چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی: ٹھٹہ میں گٹکے کے عادی افراد میں کینسر کے مرض میں روز بروز اضافہ۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی: ٹھٹہ میں گٹکے کے عادی افراد میں کینسر کے مرض میں روز بروز اضافہ۔

زوہیر علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی: ٹھٹہ میں گٹکے کے عادی افراد میں کینسر کے مرض میں روز بروز اضافہ۔

زوہیر علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

حمید جوکھیو کو پہلی بار سات سال قبل منہ میں درد محسوس ہوا۔ شروع میں تو انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن چند روز میں اس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ انہیں ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑا۔ 

اس مقصد کے لیے وہ کراچی کے ایک نِجی ہسپتال گئے جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کے منہ میں زخم بن گئے ہیں جو تیزی سے بڑے اور گہرے ہو رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی کہا گیا کہ ان زخموں کی وجہ ان کی گٹکا چبانے کی عادت ہے جسے ترک نہ کرنے کی صورت میں ان کا مرض ناقابلِ علاج ہو جائے گا۔ 

سندھ کے جنوبی شہر ٹھٹہ کے مخدوم محلہ کے رہائشی حمید جوکھیو کی عمر 48 سال ہے۔  ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں آٹھ سال اور دو سال کے درمیان ہیں۔ ان کے مطابق وہ لڑکپن سے ہی گٹکا چبانے کے عادی ہو گئے تھے لیکن 2015 میں جب ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ یہ عادت ان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے تو انہوں نے اس کا استعمال ترک کر دیا اور تندہی سے اپنا علاج کرانے لگے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ اس علاج سے ان کے زخم بہتر ہونے لگے اور ان کی تکلیف میں کمی آنے لگی لیکن جلد ہی انہیں دوبارہ گٹکے کی طلب محسوس ہونے لگی۔ شروع میں تو انہوں نے صبر کیا لیکن، ان کے بقول، "ایک ہفتے بعد میری ہمت جواب دے گئی اور میں نے ایک مرتبہ پھر گٹکا چبانا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں 2018 میں میرے منہ کا درد واپس آ گیا"۔

جب وہ اس کے علاج کے لیے دوبارہ کراچی کے اُسی نِجی ہسپتال میں گئے تو وہاں موجود ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کا مرض اب سنگین صورت اختیار کر چکا ہے چنانچہ اس کے علاج کے لیے انہیں کسی بڑے ہسپتال سے رجوع کرنا ہو گا۔ اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ان کی اہلیہ انہیں کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال، جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر، میں لے گئیں جہاں ان کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ انہیں منہ کا کینسر ہو چکا ہے جس کا واحد علاج آپریشن ہے۔

تاہم اس تشخیص کے باوجود ان کا علاج فوری طور پر شروع نہ ہو سکا کیونکہ جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر میں کینسر کے ایسے مریضوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی جنہیں آپریشن کرانا تھا۔ اس لیے جب کئی مہینے انتظار کے بعد بھی انہیں آپریشن کی تاریخ نہ ملی تو انہوں نے ایک نِجی ہسپتال سے رجوع کیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کے علاج پر 16 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ 

ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اتنی بھاری رقم کا انتظام کرنا ناممکن ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی مستقل ذرائعِ آمدن نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "بیمار ہونے سے پہلے بھی میرے میاں محنت مزدوری کر کے اتنا ہی کما پاتے تھے جس سے گھر میں محض دو وقت کی روٹی پک سکتی تھی۔ اب تو کچھ سالوں سے وہ کوئی کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہے اس لیے میں خود لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہی ہوں"۔

ان کے مطابق ان کے خاندان کا واحد اثاثہ ایک چھوٹا سا مکان ہے جس میں وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب وہ اس الجھن میں مبتلا ہیں کہ آیا انہیں یہ مکان بیچ کر حمید جوکھیو کا علاج کرا لینا چاہیے یا نہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر علاج کرانے کے باوجود بھی وہ بچ نہ سکے تو ان کے بچے چھت سے محروم ہو جائیں گے۔ 

طبی اور انتظامی بحران

ٹھٹہ میں متعین صوبائی محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر شیام کمار (جو تربیت کے اعتبار سے دانتوں کے سرجن ہیں) کہتے ہیں کہ ان کے زیرِانتظام علاقے میں مردوں کی ایک بڑی تعداد گٹکا، ماوا اور مین پوری جیسی منشیات استعمال کرتی ہے جن میں تمباکو اور کچھ دوسرے نشہ آور کیمیائی اجزا کی آمیزش ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، ان کے مطابق، ایسے مرد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خطرناک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں کینسر خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

اس حوالے سے اپنے محکمے کے جمع کردہ اعدادوشمار کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جنوری 2021 سے مئی 2022 کے اختتام تک ٹھٹہ اور سجاول کے جڑواں اضلاع میں موجود سرکاری ہسپتالوں میں منہ کے کینسر کا علاج کرانے والے لوگوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ رہی۔ اسی طرح "پچھلے تین سے چار ماہ میں بھی روزانہ اوسطاً چار سے چھ ایسے لوگ ان ہسپتالوں میں آ رہے ہیں جنہیں یہ مرض لاحق ہے"۔ ان کے بقول ان کے علاقے میں یہ مرض اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ مقامی سرکاری ہسپتالوں میں اس کے علاج کے لیے دستیاب سہولتیں کم پڑ رہی ہیں۔ "اس لیے اس کے مریضوں کو تشخیص اور علاج کے لیے کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پیاس جب بڑھتی ہے تو ڈر لگتا ہے پانی سے: حیدرآباد میں آلودہ پانی کے استعمال سے بیماریوں اور اموات میں اضافہ۔

ڈاکٹر شیام کمار کا یہ بھی کہنا ہے کہ منہ کے کینسر کے زیادہ تر مریض خود بھی خوف یا شرم کے باعث ڈاکٹروں کے پاس جانے سے کتراتے ہیں جس کے باعث ان کی بیماری آہستہ آہستہ شدت اختیار کر جاتی ہے۔ "بالآخر جب وہ ہسپتال میں علاج کے لیے آتے ہیں تو ان کا منہ سوج کر بند ہو چکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر اگر نیوکلیائی شعاعیں لگا کر یا آپریشن کر کے ان کا علاج کرنے کی کوشش کی جائے تو بھی ان کے زندہ بچ جانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے"۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹھٹہ میں کینسر کے پھیلاؤ کی شرح اتنی تشویش ناک ہے کہ انہوں نے ایک خط لکھ کر صوبہ سندھ کے ڈائریکٹر جنرل صحت کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ "اگر حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو علاقے میں صحت کا بڑا بحران جنم لے سکتا ہے"۔ 

مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ ٹھٹہ میں گٹکے، ماوے اور تمباکو والے پان جیسی بہت سی مضرصحت منشیات کی سرِ عام فروخت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صوبہ سندھ میں اس کاروبار کی روک تھام کے لیے کوئی موثر قوانین موجود نہیں جس کے نتیجے میں مقامی پولیس اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا پاتی۔ 

تاہم ٹھٹہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عدیل حسین چانڈیو کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کی فہرستیں تیار کر لی ہیں اور ان کے خلاف ہر ممکن قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 2021 میں اس سلسلے میں ایک سو 84 مقدمات درج کیے گئے جن کے تحت دو سو 22 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح، ان کے مطابق، 2022 میں ابھی تک ان نشہ آور اشیا کی خریدوفروخت کے حوالے سے 88 مقدمے درج ہوئے ہیں جن میں ایک سو 23 ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ "ان ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے"۔

تاریخ اشاعت 5 جولائی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زوہیرعلی سندھ کے ضلع ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں اور مقامی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔