آذربائیجانی خاتون کے اغواہ اور تشدد کا معاملہ
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

آذربائیجانی خاتون کے اغواہ اور تشدد کا معاملہ

لائبہ زینب

postImg

آذربائیجانی خاتون کے اغواہ اور تشدد کا معاملہ

لائبہ زینب

جمیلہ نظامی نو سال پاکستان میں گزارنے کے بعد نومبر 2020ء میں اپنے ملک آذربائیجان چلی گئیں۔

وہ اکتوبر 2011 میں پاکستان آئیں۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق اس وقت وہ ایک آٹھ سالہ بیٹے کی ماں تھیں اگرچہ ان کے خاوند سے ان کی علیحدگی ہو چکی تھی۔ ان کے دیگر اہلِ خانہ میں ان کی والدہ، دو بھائی اور ایک بہن شامل تھے۔ 

آذربائیجان روانگی سے قبل اسلام آباد کے ایدھی سنٹر میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کے کمزور معاشی حالات کی وجہ سے پاکستان آنے پر مجبور ہوئیں۔ انہوں نے کہا: 'میں چاہتی تھی کہ کسی اچھے خاندان میں میری شادی ہو، میرے پاس نوکری ہو تاکہ میں اپنے گھر والوں کی مدد کر سکوں۔ میں اپنے چھوٹے بھائی کو بھی پڑھانا چاہتی تھی'۔

ان کی والدہ کی جاننے والی ایک عورت نے جمیلہ کو امید دلائی کہ وہ انہیں پاکستان لے جاکر ان کی شادی کرا دیں گی۔ اس عورت کی اپنی بیٹی بھی پاکستان میں رہتی تھی۔ 

لیکن جمیلہ نے سجاگ کو بتایا کہ جب وہ راولپنڈی میں اس عورت کی بیٹی کے پاس پہنچیں تو انہِیں ایک اور آذربائیجانی عورت کے حوالے کر دیا گیا جس نے ان کا پاسپورٹ چھیننے کے بعد انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا۔ جمیلہ کا کہنا تھا: 'میری شادی کرانے کے لئے مجھے یہاں لایا گیا مگر مجھ سے گندے کام کروائے گئے'۔

تین سال راولپنڈی میں گزارنے کے بعد جمیلہ کو ایک دوسری آذربائیجانی عورت کے ہاتھوں ایک لاکھ روپے کے عوض بیچ دیا گیا جو انہیں کراچی لے گئی جہاں انہیں ڈیفنس کے علاقے میں فلوریڈا ہومز نامی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ٹھہرایا گیا۔

اس آذربائیجانی عورت کا خاوند ایک پاکستانی تھا جو جمیلہ کے مطابق جسم فروشی کے ساتھ ساتھ کوکین اور آئس جیسے نشے بیچنے مِیں بھی ملوث تھا۔ ان دونوں میاں بیوی کی ایک ساتھی عورت جمیلہ کو کراچی کے بنگلوں اور اپارٹمنٹوں میں جسم فروشی کے لئے بھیجتی تھی۔ اگلے پانچ سال ان سے یہی کام لیا جاتا رہا۔

جمیلہ نے سجاگ کو بتایا کہ اس دوران ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس سے ان کی دوستی ہوگئی لیکن ان کے مطابق اس دوستی کی وجہ سے ان پر تشدد کیا گیا اور اپارٹمنٹ سے بھی نکال دیا گیا۔

اپارٹمنٹ چھوڑنے  کے بعد کچھ دن وہ اپنے دوست کے گھر میں رہیں لیکن 13 جنوری 2019 کو ان کے دوست کے والد انہیں رفاہی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے کلفٹن میں قائم سنٹر میں چھوڑ آئے جہاں سے ایک ماہ بعد انہیں ایدھی ہومز اسلام آباد منتقل کیا گیا تاکہ وہ آذربائیجان کے سفارت خانے سے رابطہ کر کے اپنے ملک واپس جانے کا بندوبست کر سکیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن نے 5 نومبر 2019 کو وزارتِ داخلہ کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ جمیلہ کو آذربائیجان واپس جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ آذربائیجانی پاسپورٹ سمیت ان کی تمام سفری دستاویزات مکمل ہیں اور یہ کہ ان کے ہوائی ٹکٹ سمیت ان کے سفر کا خرچ ایدھی فاؤنڈیشن ادا کرے گی۔

چھ نومبر 2019ء کو اسلام آباد میں آذربائیجان کے سفارت خانے نے پاکستانی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ دونوں کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ جمیلہ انسانی سمگلنگ کا شکار ہوئی ہیں لیکن ویزے کے بغیر پاکستان میں رہنے کی وجہ سے وزارتِ داخلہ نے انہیں آذربائیجان جانے سے روک دیا ہے اور ان پر ساڑھے پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔ اس خط میں حکومتِ پاکستان سے درخواست کی گئی کہ جتنی جلدی ممکن ہو جمیلہ کو اپنے ملک جانے کی اجازت دی جائے اور ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ ان کو جسم فروشی پر مجبور کرنے والی ایک آذربائیجانی عورت وسیلہ کو گرفتار کیا جائے اور اس کے خلاف مقدمہ چلانے میں مدد کی جائے۔ 

سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کراچی میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے وکیل ضیا اعوان سے رابطہ کیا تاکہ وہ اس معاملے میں ان کی مدد کر سکیں۔ نتیجتاً ضیا اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی جس کی سماعت کئی مہینے چلتی رہی۔

اکتوبر 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بالآخر حکومتِ پاکستان کو حکم دیا کہ جمیلہ پر عائد جرمانہ ختم کیا جائے اور انہیں ان کے ملک واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

اس رِٹ کی سماعت کے دوران ضیا اعوان نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ متعدد بار مطلع کیے جانے کے باوجود وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے نے جمیلہ کو پاکستان لانے اور ان سے جسم فروشی کرانے والے لوگوں کے بارے میں کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔

ایف آئی اے نے اس پر یہ موقف اختیار کیا کہ اس نے اس معاملے میں کوئی کارروائی اس لئے نہیں کی کیونکہ اسے اس ضمن میں کوئی شکایت ہی موصول نہیں ہوئی۔

لیکن فیصل ایدھی کی طرف سے ایف آئی کو لکھے گئے خطوط کا حوالہ دیتے ہونے ضیا اعوان نے کہا کہ ان خطوط میں جمیلہ کے ساتھ پاکستان میں پیش آنے والے حالات کی مکمل تفصیل موجود تھی جس کے باوجود 'ایف آئی اے صرف اس وقت حرکت میں آئی جب کچھ ماہ پہلے نیوز میڈیا نے جمیلہ کے کیس کی کارروائی پر رپورٹنگ کرنا شروع کی'۔

جمیلہ کے معاملے میں ملوث افراد کے بارے میں تحقیقات کرنے کا کام اب اسلام آباد سے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں متعین ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے انسداد انسانی اسمگلنگ شعیب خان کا کہنا ہے کہ 'اس معاملے سے متعلقہ تمام اداروں کو خطوط لکھ دیے گئے ہیں اور مختلف دستاویزات کی چھان بین جاری ہے'۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ جلد ہی ان تمام لوگوں کو گرفتار کر لیں گے جو پاکستان میں جمیلہ کی حالتِ زار کے ذمہ دار تھے۔

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں کراچی سے رابعہ بگٹی نے معاونت کی۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 14 جنوری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 10 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

لائبہ زینب گزشتہ 7 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور فی الوقت جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے ساتھ بطور کمیونیکیشن آفیسر کام کر رہی ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ