کیچ کا 'برائے نام سرکاری ہسپتال': مریضوں کو سرنج اور پینا ڈول کی گولی بھی خریدنا پڑتی ہے

postImg

اسد بلوچ

postImg

کیچ کا 'برائے نام سرکاری ہسپتال': مریضوں کو سرنج اور پینا ڈول کی گولی بھی خریدنا پڑتی ہے

اسد بلوچ

گردے کی تکلیف میں مبتلا 95 سالہ محمد عیسیٰ تربت ٹیچنگ ہسپتال میں ایک خستہ حال بستر پر زیر علاج ہیں۔ چار روز سے ان کی حالت بہت خراب ہے۔ ان ساتھ بیٹھے تیماردار ہسپتال انتظامیہ کے رویے سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں مریضوں کی بہتر نگہداشت نہیں کی جاتی اور انجکشن لگانے کے لئے سرنج تک انہیں اپنے پیسوں سے خریدنا پڑتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کے مالی وسائل اجازت دیتے تو وہ مزید 'عذاب سہنے' کے بجائے اپنے مریض کو علاج کے لئے کراچی لے جاتے۔

چالیس سالہ سلمیٰ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں۔ انہیں سر درد اور بخار کے باعث ایک دن پہلے علاج کے لیے اس ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹر تو ہیں لیکن مفت علاج اور ادویات میسر نہیں اور نہ ہی یہاں صفائی کا کوئی معقول انتظام ہے۔

سلمیٰ کے ساتھ بیٹھی ان کی چھوٹی بہن کا کہنا تھا کہ یہ 'برائے نام سرکاری ہسپتال' ہے جب کسی مریض کو پیناڈول کی گولی تک مفت نہیں ملتی تو اس کے سرکاری ہونے کا کیا فائدہ؟

 ساڑھے تین سو  بستروں پر مشتمل اس ٹیچنگ ہسپتال کو تربت مکران میڈیکل کالج سے منسلک کئے جانے کے بعد اس میں نئی عمارتیں بن گئی ہیں اور نئے شعبوں کا اضافہ ہو گیا ہے لیکن یہاں آنے والے مریضوں کو بہت سی شکایات ہیں۔

مئی میں جب ضلع کیچ میں ڈینگی وائرس پھیلنے سے آبادی کا بڑا حصہ متاثر ہوا تو مقامی لوگوںے سرکاری ہسپتال میں سہولیات کی عدم فراہمی کا شکوہ کیا۔

ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بلوچ کہتے ہیں کہ ڈینگی پھیلا تو ہسپتال میں اس کے مریضوں کے لئے ایک الگ یونٹ بنا کر اس میں تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اسی ہسپتال میں ایک شعبے کے انچارج (ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) نے لوک سجاگ کو بتایا کہ جون میں ڈینگی وائرس کے درجنوں مریض ہسپتال آئے۔ اگرچہ ڈینگی کا علاج کرنے کے لئے الگ شعبہ بنایا گیا تھا لیکن 50 ڈگری تک پڑنے والی شدید گرمی میں ایئرکنڈیشنر کی سہولت نہیں تھی اس لیے وہاں کسی مریض کو داخل کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے علاج کے لئے نجی ہسپتالوں کا رخ کیا۔

 تربت ٹیچنگ ہسپتال 16 مختلف شعبہ جات کے ساتھ مکران ڈویژن میں سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔

ہسپتال سے ملنے معلومات کے مطابق یہاں او پی ڈی میں روزانہ ایک سے ڈیڑھ ہزار اور ماہانہ 28 سے 30 ہزار تک مریض آتے ہیں۔ روزانہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی اوسط تعداد 150 اور گائنی وارڈ سے رجوع کرنے والوں کی تعداد 120 تک ہوتی ہے۔

 ان میں ضلع کیچ کے ساتھ پنجگور اور گوادر سے مریض بھی آتے ہیں جبکہ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ایران کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے مریضوں کی نمایاں تعداد بھی علاج کے لیے اسی ہسپتال کا رخ کرتی ہے۔

اس ہسپتال کے گائنی وارڈ میں گوادر سے تعلق رکھنے والی ایک مریضہ مریم نے بتایا کہ ان کے پیٹ میں بچہ انتقال کر گیا تھا اور چار گھنٹے سے جاری شدید درد کے باوجود ڈاکٹروں نے ان کا آپریشن نہیں کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اپنے علاقے میں علاج کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ تربت ٹیچنگ ہسپتال میں آئی تھیں لیکن یہاں آ کر بھی انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

تربت ٹیچنگ ہسپتال میں او پی ڈی اور ایمرجنسی کے ساتھ میڈیکل وارڈ، گائنی، آئی، ڈینٹل، سرجیکل وارڈ اور سات بستروں پر مشتمل ڈائلیسز وارڈ قائم ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں آئی سی یو، ایم آر آئی، سرجری اور سٹی اسکین کی سہولت بھی میسر ہے۔

ہسپتال کو ادویات کی خریداری کے لئے سالانہ چھ کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کیا جاتا ہے۔

ایم ایس ڈاکٹر خالد کے مطابق میڈیکل سٹور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے انہیں جن ادویات کی لسٹ دی جاتی ہے ان کی خریداری لازم ہے۔

"اگرچہ ان میں سے بعض ادویات کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی لیکن ٹیچنگ ہسپتال کو اپنے سالانہ فنڈز اپنی ضروریات کی ادویات پر خرچ کرنے کا اختیار نہیں"۔

وہ تجویز دیتے ہیں کہ ہسپتال کو ادویات کی مد میں اپنا بجٹ خود استعمال کرنے کا اختیار دیا جائے یا کم از کم ان سے ضرورت کی ادویات معلوم کرکے فہرستیں بنائی جائیں تاکہ جو ادویات انہیں درکار ہیں وہ انہیں مل سکیں۔

ان کے مطابق چھ کروڑ روپے سالانہ ایک معمولی رقم ہے جس سے اتنے بڑے ہسپتال کو چلانا ممکن نہیں اگر حکومت ادویات کا سہ ماہی بجٹ چھ کروڑ روپے کردے تو اس سے بہتری آئے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سال 23-2022ء کے بجٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے سبب کمپنی کی طرف سے مناسب ریٹ نہ ملنے کے باعث یہ بجٹ لیپس ہوگیا تھا۔

ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے 'سب اچھا ہے' کے دعووں کے باوجود یہاں آنے والے مریض انتظامیہ کے خلاف متواتر شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پورے ضلع صحبت پور میں ایک لیڈی ڈاکٹر: 'ایسا نہ ہوتا تو بیٹی کے سر پر ماں کا سایہ سلامت ہوتا'

لوک سجاگ نے جن مریضوں سے بات کی انہوں نے دیگر مسائل کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ او پی ڈی صبح 8 بجے کے بجائے 10 بجے کھلتی ہے جبکہ دوپہر ایک بجے سے پہلے بیشتر ڈاکٹرز اپنے پرائیوٹ کلینکس کو چلے جاتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹر خالد اس شکایت کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام ڈاکٹر ہر وقت اپنی ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ وہ وارڈ کا دورہ، ٹیچنگ اور دیگر سرگرمیوں کو چھوڑ کر صرف او پی ڈی کریں۔

تین سال پہلے کیچ کے اسسٹنٹ کمشنر نے ہر نجی کلینک پر دوپہر دو بجے سے پہلے ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی عائد کردی تھی مگر اب یہ پابندی برقرار نہیں رہی۔

کیچ کے قائم مقام ڈپٹی کمشنر عقیل کریم اس معاملے پر کسی مصلحت پسندی یا غفلت سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ ٹیچنگ ہسپتال کے معاملات پر گہری نظر رکھتی ہے اور جونہی کوئی شکایت ملے اس پہ ضروری کارروائی کی جاتی ہے۔

تاریخ اشاعت 10 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اسد بلوچ کا تعلق تربت ضلع کیچ سے ہے۔ بلوچستان خصوصاً مکران کے سیاسی حالات اور موجودہ بلوچ شورش پر لوکل اخبارات اور ملکی سطح کے مختلف ویب سائٹس پر تبصرے اور تجزیہ لکھتے ہیں۔

thumb
سٹوری

لاہور: اندرون شہر کے کئی علاقوں میں سولر پینلز لگانا مشکل، حل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

ضلع خیبر: ڈوبتی ہوئی زراعت کو سولر سسٹم کا سہارا

لاہور کی یونیورسٹیاں، فضائی آلودگی کے خلاف متحد

thumb
سٹوری

شانگلہ میں سیاح کیوں نہیں جاتے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

آزاد کشمیر: میرپور میں ماحول دوست عوامی گاڑی چل پڑی

thumb
سٹوری

شمسی توانائی، قبائلی ضلع خیبر کے لوگوں کی تکالیف کیسے کم کررہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

بجلی آئے نہ آئے، ہسپتال کھلا ہے

thumb
سٹوری

کاسا-1000: کرغزستان اور تاجکستان سے بجلی لانے والی ٹرانسمشن لائن کا کام کب شروع ہو گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

لیپ آف فیتھ: اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ پوڈ کاسٹ سیریز- ڈاکٹر یعقوب بنگش

کل مالی تھا آج ایم فل ہوں

چلتے پھرتے سولر سسٹم بھکر پہنچ گئے

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا میں انصاف کے متبادل نظام کی کمیٹیاں، ایک بھی خاتون شامل نہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.