ہوائیوں کے رنگ اور پٹاخوں کے آہنگ میں ڈوبی آہیں اور سسکیاں: جڑانوالہ کی آتش بازی ساز فیکٹریاں اپنے مزدوروں کی موت کا باعث بننے لگیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ہوائیوں کے رنگ اور پٹاخوں کے آہنگ میں ڈوبی آہیں اور سسکیاں: جڑانوالہ کی آتش بازی ساز فیکٹریاں اپنے مزدوروں کی موت کا باعث بننے لگیں۔

اجمل ملک

postImg

ہوائیوں کے رنگ اور پٹاخوں کے آہنگ میں ڈوبی آہیں اور سسکیاں: جڑانوالہ کی آتش بازی ساز فیکٹریاں اپنے مزدوروں کی موت کا باعث بننے لگیں۔

اجمل ملک

نفرعباس نے 12  سال پہلے اس امید پر کھیت مزدوری چھوڑ کر ایک فیکٹری میں آتش بازی کا سامان بنانا شروع کیا تھا کہ اس سے ان کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی لیکن ان کی آمدن محدود ہی رہی حتیٰ کہ وہ اس کام کی نذر ہو گئے۔

21 مئی 2022 کو وہ گندھک اور پوٹاشیم کو ملا کر پٹاخے بنا رہے تھے کہ ایک دھماکہ ہوا جس میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر محض 30 سال تھی اور ان کی شادی کو صرف دو سال ہوئے تھے۔ وہ اپنے پیچھے اپنی جواں سال بیوہ اور آٹھ ماہ کی بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔

ان کے خاندان والے ان کی موت کا ذمہ دار فیکٹری کے مالک فرزند علی کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کی بہن کوثر بی بی کو شکایت ہے کہ فرزند علی نے نفر عباس کی لاش کو جائے حادثہ سے ہٹانے میں بھی ان کی کوئی مدد نہ کی جس کے نتیجے میں یہ "لاش کئی گھنٹے فیکٹری میں ہی پڑی رہی"۔ وہ کہتی ہیں کہ "بالآخر ہمیں خود ہی اسے اٹھا کر گھر لانا پڑا"۔

ان کا گھر وسطی پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں مکوآنہ نامی قصبے میں واقع ہے جس کی آبادی تقریباً 60 ہزار ہے۔ اس کے بیشتر باشندوں کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے لیکن یہاں آتش بازی کا سامان بنانے کی تقریباً 30 فیکٹریاں بھی قائم ہیں جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی کام کرتی ہیں۔

ان فیکٹریوں میں آئے روز حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ مقامی پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق مکوآنہ اور اس کے آس پاس واقع دیہات اور قصبوں میں اپریل 2018 سے لے کر اب تک ایسے حادثات میں دس افراد ہلاک اور 16 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اس عرصے میں نفر عباس کی ہلاکت کا سبب بننے والے دھماکے سمیت پانچ واقعات صرف مکوآنہ میں ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حادثہ 13 مئی 2022 کو یاسین چوک نامی جگہ پر آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں آگ لگنے سے وقوع پذیر ہوا۔ اس میں ایک 70 سالہ مزدور اللہ دتہ جھلس کر ہلاک ہو گیا۔ اس سے چند ماہ پہلے 30 نومبر 2021 کو مکوآنہ کے مضافات میں جڑانوالہ جانے والی سڑک پر واقع ایک فیکٹری کی چھت دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے گر گئی جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے باپ بیٹا زخمی ہو گئے جبکہ اسی مہینے کی 25 تاریخ کو اس قصبے کی پرانی آبادی کے رہائشی قمر عباس کی فیکٹری میں دھماکہ ہوا جس میں انوری بی بی نامی خاتون جاں بحق ہو گئیں اور ان کے پانچ ساتھی مزدور زخمی ہو گئے۔ اسی طرح 26 اپریل 2018 کو ایک مقامی فیکٹری کی چھت گر گئی جس کے نیچے دب کر دو مزدور ہلاک ہو گئے۔ اس نوعیت کے ایک اور واقعے میں 25 جنوری 2021 کو بھی مکوآنہ میں ایک فیکٹری کی چھت گر گئی تاہم وہاں کام کرنے والے تمام مزدور محفوظ رہے۔

ایک قریبی قصبے کھرڑیانوالہ کی آتش بازی ساز فیکٹریوں میں بھی 17 جون 2020 اور 26 اپریل 2018 کو دو حادثے ہوئے جن میں بالترتیب دو لوگ ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ یکم نومبر 2021 کو بھی مکوآنہ کی ایک نواحی بستی کی فیکٹری میں ایک دھماکہ ہوا جس میں ایک مزدور ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

ذاتی منافع بمقابلہ عوامی مفاد

آتش بازی کا سامان بنانے اور بیچنے والے سرمایہ کاروں کو 1884 میں بنائے گئے ایک قانون اور اس میں کی گئی کچھ حالیہ ترامیم کے تحت متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر، محکمہ شہری دفاع، مقامی تھانے اور مقامی حکومت کے اداروں کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ انہیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے بھی اجازت نامہ لینا ہوتا ہے کہ کہیں ان کی مجوزہ فیکٹری تیل یا گیس کی تنصیبات کے پاس تو واقع نہیں۔ اس قانون کی رو سے انہیں یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ان کی فیکٹری انسانی آبادی سے مناسب فاصلے  پر بنے۔

فیصل آباد میں متعین سرکاری اہل کار کہتے ہیں کہ یہ ساری قانونی ضروریات پوری کرنے کے بعد آتش بازی کا سامان بنانے کے خواہش مند کاروباری افراد کو متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ایک درخواست دینا ہوتی ہے جس کے ساتھ مذکورہ بالا تمام اجازت نامے لف ہوتے ہیں۔ جب اس درخواست کو ڈپٹی کمشنر کی منظوری مل جاتی ہے تو ضلعی انتظامیہ درخواست گزار سے ایک مقررہ فیس بھی وصول کرتی ہے جو ہر 12 مہینے بعد دوبارہ واجب الادا ہو جاتی ہے۔

دو دہائیاں پہلے ایسی فیکٹریوں کے لیے دو سو پاؤنڈ ماہانہ تک بارودی مواد حاصل کرنا مشکل نہیں تھا۔ لیکن ماضی قریب میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر حکومت نے یہ حد کم کر کے 25 پاؤنڈ ماہانہ کر دی ہے۔ اب ملک میں آتش بازی کا سامان تیار کرنے والی کسی فیکٹری کو بھی ایک مہینے میں اس سے زیادہ بارودی مواد خریدنے، ذخیرہ کرنے اور استعمال میں لانے کی اجازت نہیں۔

تاہم فیصل آباد میں آتش بازی کا سامان بنانے والے کئی مزدور کہتے ہیں کہ 25 پاؤنڈ بارود سے بھی اتنی چیزیں بنائی جا سکتی ہیں کہ ایک فیکٹری ایک سال میں ایک کروڑ روپے تک کما سکتی ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان نہ تو اس رقم سے مزدوروں کو کوئی مراعات فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی وہ فیکٹریوں میں مناسب حفاظتی انتظامات کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔

نفر عباس کے بھائی باغ علی کا کہنا ہے کہ ان مالکان کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام ملازمین کا بیمہ کرائیں لیکن، اس کے برعکس، وہ ان کا اندراج محکمہ لیبر اور محکمہ سماجی بہبود میں بھی نہیں کراتے حالانکہ قانون کی رو سے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ "کام کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے مزدوروں یا ان کے لواحقین کو نہ تو حکومت کی طرف سے کوئی مالی مدد ملتی ہے اور نہ ہی فیکٹری مالکان انہیں کوئی زرِتلافی دیتے ہیں"۔

مکوآنہ کے لوگ حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بھی فیکٹری مالکان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس فیکٹری میں نفر عباس کی ہلاکت ہوئی وہاں نہ تو آگ بجھانے کا کوئی انتظام تھا اور نہ ہی وہاں کے مزدوروں کو کام کے دوران پہننے کے لیے کوئی ہیلمٹ یا گلوز دیے گئے تھے۔

کوثر بی بی نے بھی مقامی تھانے میں درج کرائی گئی ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں یہی الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کی موت کی بنیادی وجہ فیکٹری میں مناسب حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ "اگر وہاں حفاظتی انتظام موجود ہوتے تو میرے بھائی کی جان بچ سکتی تھی"۔

ان کے بھتیجے اور دھماکے کے عینی شاہد علی رضا کا یہ بھی کہنا ہے کہ آتش بازی کا سامان بنانے والی "فیکٹریوں کے مالکان اخراجات بچانے کے چکر میں غیر معیاری آلات استعمال کرتے ہیں جو بعض اوقات بارود کی تیاری کے دوران نکلنے والی گیسوں کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے اور پھٹ جاتے ہیں"۔
 

لیکن ان تمام عوامی شکایات کے باوجود حکومتی اہل کاروں کی نظر میں سب اچھا ہے۔ فیصل آباد میں محکمہ شہری دفاع کے چیف انسپکٹر حافظ عدنان دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا عملہ آتش بازی کا سامان بنانے والی "فیکٹریوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتا ہے جس کے دوران وہاں آگ بجھانے والے آلات اور دوسرے حفاظتی انتظامات کا سختی سے جائزہ لیا جاتا ہے"۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "جس کارخانے میں حفاظتی انتظام تسلی بخش نہ ہوں اس پر جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے"۔
لیکن وہ ایسے کوئی اعدادوشمار سامنے نہیں لاتے جن سے پتہ چل سکے کہ پچھلے ایک سال میں ایسے کتنے کارخانوں کو کتنا جرمانہ کیا گیا ہے۔

مکوآنہ کے رہنے والے لوگ آتش بازی کی فیکٹریوں کی نگرانی کے لیے بنائے گئے سرکاری نظام کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات اتنے ناقص ہیں کہ ان میں دھماکوں اور حادثوں کا ہونا ایک یقینی امر ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ ان سب خطرات کو نظرانداز کرکے اس شعبے میں اس لیے کام کرتے ہیں کہ اس میں انہیں باقی کاموں کی نسبت قدرے زیادہ اجرت ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پتھر پیسنے والے کارخانوں میں موت پھانکتے مزدور: 'یہ کام ہم سب کو کھا گیا ہے'۔

نفر عباس کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ وہ یومیہ تقریباً ایک ہزار روپے کما لیتے تھے جو تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی اجرت سے لگ بھگ دو گنا زیادہ ہے۔

کہیں خوشی کہیں غم

فرزند علی کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی تین ایسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو قتل خطا، آتش گیر مواد کی تیاری میں غفلت کے مظاہرے اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق ہیں۔ تاہم نہ تو پولیس نے انہیں اب تک گرفتار کیا ہے کیونکہ انہوں نے فیصل آباد کی ایک مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا رکھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ، ان کے بقول، انہوں نے تمام قانونی ضروریات پوری کر کے حکومت سے آتش بازی کا سامان تیار کرنے کا اجازت نامہ لے رکھا ہے جس کی سالانہ فیس وہ باقاعدگی سے جمع کراتے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں ںے اپنی فیکٹری میں ملازمین کے لیے تمام ضروری حفاظتی انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔

نفر عباس کے خاندان کو بھی فرزند علی کی گرفتاری سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ ان کی بیوہ اور ان کی بچی کا گزارہ کیسے ہو گا۔ ان کے بھائی باغ علی اپنے خاندان کی مالی مشکلات اور جذباتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "خوشی کے مواقع پر آتش بازی کا خوبصورت نظارہ دیکھنے والے لوگ یہ نہیں جانتے کہ خوش رنگ ہوائیوں اور پٹاخوں کے شور میں کتنے لوگوں کی آہیں اور سسکیاں دبی ہوئی ہیں"۔

تاریخ اشاعت 2 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد سے تعلق ہے۔ گذرے دو عشروں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔