'زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا'، سکھر میں بچوں کے اغوا کی بڑھتی وارداتوں پر پولیس کی بے بسی

postImg

خالد بانبھن

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

'زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا'، سکھر میں بچوں کے اغوا کی بڑھتی وارداتوں پر پولیس کی بے بسی

خالد بانبھن

loop

انگریزی میں پڑھیں

راجو مل سکھر کی تحصیل صالح پٹ کے شہر سنگرار میں کریانے کی دکان چلاتے ہیں۔ ہر سال کی طرح 2021ء میں بھی دس محرم کو انہوں نے اپنے گھر کے باہر سبیل لگائی تھی۔ جب ان کی سات سالہ بیٹی پریا کماری سبیل پر عزاداروں کو پانی پلا رہی تھیں تو نامعلوم افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔ دو سال بعد بھی ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

پریا مقامی نجی سکول میں تیسری جماعت کی طالبہ تھیں۔ ان کی والدہ وینا کماری غم سے نڈھال ہیں اور ہر وقت بیٹی کے لیے روتی اور گھنٹوں دیواروں سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔

پریا کے والد راجو مل بھی صدمے کی کیفیت سے نکل نہیں پائے۔ بیٹی کے ذکر پر ان کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 23 ماہ تک انہوں نے اپنی بیٹی کو گلی گلی، محلہ محلہ تلاش کیا مگر اس کا کہیں پتا نہیں چلا۔ اب گویا وہ جیتے جی مر چکے ہیں۔

راجو مل نے بتایا کہ اغوا کے فوری بعد ہندو پنچایت نے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور پولیس افسروں سے رابطہ کیا اور پریا کماری کی بازیابی کیلئے انکوائری ٹیم بھی بنی ۔اس میں ایس ایس پی رینک کے تین افسر شامل تھے۔سب نے تسلی دی مگر ان کی بیٹی نہیں ملی۔

 

"اُس وقت کے آئی جی مشتاق احمد دو مرتبہ سنگرار میں ہمارے گھر آئے۔ انہوں نے بچی کی بازیابی کی یقین دہانی کروائی مگر کچھ نہیں ہوا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر 300 سے زیادہ افراد کو حراست میں بھی لیا۔انکوائری ٹیم نے ان کے رشتہ داروں ،محلہ داروں اور آنے جانے والے بہت سے لوگوں سے تفتیش کی یہاں تک کہ گھر کے سامنے ٹیلے کی کھدائی بھی کرائی گئی مگر پریا کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملا۔"

اب پریا کماری کے والدین آبائی علاقہ چھوڑ کر سکھر شہر میں مقیم ہیں۔ یہ لوگ کسی سے نہیں ملتے اور بس اس آس پر دن کاٹ رہے ہیں کہ ایک دن ان کی بیٹی انہیں مل جائے گی۔

ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک اعتراف کرتے ہیں کہ پریا کو بازیاب کرانے کی ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔وہ بتاتے ہیں کہ دوران تفتیش پریا کماری کے کپڑوں سے نمونے لیے گئے تھے۔ ڈی این اے ٹیسٹ میں سیمین سٹین کی نشاندہی ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ خاندان کے چند قریبی لوگوں سے تفتیش کرنا چاہتے تھے مگر پریا کے رشتہ دار تعاون نہیں کررہے۔ ایس ایس پی یہ بھی کہتے ہیں کہ ماہرین کی رائے میں 'اگر گھر والوں کے کپڑے ایک ساتھ دھوئے جائیں تو سیمین سٹین دیگر کپڑوں پر آسکتے ہیں' اس لیے ابھی وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ پریا کماری کے گھر والوں کے موبائل فون انہوں نے ایف آئی اےکو دیے ہیں۔

"گھر والے کہتے ہیں کہ ہم پاس ورڈ بھول گئے ہیں۔ فون دس روز ایف آئی اے کے پاس رہے مگر وہ کہتے تھے کہ اگر پاس ورڈ کے بغیر فون کھولیں گے تو ڈیٹا ضائع ہو جائے گا۔"

پریا کے والد راجو مل کہتے ہیں کہ بیٹی کے غم میں وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہے تو موبائل فون کے پاس ورڈ کیسے یاد رکھتے۔

 ایس ایس پی سنگھار ملک کا کہنا ہے کہ اب تک تین سو سے زیادہ مشکوک افراد سے تفتیش ہو چکی ہے جیل میں جرائم پیشہ افراد، مسافر خانوں اور قحبہ خانوں میں بھی تحقیقات کی گئی ہیں۔ پریا کو خانہ بدوش قبائل کےخیموں میں بھی تلاش کیا گیا ہے۔ تاہم تاحال ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔

انہیں یقین ہے کہ پریاکماری زندہ ہے اور وہ ضرور ملے گی۔ بچی کوتاوان کے لیے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ لاپتہ ہے۔ سندھ حکومت نے پریا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اس کی تلاش میں مدد دینے پر 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

سکھر میں ہندو پنچایت کے صدر مکھی ایشور لعل ماکھیجا بتاتے ہیں کہ ایس ایس پی سکھر نے وعدہ کیا تھا کہ پریا کماری کو ہر حال میں بازیاب کرائیں گے۔انہیں امید ہے پریا جلد اپنے والدین سے ملے گی۔

سنگرار شہر کے مکھی وسومل کو خانہ بدوشوں پر بچی کے اغوا کا شبہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محرم کے دوران یہاں شہر میں خانہ بدوش آ کر خیمے لگاتے ہیں۔ جس روز پریاکماری اغوا ہوئی تھی اسی دن شام کو تمام خانہ بدوش خیمے اکھاڑ کر غائب ہوگئے تھے اور دوبارہ اس علاقے میں نظر نہیں آئے۔

مکھی راجیش کمار مینگھواڑ نے بتایا کہ پریا کے اغوا پر بار بار تفتیش سے اس کے رشتہ دار اس قدر پریشان ہوئے کہ وہ کیس سے ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔

پریا کماری کے چچا نانک رام بتاتے ہیں کہ ان کا آٹھ سالہ بیٹا دھنیش کہتا ہے کہ "میری بہن پریابہت یاد آتی ہے۔ تیسرا محرم آگیا ہے مگر پریا واپس نہیں آئی ا ب تو مجھے بھی گھر کے باہر سبیل لگاتے بہت ڈر لگتا ہے۔"

 سندھ میں گذشتہ تین برسوں  سے بچوں کے اغوا میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جو ڈاکو پہلے عورتوں اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانے کی قسمیں کھاتے تھے اب وہ تاوان کے لیے بچے بھی اغوا کر رہے ہیں۔

بچوں کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم ساحل کے ڈویزنل کوآرڈینیٹر برکت علی انصاری کہتے ہیں کہ گزشتہ سال چار ہزار 353 بچے جنسی تشدد ،گمشدگی اور کم عمری کی شادی سے شکار ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

مسیحی لڑکیوں کا اغوا اور جبری شادی: 'کسی شہری کو دوسروں پر اپنا عقیدہ مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں'۔ 

2022ء کی سالانہ رپورٹ کےمطابق جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے زیادہ بچے پانچ سے چھ سال کی عمر کے ہیں۔ان میں دو ہزار 325 لڑکیاں اور ایک ہزار928 لڑکے شامل تھے۔

گذشتہ سال 428 بچوں کی گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ان بچوں کا تعلق ضلع سکھر، خیرپور، کشمور، گھوٹکی، جیکب آباد ،لاڑکانہ، دادو، نوشہرو فیروز اور دیگر اضلاع سے تھا۔ اسی طرح 95 بچیوں کے اغوا کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔

 چند ماہ پہلے سکھر کے علاقے مائیکرو ٹاور کالونی سے پانچ سالہ آزاد علی ولد امتیاز علی میرانی کو گھر کے سامنے سے اغوا کر لیا گیا۔ دبر گوٹھ سے بارہ سالہ واجد ولد محمد رفیق کو بھی نامعلوم افراد محلے سے اغوا کر کے لے گئے۔

 سکھر کے آباد محلے سے آٹھ سالہ صمد ولد حاجی شیخ کو اغوا کیا گیا اور اغوا کاروں نے 25 لاکھ تاوان کا مطالبہ کیا۔

ضلع کشمور میں کندھ کوٹ سے چھ سالہ فرحان سومرو کو اغوا کیا گیا۔ان کی رسیوں سے بندھے ہاتھوں سمیت تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق دو سالہ مغوی کوثر کھوسو، آٹھ سالہ صداقت حاجانو، بارہ سالہ مقبول میرانی، چار سالہ صمد کمار اور پانچ سالہ جے دیپ ڈاکوں کے قبضے میں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بازیاب ہونے والے بیشتر مغویوں کی رہائی پولیس مقابلوں کے ذریعے عمل میں آئی لیکن آج تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔

تاریخ اشاعت 4 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

خالد بھانبھن، سکھر سندھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بطور رپورٹر صحافی ،انسانی حقوق ،ماحولیات، جیوپولیٹیکل موضوعات پر رپوٹنگ کرتے ہیں۔

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: نور کاتیار

ارسا ترمیم 2024: مسئلے کا ایک حصہ: محمود نواز شاہ

thumb
سٹوری

پرائیویٹ سکول میں تعلیم: احساس برتری یا کچھ اور ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمعظم نواز

خیبر پختونخوا: پانچ اضلاع کو جوڑنے والا رابطہ پُل 60 سال سے تعمیر کا منتظر

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: محمود الحق

ارسا ترمیم اور کارپوریٹ فارمنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ فضلِ رب

thumb
سٹوری

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

خیبر پختونخوا: نصاب میں نفرت پڑھا کر محبت نہیں سکھائی جا سکتی

thumb
سٹوری

عیسک خماری میں اب کیوں کوئی نہیں کہتا: بجلی لاڑہ بجلی راغلہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ارسا آرڈیننس: دریائے سندھ سے جڑی ایکولوجی، ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کے لیے خطرہ، فاطمہ مجید

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: فرحت اللہ بابر

تھرپارکر: صحرا ہے کہ پھولوں کی نمائش

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.