مقابلے کے امتحان میں پیسے کا عمل دخل: پنجاب پبلک سروس کمیشن کے عملے سے مل کر پرچے آؤٹ کرانے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مقابلے کے امتحان میں پیسے کا عمل دخل: پنجاب پبلک سروس کمیشن کے عملے سے مل کر پرچے آؤٹ کرانے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟

اسامہ عرفان

postImg

مقابلے کے امتحان میں پیسے کا عمل دخل: پنجاب پبلک سروس کمیشن کے عملے سے مل کر پرچے آؤٹ کرانے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟

اسامہ عرفان

جب گوہر علی شیر کو گرفتار کیا گیا تو وہ تاریخ کے لیکچرار  کے طور پر تقرر کے لئے انٹرویو کال کا انتظار کر رہا تھا۔   

اس کا تعلق ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ سے ہے اور وہ پنجاب یونیورسٹی کے تاریخ کے شعبے میں ایم فِل کا طالب علم ہے۔ 5 دسمبر 2020 کو اس نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے منعقد کیا گیا تاریخ کے لیکچرار کا تحریری امتحان دیا۔ 19 دن بعد کمیشن نے اس امتحان میں کامیاب ہونے والے ایسے 121 لوگوں کی فہرست شائع کی جنہیں گریڈ 17 کی اس اسامی کے  انٹرویو کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ گوہر علی شیر کا نام بھی اس فہرست میں شامل تھا۔

لیکن 2 جنوری 2021 کو صبح چھ بجے انسدادِ رشوت ستانی کے محکمے نے لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے قریب واقع ایک رہائشی علاقے سے اسے اور اس کے تین ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کے پاس مبینہ طور پر اسی روز پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے کرائے جانے والے تحصیلدار کی اسامی کے تحریری امتحان کا سوال نامہ قبل از وقت موجود تھا۔

ان کی گرفتاری سے پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن کئی ماہ سے ایسی افواہوں کی زد میں تھا کہ اس کے امتحانات کے سوالنامے قبل از وقت فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ امتحانات 1978 میں بنائے گئے پنجاب پبلک سروس کمیشن ایکٹ کے تحت صوبہ پنجاب کے 48 محکموں میں مختلف گریڈ کی آسامیوں پر تقرری کے لئے لیے جاتے ہیں۔ اپریل 1937 میں وجود میں آنے والا یہ کمیشن ابتدائی طور پر گریڈ 16 سے گریڈ 22 تک کی آسامیوں کے امتحان اور انٹرویو لیتا تھا لیکن پچھلے چند سالوں میں اسے اِن سے نچلے گریڈ کے امیدواروں کے انتخاب کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ 

جب کسی صوبائی محکمے نے کسی خالی آسامی پر بھرتی کرنا ہوتی ہے تو  وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو اس آسامی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتا ہے جن کی بنیاد پر کمیشن اپنی ویب سائٹ اور مختلف اخباروں میں ایک اشتہار شائع کرتا ہے۔ جو لوگ اس اسامی کے لیے مطلوبہ شرائط پر پورا اترتے ہیں انہیں 100 معروضی سوالات پر مبنی ایک سوالنامہ حل کرنا ہوتا ہے۔ اس امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے جس کے نتائج کی بنیاد پر تقرری کے لئے حتمی امیدواروں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ 

اس طریقہِ کار کے تحت 18 اکتوبر 2020 کو پنجاب پبلک سروس کمیشن نے پنجاب پولیس میں آفس اسسٹنٹ کی گریڈ 16 کی 48 اسامیوں کے لئے ایک امتحان کا انعقاد کیا جس کا نتیجہ 21 دسمبر 2020 کو جاری کیا گیا۔ اس نتیجے میں حیران کن بات یہ تھی کہ اس میں کامیاب ہونے والے امیدواروں نے کم از کم 85.25 فیصد نمبر حاصل کیے تھے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ 

اِس نتیجے پر سوشل میڈیا میں ہنگامہ پرپا ہو گیا۔ اِس امتحان میں ناکام رہنے والے بہت سے امیدواروں کا کہنا تھا کہ کامیاب امیدواروں نے اتنے نمبر اس لئے حاصل کیے ہیں کیونکہ انہیں سوال نامہ قبل از قت بتا دیا گیا تھا۔

اسی طرح 26 ستمبر 2020 کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی پانچ آسامیوں پر بھرتی کے لئے لیے گئے امتحان میں کامیابی کا کم از کم میرٹ 86 فیصد طے پایا۔ اس نتیجے پر  بھی بہت سے ناکام امیدوار شکوک و شبہات کا شکار تھے۔اِسی دوران  27 ستمبر 2020کو ہونے والے انسپکٹر اینٹی کرپشن کے امتحان کا نتیجہ آیا تو اس میں بھی کامیابی کا کم از کم میرٹ 86 فیصد  سے زائد تھا جو بہت سے ناکام امیدواروں کے خیال میں نا صرف غیر متوقع تھا بلکہ غیر حقیقی بھی تھا۔  

فیصل آباد ڈویژن میں ضلع دار کی آسامیوں پر بھرتی کے لئے 13 اکتوبر 2020 کو ہونے والے امتحان کی شفافیت پر بھی اسی طرح کا  سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ اس امتحان کا نتیجہ 21 جنوری 2021 کو جاری ہوا جس میں کامیاب ہونے والے افراد میں ایک ہی خاندان کے تین رکن بھی شامل ہیں۔

امتحان برائے فروخت

انسدادِ رشوت ستانی کے محکمے کے ترجمان وقار عظیم جپہ کہتے ہیں کہ 'دسمبر 2020کے آخری ہفتے میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے لاہور میں واقع مرکزی دفتر کے باہر بہت سے طالب علم اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ کمیشن کے امتحانات کے سوال نامے قبل از وقت فروخت کر دیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس الزام کی بہت تشہیر ہو رہی تھی'۔

اس الزام کا نوٹس لیتے ہوئے انسدادِ رشوت ستانی کے محمکے کے ڈائریکٹر جنرل گوہر نفیس نے اپنے محکمے کے تین اہل کاروں پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم تشکیل دی جس نے تحصیل داروں کی بھرتی کے لئے ہونے والے امتحان کو ہدف بنا کر اس کے انعقاد سے ایک ہفتہ قبل اپنی کارروائی کا آغاز کیا۔ 

وقار عظیم جپہ کہتے ہیں کہ اس ٹیم نے بہت جلد سوال نامے فروخت کرنے والے لوگوں کا سراغ لگا لیا اور امتحان کے ایک امیدوار کے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق 'وہ لوگ سوال نامہ آٹھ لاکھ روپے میں اس امیدوار کو فروخت کرنے پر آمادہ ہو گئے'۔

لیکن ان کی شرط یہ تھی سوال نامہ خریدنے والا امیدوار امتحان سے چند گھنٹے پہلے ان کے پاس پہنچ جائے گا اور اس کے پاس موبائل فون نہیں ہو گا۔ انہوں نے امیدوار کو امتحانی مرکز پر پہنچانے کی ذمہ داری بھی اپنے سر لی۔ 

وقار عظیم جپہ کہتے ہیں کہ 2 جنوری کی صبح 4 بجے سوال نامہ فروخت کرنے والے لوگوں نے لاہور کے گارڈن ٹاؤن نامی علاقے میں واقع برکت مارکیٹ سے 'ہمارے امیدوار کو گاڑی میں بٹھایا اور اسے پنجاب یونیورسٹی کے نزدیک اپنی رہائش گاہ پر لے گئے'۔ تحقیقاتی ٹیم نے ان کا پیچھا کیا اور سوا سات بجے صبح گوہر علی شیر اور اس کے ساتھیوں غضنفر خان، وقار اکرم اور مظہر عباس کو گرفتار کر کے ان کی گاڑی سے تحصیل دار کے امتحان کا سوال نامہ اور اس کے جوابات برآمد کر لئے۔ 

وقار عظیم جپہ کے بقول یہ تمام ثبوت فوری طور پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد خان کو پیش کیے گئے جنہوں نے اسی وقت تحصیل دار کا  امتحان منسوخ کر دیا۔  

اس معاملے میں اب تک ہونے والی تحقیقات سوال نامہ افشا کرنے والے گروہ کے طریقہِ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہیں۔

ان تحقیقات کے مطابق، پنجاب پبلک سروس کمیشن سوالناموں کو حتمی شکل دینے کے بعد اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا ہے۔ گرفتاریوں سے پہلے اس کام کی ذمہ داری ایک جونیئر ڈیٹا انٹری آپریٹر وقار اکرم کے پاس تھی جو یہ سوال نامے اپنی ذاتی یو ایس بی (USB) میں منتقل کر کے کمیشن کے فنانس کے شعبے میں کام کرنے والے غضنفر خان کو پہنچاتا تھا۔ 

غضنفر خان کا کام سوال نامہ خریدنے والے گاہک اکٹھے کرنا تھا۔ اس مقصد کے لئے وہ کسی فون نمبر کا استعمال نہیں کرتا تھا بلکہ انٹرنیٹ پر ایک واٹس ایپ اکاؤنٹ بنا لیتا تھا اور اس کے ذریعے رات کے وقت امتحان کے امیدواروں سے رابطے کرتا تھا۔ وہ اِن امیدواروں کو بتاتا کہ وہ اور اس کے ساتھی انہیں امتحانی مرکز میں جانے سے چند گھنٹے قبل سوال نامے میں موجود 90 فیصد سوالوں کے جوابات رٹا دیں گے۔ 

پرچہ خریدنے والے امیدواروں کی رول نمبر سلپ دیکھ کر اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ آیا وہ واقعی امتحان دے رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تصدیق کرنے کے بعد وقار اکرم، غضنفر خان اور  گوہر علی شیر اپنے ایک اور ساتھی سمیت ان امیدواروں کو اپنی گاڑیوں میں بیٹھا کر کسی نا معلوم جگہ لے جاتے اور ان کو جواب رٹا دیتے۔ امتحان سے کچھ وقت پہلے یہ لوگ امیدواروں کو امتحانی مراکز پر پہنچا دیتے۔ پیسوں کی ادائیگی اور وصولی امتحان ہو جانے کے بعد ہوتی تھی۔ 

وقار عظیم جپہ کہتے ہیں کہ 'اس گروہ نے گذشتہ آٹھ سے بارہ ماہ کے عرصے میں ہونے والے کمیشن کے تمام امتحانات کے سوالنامے فروخت کر نے کا اعتراف کیا ہے'۔ 

انسدادِ رشوت ستانی کے محکمے نے ابھی تک اس گروہ میں شامل سات افراد کو گرفتار کیا ہے جو سب اس وقت جیل میں ہیں۔ ان میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے بہاولپور میں متعین ریجنل ڈائریکٹر فرقان احمد بھی شامل ہیں۔ اس گروہ کے ایک رکن غضنفر خان خود بھی انسپکٹر اینٹی کرپشن کے امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں شامل تھے۔ انہوں نے بعد ازاں اس اسامی کے لئے انٹرویو بھی دیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 

احتجاجِ لا حاصل؟

انتیس سالہ محمد بلال ملتان میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور 2016 سے 2020 کے درمیان پنجاب پبلک سروس کمیشن کے 200 سے زائد امتحانات دے چکے ہیں۔ وہ 28 دسمبر 2020 کو  پنجاب پبلک سروس کمیشن کے مرکزی دفتر کے باہر ہونے والے احتجاج میں بھی پیش پیش تھے۔ 

محمد بلال کے مطابق احتجاج کرنے والے امیدواروں کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ آفس اسسٹنٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور انسپکٹر اینٹی کرپشن کے امتحانوں کے نتائج کی چھان بین کی جائے تا کہ ان میں ہونے والی بد عنوانی کی 'حقیقت کا اندازہ ہو سکے'۔ 

لیکن تمام دن احتجاج کرنے کے بعد بھی کمیشن کے چئرمین نے 'ہمارے تحفظات دور کرنے کے بجائے ہماری بات سننے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان امتحانوں کے امیدوار ہی نہیں ہیں بلکہ کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں'۔ 

اب ان احتجاجی امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ ان تمام متنازعہ امتحانات کے نتائج کو منسوخ کیا جائے جن کے بارے میں سوال نامے فروخت کرنے والے گروہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ان کے سوال نامے قبل از وقت افشا کر دیے تھے۔ محمد بلال سمیت ایسے بہت سے امیدوار جنہوں نے ان امتحانوں میں 80 فیصد سے زیادہ نمبر لیے تھے کہتے ہیں کہ وہ کبھی ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے جو پیسے خرچ کر کے قبل از وقت سوال نامہ افشا کرا لیتے تھے اور اس طرح 85 فیصد سے زیادہ نمبر لے لیتے تھے۔ اس لئے ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں ایک جائز موقع دینے کے لئے ان امتحانات کا انعقاد دوبارہ کیا جائے۔ 

ان امتحانات کے کچھ ناکام امیدوار یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے سیکرٹری محمد نواز خالد عاربی اور چئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد خان بھی سوال ناموں کے افشا ہونے کے ذمہ دار ہیں کیونکہ اس کام میں ملوث دو افراد ان کی ناک کے نیچے کام کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود وہ ان کی مشکوک سرگرمیوں کی نشان دہی کرنے میں ناکام رہے۔ لہٰذا ان کا مطالبہ ہے کہ یہ دونوں افسران اپنے عہدے چھوڑ دیں تا کہ ان کی نگرانی میں پچھلے سال ہونے والے تمام مشکوک امتحانوں کی شفاف طریقے سے تحقیق کی جا سکے۔

ان مطالبات  کے جواب میں محمد نواز خالد عاربی نے سوشل میڈیا پر ایک آڈیو پیغام نشر کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ دو سال سے کمیشن کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے ہوئے انہوں نے کمیشن میں 'موجود تمام کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا اور سزائیں بھی دیں'۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

براڈ شیٹ کیس: پاکستان کو بھاری جرمانہ کیوں دینا پڑا؟

لیکن جب سجاگ نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'جب تک اانسدادِ رشوت ستانی کا محکمہ اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا اس وقت تک مجھے یا چئرمین کو کچھ بولنے اجازت نہیں'۔ تاہم 28 جنوری کو پنجاب پبلک سروس کمیشن نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال ہونے والے بارہ امتحانوں کے نتیجے میں ہونے والی بھرتیوں اور تعیناتیوں کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے تا کہ اس عمل میں 'شفافیت اور میرٹ کو برقرار رکھا جا سکے'۔

دوسری طرف وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 4 جنوری 2021  کو ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی تا کہ وہ اس سارے معاملے کی تحقیق کرے اور دیکھے کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن اور اس کے اعلیٰ افسران کس حد تک اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ کی انسپیکشن ٹیم ( CMIT) کے سربراہ علی مرتضیٰ کر رہے تھے۔ 

علی مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزیرِ اعلیٰ کو پیش کردی ہے لیکن وہ اس کے مندرجات پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے بقول چونکہ 'وزیراعلیٰ خود اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں لہذا میں اس بارے میں ابھی کوئی بات نہیں کر سکتا '۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 28 جنوری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 4 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اسامہ عرفان لوک سجاگ میں ویڈیو/ فوٹوگرافی، ویڈیو ایڈیٹنگ اور گرافکس کے شعبے سے منسلک ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔