سوشل میڈیا سے پھیلنے والی افواہیں اور مفروضے: زیادہ تر دیہی آبادی کورونا ویکسین کے بارے میں شبہات کا شکار
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سوشل میڈیا سے پھیلنے والی افواہیں اور مفروضے: زیادہ تر دیہی آبادی کورونا ویکسین کے بارے میں شبہات کا شکار

آصف ریاض

postImg

سوشل میڈیا سے پھیلنے والی افواہیں اور مفروضے: زیادہ تر دیہی آبادی کورونا ویکسین کے بارے میں شبہات کا شکار

آصف ریاض

'حضرات ایک ضروری اعلان سنیں۔ وہ تمام لوگ جن کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے وہ جلد از جلد محمد سفیان گجر کے ڈیرے پر پہنچ کر کورونا ویکسین لگوا لیں۔ ویکسین نہ لگوانے والوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ان کے شناختی کارڈ اور موبائل فون نمبر قابلِ استعمال نہیں رہیں گے'۔ 

یہ آواز 16 جولائی 2021 کو جمعے کے روز ضلع ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی کے گاؤں 12/11 ایل کی مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں سے بار بار بلند ہو رہی ہے۔

محکمہِ صحت کی ایک ٹیم بھی کورونا ویکسین لگانے کے لیے گاؤں میں موجود ہے لیکن مقامی لوگ اس اعلان پر کچھ زیادہ کان نہیں دھر رہے۔ اس عدم دلچسپی کے نتیجے میں پورے دِن میں محض ڈیڑھ سو لوگ ہی ویکسین لگواتے ہیں حالانکہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق گاؤں کی کل آبادی چار ہزار چھ سو 84 افراد پر مشتمل ہے جبکہ تازہ ترین ووٹر لسٹوں کے مطابق ان میں سے تین ہزار چار سو لوگوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے۔

مقامی زمیندار محمد سفیان گجر کا کہنا ہے کہ وہ محکمہِ صحت کی ٹیم کے گاؤں میں پہنچنے سے پہلے بھی لوگوں کو ویکسین لگوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق 12 جولائی کو علاقے کے پٹواری نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن پھر بھی گاؤں کے چند درجن افراد پر ہی میری باتوں کا اثر ہوا"۔

تاہم محکمہِ صحت کے ایک اہل کار کا دعویٰ ہے کہ 12/11-L میں ویکسین لگوانے والے لوگوں کی تعداد ساہی وال ڈویژن کے کئی دیگر دیہات کی نسبت بہتر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی ایسے دیہات میں بھی گئے ہیں جہاں پورے دن میں محض پچاس کے قریب لوگوں نے ہی ویکسین لگوائی۔

ان میں سے ایک گاؤں مرادکے کاٹھیا ہے جو ہڑپہ کے تاریخی قصبے کے پاس واقع ہے۔ وہاں 31 جولائی 2021 کو ایک دِن میں صرف 65 لوگوں نے ویکسین لگوائی حالانکہ اس کی آبادی تین ہزار آٹھ سو افراد کے قریب ہے۔ ویکسین لگانے والی ٹیم کے رکن محمد اجمل صابری کے مطابق مقامی خواتین میں ویکسین لگوانے کی شرح مردوں سے بھی کم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ31 جولائی کو "ویکسین لگوانے والے لوگوں میں محض 15 خواتین شامل تھیں"۔ 

ضلع ساہی وال میں کورونا ویکسین مہم کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر شیرازی تسلیم کرتے ہیں کہ شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں، اور خاص طور پر دیہی خواتین میں، ویکسین لگوانے کا رجحان کم ہے۔ ان کے مطابق اگر سو افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے تو ان میں صرف 20 خواتین ہیں۔

ایک غیر سرکاری ادارے گیلپ پاکستان کی جانب سے جولائی 2021 میں کیا جانے والا ایک سروے بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے صرف سات فیصد لوگوں نے ویکسین لگوائی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شہروں میں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے 17 فیصد افراد ویکسین لگوا چکے ہیں۔

ویکسین کے بارے میں منفی پراپیگنڈا

ایک مسیحی مبلغ اور ان کی اہلیہ نے 27 جولائی 2021 کو اوکاڑہ شہر سے کورونا ویکسین لگوائی اور اپنی کار میں ضلع ساہی وال کے قصبے ہڑپہ کے لیے چل پڑے۔ ابھی انہوں نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ان کی اہلیہ کی طبیعت بگڑ  گئی۔ مبلغ فوری طور پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ساہی وال لے گئے جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی موت کی وجہ ان کے خون کے دباؤ کا کم ہونا تھا جس کے باعث ان کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی تھی۔

لیکن مبلغ کا دعویٰ ہے کہ ان کی اہلیہ کی موت ویکسین لگوانے کی وجہ سے ہوئی (حالانکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ویکسین لگوانے سے پہلے بھی کبھی کبھار خون کے دباؤ میں کمی کی شکایت کرتی رہی تھیں)۔

ساہی وال کے کئی دیہات میں یہ موت ویکسین نہ لگوانے کی ایک اہم وجہ بن گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس خوف سے ویکسین نہیں لگوا رہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی نہ ہو۔

لیکن طبی ماہرین اس خدشے کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کے اثرات ظاہر ہونے میں کم از کم آٹھ سے دس گھنٹے لگتے ہیں۔ نِجی شعبے میں قائم کیے گئے ساہی وال میڈیکل کالج اینڈ الائیڈ ہسپتال کے ترجمان  ڈاکٹر نثار کمبوہ کہتے ہیں کہ جِلد میں لگائے جانے کی وجہ سے ویکسین کو خون کے خلیوں تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے اس لیے ایسا ممکن ہی نہیں کہ اس کا کوئی فوری منفی ردِ عمل ہو جائے۔ ان کے مطابق مبلغ کی اہلیہ کے انتقال کی "اصل وجہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونا ہو سکتی ہے"۔

ڈاکٹر علی اکبر شیرازی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ لوگوں کو ویکسین لگواتے ہی گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی ہے حالانکہ ان کے مطابق اس گھبراہٹ کا ویکسین کے ردِ عمل سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ایسے لوگوں کی طبیعت بخار کی گولی کھانے سے بھی بگڑ جاتی ہے"۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں اور مفروضے بھی دیہاتیوں کے ویکسین کے بارے میں منفی خیالات کے ذمہ دار ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ویکسین لگوانے سے مرد بانجھ پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ کہ اسے لگوانے سے جلد مستقل طور پر خراب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ویکسین لگوانے والے تمام لوگوں کے دو سال کے اندر مر جانے اور ویکسین کے اندر ایک ایسی دھاتی چپ کی موجودگی کی غیر مصدقہ اور من گھڑت خبریں بھی زبانِ زدِ عام ہیں جسے مائیکرو سافٹ نامی کمپیوٹر کمپنی کے بانی بِل گیٹس پوری دنیا کو اپنے قابو میں کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔

گیلپ پاکستان کا حالیہ سروے بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کورونا وائرس اور اس کی ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ اس کے مطابق 55 فیصد پاکستانیوں کا ابھی تک خیال ہے کہ کورونا وائرس سرے سے موجود ہی نہیں جبکہ 37 فیصد لوگ اسے ایک بیرونی سازش قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کے مریض کس حال میں ہیں؟

چیچہ وطنی کے ایک نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن صوفی شہزاد کہتے ہیں کہ اس منفی پروپیگنڈا کی وجہ سے ان کے گاؤں میں ابھی تک صرف 50 کے قریب لوگوں نے ویکسین لگوائی ہے اور ان میں بھی زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو بیرون ملک جانے کے خواہش مند ہیں۔ ان کے مطابق مقامی باشندوں کی ایک بڑی اکثریت یہ بھی کہتی ہے کہ "انہیں کبھی کورونا ہوا ہی نہیں تو وہ ویکسین کیوں لگوائیں"۔

قومی مسئلہ، مقامی حکمتِ عملی

اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں ڈین آف ہیلتھ سائنسز کے طور پر کام کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر شعیب شاہ کہتے ہیں کہ "اگر حکومت رواں سال کے آخر تک 60 فیصد بالغ آبادی کو ویکسین لگانے کا ہدف پورا کرنا چاہتی ہے تو اسے دیہی علاقوں کے لوگوں کے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں فوری طور پر دور کرنے پر توجہ دینا ہوگی"۔  ان کے خیال میں اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں، دیہات کے نمبرداروں اور مساجد کے اماموں کو کہا جائے کہ وہ لوگوں کو ویکسین کے فوائد کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔ 

ضلع ساہی وال میں کام کرنے والے محمکہِ صحت کے ایک اہل کار عامر گل کہتے ہیں کہ اس حکمتِ عملی پر پہلے ہی عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔وہ ساہی وال شہر سے دس کلو میٹر دور پاکپتن روڈ پر واقع چھوٹا وکیل والا نامی گاؤں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں کے نمبردار نے گھر گھر جاکر لوگوں کو ویکسین لگوانے کے لیے کہا اس لئے وہاں ایک دن میں ڈھائی سو کے قریب لوگوں نے ویکسین لگوا لی۔ لیکن ان کے مطابق جب ہڑپہ کے قریب واقع گاؤں 147/9L  میں نمبردار کے ساتھ ساتھ مقامی مسجد کے امام نے بھی ویکسین کے حق میں مہم چلائی تو ایک ہی دن میں پانچ سو سے زیادہ افراد ویکسین لگوانے پر آمادہ ہو گئے۔ 

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 11 اگست 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 4 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔