ ان کا اپنا تعلق بھی شیڈولڈ کاسٹ کولہی برادری سے ہے اور ان کی زندگی ذات پات کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ لیکن وہ سیاسی سطح پر ہونے والی کچھ مثبت تبدیلیوں کی بھی نشان دہی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سندھ ہندو میرج ایکٹ: 'شیڈولڈ کاسٹ ہندو عورتوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ قانونی طریقے سے طلاق لے سکتی ہیں'۔

وہ کہتی ہیں کہ سکول میں انہیں اور ان کے بھائی ویرجی کولہی کو اپنے ساتھی طلبا کے ساتھ بیٹھنے تک نہیں دیا جاتا تھا یہاں تک کہ "دوسرے بچے جس گلاس میں پانی پیا کرتے تھے ہم اس میں پانی بھی نہیں پی سکتے تھے"۔ ان کے مطابق سفر کرنے سے لے کر کھیتوں میں کام کرنے تک انہیں ہر جگہ ایسے ہی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے اپنے الفاظ میں "ہم تو ضلع عمرکوٹ کی تحصیل کنری میں وڈیروں کی نجی جیل میں قید بھی رہے ہیں اور ہم نے اس قدر جبری مشقت کی ہے کہ ہمیں اپنے مذہبی تہوار منانے کے لیے بھی چھٹی نہیں دی جاتی تھی"۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی شیڈولڈ کاسٹ برادریوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کو سیاسی میدان میں آگے لے کر آئی ہے جن میں وہ خود اور ان کے بھائی ویرجی کولہی بھی شامل ہیں جنہیں وزیرِاعلیٰ سندھ کا معاون خصوصی بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول "پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیں بہت پیار اور عزت دی ہے"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی قیادت ان سے کبھی ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتی۔ اس کے برعکس وہ کہتی ہیں کہ اس کے سربراہ "بلاول بھٹو زرداری کو تو میں نے راکھی باندھ کر اپنا بھائی بنا رکھا ہے (جبکہ ان کی بہن) بختاور بھٹو زرداری کے ساتھ میری گال سے گال ملاتے ہوئے تصاویر بھی بنی ہوئی ہیں"۔

تاریخ اشاعت 29 جولائی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔