بلوچستان کے کان کن زندگی یا روز گار میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بلوچستان کے کان کن زندگی یا روز گار میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟

عاصم احمد خان

postImg

بلوچستان کے کان کن زندگی یا روز گار میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟

عاصم احمد خان

سہ پہر کا وقت تھا مچھ کی ایک کوئلہ کان میں کئی مزدور کام کررہے تھے، 34 سالہ امان اللہ روزانہ کی طرح کان کے باہر ایک ڈھیر سے کوئلہ بوری میں بھرنے میں مصروف تھا۔دبلی جسامت، مگر سخت جان امان دن بھر کوئلے کی بوریاں بھرتا اور پھر انہیں اپنے کندھے پر اٹھا کر اس مقام تک پہنچاتا جہاں سے انہیں ٹرک میں لوڈ کیا جاتا ہے۔دن بھر کوئلے کے ڈھیر میں گزارنے کے باعث اس کا چہرہ اور کپڑے سیاہ گرد میں اٹے ہوئے تھے۔

بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلومیٹر دور ہے 50 ہزار کی آبادی پر مشتمل اس علاقے میں 50 سے زائد رجسٹرڈ کوئلہ کانیں ہیں اور یہاں کی 70 فیصد آبادی کان کنی کے شعبے سے ہی وابستہ ہے۔

امان دن بھر کی مشقت کے بعد اپنا کام ختم کرنے ہی والا تھا  کہ اچانک سات سے آٹھ نقاب پوش مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہاں موجود کان کن حرکت بھی نہ کرسکے۔ مسلح افراد کی جانب سے چھ کان کنوں کو ایک راستے پر چلنے کا اشارہ کیا گیا، ان میں سے ایک امان بھی تھا، ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ امان اور دیگر کان کن بنا توقف کئے ان کے حکم پر عمل کرنے لگے۔

وہ مسلسل انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستے پر چلتے گئے اور جب بے حال ہو گئے تو اغواء کاروں نے کھلے آسمان تلے ہی ایک مقام پر پڑاؤ ڈال لیا۔

وہ مسلسل سفر کرتے رہے اس دوران اغواء کار پہاڑوں پر ویرانے میں کبھی دو دن تو کبھی تین دن کھلے آسمان تلے پڑاو کرتے۔

پہاڑی راستوں پر بنارکے 12، 12 گھنٹے سفر کرنے سے مغویوں کے پاؤں پر چھالے پڑ چکے تھے، اکثر انہیں کھانے کو بھی کچھ نہ دیا جاتا جس سے ان کی حالت مزید بگڑ رہی تھی۔

اغواء کاروں کی ہر وقت ان پر نظر ہوتی، وہ انہیں اپنی مرضی کے بنا حرکت بھی نہیں کرنے دیتے تھے۔

بلوچی، براہوی اور پشتو بلوچستان کی تین ذیادہ بولی جانے والی زبانیں ہیں امان بھی پشتو بولنے کے علاوہ بلوچی اور براہوی زبان کچھ حد تک سمجھتے تھے مگر اغوا کار آپس میں ایسی زبان میں گفتگو کر رہے تھے جو امان اور دیگر مغویوں کے لیے انتہائی اجنبی تھی۔

امان اللہ کا تعلق خیبر پختونخواء کے علاقے شانگلہ سے ہے جسے 11 نومبر کو نامعلوم مسلح افراد دیگر پانچ مزدوروں کے ہمراہ اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے

تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کا باپ امان اپنے گھر کا واحد کفیل ہے گھر سے سیکڑوں میل دور سخت مشقت کرکے معمولی اجرت کی خاطر وہ سال بھر اپنے بیوی بچوں سے دوری برداشت کرتا تاکہ اس کے بچے بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔

طویل عرصے کی اس قید کے دوران اغواء کاروں کا رویہ پرتشدد یا غیر انسانی تو تھا مگر امان اللہ کو بس اسی بات کا خوف رہتا کہ کہیں اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل ہی نہ کردیا جائے۔

<p>کوئٹہ سے28 کلومیٹر دور سورینج کی کوئلہ کان <br></p>

کوئٹہ سے28 کلومیٹر دور سورینج کی کوئلہ کان

امان اور اس کے دیگر چار ساتھیوں کو 17 روز کی قید کے بعد رہائی ملی تو اس نے خدا کا شکرادا کیا۔

بازیاب ہونے والوں میں روزی خان، سرتاج، امان اللہ اور فرمو الدین کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ سے جبکہ جمال کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔

تاہم سوات کے رہائشی برکت علی کو تب رہا نہیں کیا گیا اور وہ مزید دو ہفتے قید رہے۔

اس واقعے سے چند روز پہلے کالعدم تنظیم کی جانب سے مچھ کی 'مائینز ایریا نمبر 66' سے پہچانے جانے والی اس کان کے مالک کو  بھتہ نہ دینے پر کان کنی بند کرنے سے متعلق دھمکی آمیر پمفلٹ پھینکا گیا تھا۔

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عباداللہ مزدوروں کی بازیابی کیلئے سرگرم رہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرگے اور قبائلی عمائدین کی کوششوں سے ان مزدوروں کی رہائی ممکن ہوئی جبکہ اہل خانہ نے بھی اغواء کاروں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔

ڈاکٹر عباد کے مطابق اغواء کار ان مزدوروں کو رات گئے کوئٹہ سے 60 کلو میٹر دور مچھ کے ہی پہاڑی علاقے میں چھوڑ گئے تھے جہاں سے وہ انہیں اپنے ساتھ لے آئے۔

مچھ سے اغواء ہونے والے چھٹے کان کن برکت کیلئے پریشانی تب بڑھی جب دیگر پانچ ساتھیوں کو تو رہا کردیا گیا مگر انہیں آزاد نہ کیا گیا۔

برکت نے اغواء کاروں سے منت سماجت کی کہ خدارا اسے بھی ان کے ساتھیوں کے ہمراہ آزاد کردیا جائے مگر اغوا کاروں نے کہا کہ جب وہ چلنے کے قابل ہوجائیں گے توانہیں بھی رہا کیا جائے گا۔

تاہم برکت کے چچازاد بھائی اقبال یوسفزئی کے مطابق جس تنظیم نے انہیں اغواء کیا انہوں نے اسے مشکوک قرار دے کر اپنے پاس مزید وقت کیلئے قید رکھا۔

"بتیس سالہ برکت بطور منشی (اکاونٹنٹ) مچھ کی اسی کوئلہ کان میں چار سال سے کام کررہے تھے، وہ عام کان کنوں کی نسبت پڑھے لکھے تھے جس کی وجہ سے انہیں مزدوری کی بجائے انتظامی نوکری مل گئی تھی۔ بہتر روزگار ملنے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ مچھ میں ہی مستقل طور پر رہائش پزیر ہوگئے تھے۔"

اقبال نے مزید بتایا کہ برکت کے پاس اکثر راشن کی پرچیاں ہوتی تھیں یہ پرچیاں کان میں آنے والے راشن کی رسیدیں ہیں جو وہ حساب کتاب کے لیے اپنے پاس سنبھال کررکھتے تھے۔

"جب اغوا کار انہیں اپنےساتھ لے گئے تو اس وقت بھی ان کے پاس راشن کی ایک ایسی پرچی تھی جس کا سامان ایف سی کی چیک پوسٹوں پر پہنچایا گیا تھا"۔

مچھ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) بلوچستان کی مختلف چیک پوسٹیں قائم ہیں، جن پر نجی کنٹریکٹرز کے زریعے راشن پہنچایا جاتا ہے۔

مسلسل پہاڑی راستوں پر پیدل چلنے سے برکت علی کی حالت دیگر مغوی کان کنوں کی نسبت کہیں ذیادہ بگڑ چکی تھی۔

انہیں 31 روز کی قید کے بعد بالاآخر رہائی مل گئی اور وہ اپنے گھر لوٹ آئے۔تاہم اس واقعے کے بعد سے وہ شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہیں۔

ان کے کزن اقبال کے مطابق برکت کی بازیابی  کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا باوجود اس کے کہ وہ انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے خاندان کےواحد کفیل ہیں۔

ہر وقت حملے کا خوف

بلوچستان میں کوئلہ کان کنی کو سب سے بڑی صنعت تصور کیا جاتا ہے، چیف انسپکٹر مائینز بلوچستان عبدالغنی کہتے ہیں کہ  تقریباً تین ہزار کے قریب کوئلہ کانوں میں 42 ہزار سے زائد کان کن کام کرتے ہیں۔

جامعہ بلوچستان کے ایک تحقیقاتی مکالے کے مطابق صوبے کی کوئلہ کانوں میں 60 ہزار سے زائد کان کن کام کررہے ہیں، تاہم ان کانوں میں کام کرنے والے اکثر مزدوروں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔

بلوچستان میں حادثات اور حملوں میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کئی مزدور جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

کان کنوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کول مائینز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی علی بش خان کے مطابق ضلع شانگلہ کے تقریباً 75 فیصد مزدور کان کنی سے وابستہ ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں کام کرتی ہے۔

شانگلہ سے ہی تعلق رکھنے والے 32 سالہ فرید الدین ہرنائی  کی ایک کوئلہ کان میں دو سال سے کام کررہے ہیں۔

کوئٹہ سے 170 کلومیٹر دور ضلع ہرنائی کے علاقوں شاہرگ اور خوست میں ساڑھے چھ ہزار ایکٹر سے زائد رقبے پر کوئلہ کانیں (کول فیلڈز) قائم ہیں۔2017 کی مردم شماری کے مطابق یہاں 97 ہزار سے زائد لوگ آباد ہیں۔

پاکستان منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ان علاقوں میں 29 ملین ٹن کے قریب کوئلے کے زخائر ہیں جبکہ 2013ء کے بعد سے یہاں اوسط دو ملین ٹن سالانہ کوئلہ نکالا جارہا ہے۔

فرید کہتے ہیں عدم تحفظ کے ماحول کے باوجود وہ یہاں خوشی خوشی کام کررہے ہیں۔ "روزگار نہ ہو، گھر میں بچوں کیلئے کھانے کو کچھ نہ ہو تو کہیں کام مل جائے غنیمت ہے"۔

فرید الدین کے چار بچے ہیں جن کی عمریں دو سے سات سال کے درمیان ہیں۔ وہ پہلے شانگلہ میں ہی ایک کان میں کام کرتے تھے مگر بے روزگار ہوئے تو ہرنائی آگئے جہاں ان کے چچا زاد حمید احمد اسی کان میں مزدوری کرتے ہیں۔
حمید بتاتے ہیں کہ کان کن اغواء کے مسلسل واقعات سے بے حد پریشان ہیں۔

"گھر سے دور روزگار کی تلاش میں آنے کے بعد اب ہر وقت یہی ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کی کان پر بھی مسلح افراد دھاوا نہ بول دیں"۔

حمید مسلسل اسی کشمکش میں ہیں کہ کیا وہ ان حالات میں مزید یہاں کام کریں یا پھر گھر واپس لوٹ جائیں؟

اغوا کار کون ہیں؟

بلوچستان میں کان کنوں کے اغوا اور قتل کے واقعات کا تسلسل طویل عرصے سے جاری ہے۔

مسلح تنظیموں کی جانب سے زیادہ تر واقعات کی زمہ داری قبول کی جاتی ہے جبکہ کئی کان کنوں کو ریاستی جاسوس قرار دے کر بھی قتل کیا گیا ہے۔

یکم نومبر 2013 کو کوئٹہ سے 150 کلومیٹر دور ضلع بولان میں کوئلہ کان کنوں کی گاڑی پر فائرنگ سے چھ مزدور مارے گئے تھے۔ مارے جانے والے مزدور کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے تھے تاہم ان مزدوروں کے قتل کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی اور نہ ہی تحقیقات میں کسی تنظیم کا نام سامنے آیا۔

پچیس دسمبر 2013 کو ہرنائی سے 35 کلومیٹر دور شاہرگ کے علاقے سے آٹھ کان کن کو اغوا کرلیا گیا تھا جن کا تعلق شانگلہ سے تھا۔ ان کان کنوں کو 10 جنوری 2014 کو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

جولائی 2014ء میں کوئٹہ کے شمال مشرق میں 35 کلو میٹر دور ڈیگاری میں کوئلہ کان میں سات کان کنوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا اس واقعے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے لی تھی۔ چند روز بعد مچھ سے آٹھ کان کنوں کو اغواء کر لیا تھا۔

جنوری 2015 میں کوئٹہ سے 28 کومیٹر دور سورینج کی کوئلہ کان سے عملے اور کان کنوں سمیت سات افراد کو اغواء کرلیا گیا جن میں سے دو کو ابتدا ہی میں جب کہ دیگر پانچ کو بعد ازاں رہا کردیا گیا تھا۔تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ان مغویوں کو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی ملی یا پھر ویسے ہی چھوڑ دیا گیا؟

اکیس نومبر 2021 کو ضلع ہرنائی سے 35 کلومیٹر دور شاہرگ میں مسلح افراد نے کوئلہ کان میں کام کرنے والے تین کان کنوں کو گولی مار کر قتل کردیا۔دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ کا مقدمہ تو درج کرلیا گیا مگر آج تک اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

گزشتہ ایک برس کے دوران بلوچستان کی کوئلہ کانوں سے مزدوروں کو عملے کے اغواء کے واقعات میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بلوچستان کے علاقے مچھ میں اس سال تین جنوری 2022ء کو رات گئے کوئلہ کان میں 11 کان کنوں کو قتل کردیا گیا تھا، واقعہ کی زمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی۔

بارہ جون 2022ء کو کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ایک انجینئر اور تین کان کنوں کو اغوا کرکے مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ اغواء ہونے والے افراد میں سے دو کا تعلق چکوال، دوسرے کا صوابی اور تیسرا مظفر آباد کا رہائشی تھا۔

بعد ازاں کوئلہ کان کے انجینئر شیر بہادر  کی لاش ہرنائی کے قریبی علاقے سے ملی تھی جبکہ دیگر کان کنوں کو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی مل گئی۔

سرکار کے وعدے اور دعوے

انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس عبد الخالق شیخ کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں کوئلہ نکالنے کے 40 مقامات پر پولیس کو تعینات کیا گیا ہے اور دیگر علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

بلوچستان میں کان کنوں کی حادثات میں اموات اور اغواء برائے تاوان جیسے واقعات کوئی نئی بات نہیں مگر سالہا سال سے ان مسائل کی نشاندہی کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے مائینز ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کو کوئلہ کانوں میں سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے مگر اب تک زمینی حقائق ویسے کے ویسے ہیں۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ممبر حبیب طاہر ایڈوکیٹ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئلہ مالکان اور ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کیا جاتا ہے اس کے ساتھ مزدوروں کو اغواء کیا جاتا ہے۔"حال ہی میں مچھ کی کوئلہ سے چھ مزدوروں کو اغواء کیا گیا جن کو بعد میں تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا گیا تاہم یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ادا کی گئی تاوان کی رقم کتنی تھی"۔

انہوں نے کہا کہ 'افسوس کی بات ہے کہ حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے موثر اقدامات نہیں کئے جارہے اور کئی سالوں سے حکومت مزدوروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے'۔

پاکستان مائینز فیڈریشن کے چیئرمین لالہ سلطان کہتے ہیں کہ انہوں نے بارہا اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اغوا کاروں سے اور تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ غریب مزدوروں کو اغوا نہ کریں جو اپنے پیاروں سے سیکٹروں میل دور روزی روٹی کے لیے یہاں آتے ہیں۔یہ مزدور آپ کا مسئلہ نہیں ہیں۔

"ایک ریلیف ملا ہے کہ پہلے کان کنوں کو اغوا کرکے قتل کردیا جاتا تھا مگر اب یہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔تاہم کوئلہ کانوں میں بھتے کے پیچھے کون ہیں اور یہ کیوں کیا جارہا ہے، ہمیں اس کا علم نہیں۔" لالہ سلطان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسئلے کا حل نکلنا چاہیے۔

کوئہ سے 230 کلو میٹر دور ضلع دکی سے تعلق رکھنے والے ظریف خان ںاصر نے تین سال قبل کوئلہ کان پانچ سالکے لیے ٹھیکے پر حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ہمارے حصے میں عذر آئے، جواز آئے، اصول آئے: 'صوبائی حکومت چترال میں کان کنی سے منسلک لوگوں کا روزگار بند کرنے پر تُلی ہوئی ہے'۔

ان کے مطابق انہیں دو ماہ سے بھتے  کے لیے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے کان میں کام بند کردیا ہے۔

"مجھے اب تک 15 بار دھمکی مل چکی ہے کبھی مجھ سے ایک کروڑ تو کبھی 50 لاکھ روپے بھتہ دینے کا کہا جاتا ہے"۔

ظریف نے بھتے کی دھمکی ملنے کے خلاف دکی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائی مگر آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

"کام بند رہنے کی وجہ سے سات سے آٹھ کروڑ روپے مالیت کا کوئلہ نکالا نہیں جاسکا جس سے  کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے"۔

"میری طرح دکی کے کئی دیگر ٹھیکداروں کو بھی بھتے کے لیے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ہم نے بھتے کی دھمکیوں کے خلاف دکی میں قومی شاہراہ پر دھرنا بھی دیا مگر ہم اب بھی بھتہ مافیا کے رحم و کرم پر ہیں"۔
دھرنے میں شریک نوراللہ نامی ٹھیکیدار نے کہا کہ 'ہم نے مجبوراً کوئلے سے بھرے ٹرک شاہراہ پر کھڑے کر کے احتجاج شروع کیا تاکہ انتظامیہ ہمارے مسلے کو سنجیدہ لے۔مسلسل درخواستیں دینے کے باوجود بھی دھمکیاں ملنے کا سلسلہ نہیں رکا، کیا ہم اپنی کوئلہ کانیں بند کردیں؟'

ڈائریکٹر جنرل مائنز بلوچستان بشیر مستوئی کہتے ہیں کہ کانوں کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق کوئلے کی کمپنیوں کی انتظامیہ کو خود سیکورٹی کا خیال رکھنا چاہیے۔

تاریخ اشاعت 22 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عاصم احمد کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2015 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔وہ ہیومن رائیٹس، ماحولیات، اکانومی اور انتہاپسندی پر رپورٹ کرتے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ