کیا ہوا کیوں یہ سہانی بستیاں بیمار ہیں: 'ڈِگری کے سیلاب زدگان ہیضہ، بخار اور جلدی امراض کا شکار ہو رہے ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کیا ہوا کیوں یہ سہانی بستیاں بیمار ہیں: 'ڈِگری کے سیلاب زدگان ہیضہ، بخار اور جلدی امراض کا شکار ہو رہے ہیں'۔

اشفاق لغاری

postImg

کیا ہوا کیوں یہ سہانی بستیاں بیمار ہیں: 'ڈِگری کے سیلاب زدگان ہیضہ، بخار اور جلدی امراض کا شکار ہو رہے ہیں'۔

اشفاق لغاری

سرفراز نہر کے اردگرد واقع کئی بستیاں پچھلے دوماہ سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 

یہ نہر سندھ کے ضلع میرپور خاص کی تحصیل ڈِگری کے بعض علاقوں سے گزرتی ہے جہاں کے رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اِس سال جولائی میں شروع ہونے والی بارشوں کی وجہ سے اس میں سیلاب آگیا تھا جس کا پانی ابھی تک ان کے گھروں اور کھیتوں میں کھڑا ہوا ہے۔ 

اس سیلاب کی وجہ سے ہزاروں مقامی باشندے اب خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے ڈِگری سے مختلف قصبوں اور شہروں کو جانے والی سڑکوں پر لکڑیوں، پرانے کپڑوں، رِلیوں اور گھاس پھوس سے چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنا رکھی ہیں جن میں وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔ 

ان جھونپڑیوں کے زیادہ تر باسیوں کا تعلق بھیل، میگھواڑ، کولہی، باگڑی اور اوڈ جیسی ہندو شیڈولڈ کاسٹ برادریوں سے ہے جو معاشی اور معاشرتی اعتبار سے محروم ترین طبقوں میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ بے سروسامان سیلاب متاثرین کھانے پینے کے لیے مکمل طور پر حکومت اور مخیر افراد کی طرف سے ملنے والی امداد کے محتاج ہیں۔

اگرچہ انہیں شکایت ہے کہ خوراک میں انہیں ہر بار صرف چاول ہی مل رہے ہیں جنہیں مسلسل کھاتے رہنا ممکن نہیں لیکن وہ مانتے ہیں کہ اس امداد کی عدم موجودگی میں وہ اپنی بھوک بھی نہیں مٹا پائیں گے۔

تاہم ڈِگری سے ٹنڈو جان محمد نامی قصبے کو جانے والی سڑک پر بنی ہوئی ایک جھونپڑی میں رہنے والے 35 سالہ پپو کولہی چاہتے ہیں کہ امداد فراہم کرنے والے افراد اور ادارے ان پناہ گزینوں کی باقی ضروریات کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں۔ خود ان کے لیے کھانے اور رہنے کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ ان دو بھینسوں کے لیے چارے کا بندوبست کرنا ہے جو وہ حصہ داری کی بنیاد پر پال رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں اتنا پانی کھڑا ہے کہ چارے کی ہر مقامی فصل برباد ہو گئی ہے۔ اس لیے وہ ہروقت اسی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں کہ ان بھینسوں کی خوراک کا انتظام کیسے کریں۔ 

ان کی نواحی جھونپڑی کے باسی 18 سالہ کشور میگھواڑ کو ایک اور فکر لاحق ہے۔

ان کا تعلق ٹنڈو جان محمد کے قریبی گاؤں اکبر آباد سے ہے۔ سیلاب آنے سے پہلے وہ ایک کالج میں انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے اور اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ہمراہ ایک مقامی زمیندار کے ہاں کھیت مزدور کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔ ان کے والدین نے اس زمیندار سے 60 ہزار روپے قرض بھی لے رکھا تھا تاکہ وہ کشور کے بڑے بھائی مکیش کو نرسنگ کورس میں داخلہ دلا سکیں۔ اب انہیں ہمہ وقت یہی خوف لگا رہتا ہے کہ اگر وہ اپنا قرض نہ چکا پائے تو زمیندار نہ جانے ان سے کیا سلوک کرے۔

وہ کہتے ہیں کہ سیلاب کی وجہ سے کپاس، مرچ، ٹماٹر اور گنے کی تمام مقامی فصلیں اور پپیتے اور کیلے کے تمام مقامی باغات تباہ ہو گئے ہیں جس کے باعث نہ تو انہیں جلدی مزدوری ملنے کی توقع ہے اور نہ ہی قرض واپس کر سکنے کی کوئی امید نظر آ رہی ہے۔

کشور میگھواڑ کے ساتھ رہنے والے پناہ گزینوں میں 50 سالہ ریشم بائی بھی شامل ہیں۔ ان کے شوہر پانچ سال پہلے مر چکے ہیں اور وہ اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی شادیاں کر چکی ہیں۔ لیکن ان کی دو بیٹیاں جن کی عمریں نو سال اور 11 سال ہیں اب بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ 

ریشم بائی کئی دن سے بخار میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے انہیں جسم کے مختلف حصوں میں درد بھی رہتا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی بیٹیاں بھی کہیں بیمار نہ ہو جائیں اس لیے وہ انہیں مچھروں سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی جھونپڑی کے ارد گرد ہر روز خشک جھاڑیاں اور اُپلے جلاتی ہیں تاکہ ان کی حرارت اور دھواں مچھروں کو بھگا سکیں۔

لیکن، ان کے مطابق، یہ طریقہ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ چاہتی ہیں کہ کوئی حکومتی ادارہ یا غیرسرکاری تنظیم انہیں مچھردانیاں فراہم کر دے۔

بد انتظامی کا روگ

میرپور خاص میں واقع قومی اسمبلی کے حلقے این اے-219 سے منتخب ہونے والے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن میر منور علی تالپور سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ضلعی انتظامیہ اور سندھ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کے ضلعے کی تقریباً نصف آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے لیکن ابھی تک یہاں صرف ساڑھے تین ہزار خیمے لگائے گئے ہیں۔ انہیں اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ صوبائی حکومت نے سیلاب متاثرین کو کھانا فراہم کرنے کا کام تپے داروں (پٹواریوں) کے ذمے لگایا ہوا ہے "حالانکہ انہیں اس کام کا کوئی تجربہ نہیں"۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں بہت سے "ضرورت مند لوگ کھانے سے محروم ہیں"۔ 

سیلاب زدگان کو مچھروں سے بچانے کے سرکاری انتظامات بھی ناقص نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک اہم واقعہ تقریباً چھ ہفتے پہلے اس وقت سامنے آیا جب میرپور خاص کی ضلعی انتظامیہ نے ایک مقامی فیکٹری کے گودام کا تالہ توڑ کر وہاں سے ساڑھے چھ لاکھ مچھردانیاں برآمد کیں جو وفاقی حکومت کے ادارے ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام نامی غیرسرکاری تنظیم  نے گزشہ سال جون میں خرید کر ذخیرہ کر رکھی تھیں۔ اس تنظیم کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ان مچھردانیوں کی تقسیم کی ذمہ داری ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول کے پاس تھی جس نے انہیں سیلاب زدگان تک پہنچانے کے بجائے گودام میں رکھنے کو ترجیح دی۔

تاہم ڈِگری کے بے گھر افراد کو شکایت ہے کہ اس برآمدگی کے بعد بھی انہیں مچھردانیاں نہیں مل سکیں۔ بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کی سب جیکب آباد، گھوٹکی، شکارپور اور شہید بے نظیر آباد (نواب شاہ) کے اضلاع میں پہنچا دی گئیں۔ 

نتیجتاً مقامی سیلاب زدگان میں کئی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ڈِگری کے تحصیل ہسپتال کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد الیاس جٹ کا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے وہ پانچ گشتی طبی کیمپوں میں کام کرتے رہے ہیں جہاں وہ روزانہ چار سو سے زیادہ مریضوں کا معائنہ کرتے تھے۔ ان کے مطابق ان میں سے بیشتر کو ہیضہ، بخار اور جِلدی امراض لاحق تھے۔

تاریخ اشاعت 21 ستمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔