توہینِ مذہب کے ملزم کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل: 'نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

توہینِ مذہب کے ملزم کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل: 'نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

توہینِ مذہب کے ملزم کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل: 'نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

رمضان شاہد نامی ایک بزرگ زمیندار 12 فروری 2022 کو شام کے تقریباً ساڑھے پانچ بجے کسی ذاتی وجہ سے تھانے میں موجود تھے جب ان کے بیٹے نے فون کر کے انہیں بتایا کہ ان کی تعمیر کردہ شاہ مقیم مسجد میں ہنگامہ ہو رہا ہے۔ وہ فوراً تھانے سے نکلے اور چند منٹوں میں مسجد پہنچ گئے جہاں، ان کے مطابق، ایک کمرے میں رانا محمد مشتاق نامی ایک شخص قید تھے اور پولیس کے تین سپاہی اور ایک افسر انہیں کئی سو افراد پر مشتمل ایک مشتعل مجمعے سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کچھ مقدس اوراق جلائے ہیں۔ 

یہ مسجد ڈانگراوالا نامی گاؤں میں واقع ہے جو جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کا حصہ ہے۔ اس سے لگ بھگ پانچ کلومیٹر دور تلمبہ نام کا قصبہ واقع ہے جو ایک مشہور مذہبی مبلغ طارق جمیل کی جائے پیدائش ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ایک ویڈیو بیان میں رمضان شاہد کا کہنا ہے کہ "پولیس والے محمد مشتاق کو مسجد سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا چاہتے تھے لیکن مجمعے میں شامل لوگوں کی تعداد لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی اس لیے انہیں سنبھالنا ان تین چار اہلکاروں کے بس کی بات نہیں تھی"۔ 

اسی اثنا میں، ان کے مطابق، کچھ لوگوں نے اس کمرے پر دھاوا بول دیا جس میں محمد مشتاق کو بند کیا گیا تھا۔ جب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو مجمعے نے انہیں مار پیٹ کر راستے سے ہٹایا، کمرے کا تالا توڑ کر محمد مشتاق کو باہر نکالا اور انہیں ڈنڈوں، پتھروں، اینٹوں اور کلہاڑیوں سے مارنا  شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں انہوں نے دم توڑ دیا۔

<p>وہ کمرہ جہاں مقتول مشتاق کو زخمی حالت میں بند کیا گیا۔</p>

وہ کمرہ جہاں مقتول مشتاق کو زخمی حالت میں بند کیا گیا۔

بعدازاں ان کی لاش کو مسجد کے پہلو سے گزرنے والی شاہراہ پر موجود ایک درخت سے باندھ کر الٹا لٹکا دیا گیا۔ 

تلمبہ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحافی رات تقریباً سوا نو بجے ڈانگراوالا میں پہنچے تو یہ لاش ابھی تک لٹک رہی تھی جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر خانیوال اور اسسٹنٹ کمشنر میاں چنوں سمیت سرکاری اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی اس وقت وہاں موجود تھی۔ ان لوگوں نے تقریباً ساڑھے نو بجے اسے درخت سے اتارا اور موقع پر موجود کچھ ڈنڈا بردار لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا۔

موت کا منظر

محمد مشتاق کی ہلاکت کے تین دن بعد شام تقریباً چار بجے شاہ مقیم مسجد بالکل خالی پڑی ہے کیونکہ سرکاری انتظامیہ نے اس کے اندر مقامی لوگوں کی آمدورفت بند کر رکھی ہے۔ اس کے برامدے اور ایک کمرے کے فرش پر ابھی تک خون کے نشان موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ مقتول کو کس راستے سے گھسیٹ کو مسجد سے باہر لے جایا گیا تھا۔ خون کے کچھ دھبے اس درخت پر بھی موجود ہیں جسں پر ان کی لاش کو لٹکایا گیا تھا۔ تاہم پولیس نے کسی نامعلوم وجہ سے اس کے تنے کے اس حصے کو چھیل دیا ہے جس پر یہ دھبے زیادہ گہرے تھے۔ 

تقریباً 20 پولیس اہلکار مسجد کے گرد چار پائیوں پر بیٹھے اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر قریبی ضلع فیصل آباد سے لائے گئے ہیں اور صبح آٹھ بجے سے کچھ کھائے پیے بغیر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

<p>واقعے کے وقت پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے لیکن وہ مشتعل ہجوم کو روک نہ پائے۔</p>

واقعے کے وقت پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے لیکن وہ مشتعل ہجوم کو روک نہ پائے۔

دوسری طرف تلمبہ کی مقامی پولیس محمد مشتاق کے قتل کی تحقیقات کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ تاہم اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی اپنی درج کردہ ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) ہی ہے کیونکہ اس میں کچھ بنیادی سقم ہیں۔

مثال کے طور پر اس میں لکھا گیا ہے کہ محمد مشتاق کی موت شام کے نو بج کر 20 منٹ پر ہوئی حالانکہ ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق اس کا اصل وقت چھ سے سات بجے کے درمیان ہے۔ اسی طرح اس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ پولیس کے کچھ اہلکار ان پر مہلک تشدد شروع ہونے سے پہلے ہی جائے وقوعہ پر موجود تھے جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ تشدد کے واضح خطرے سے آگاہ ہونے کے باوجود پولیس نے مجمعے کو قابو میں رکھنے کے لیے درکار نفری کا فوری انتظام کیوں نہیں کیا۔

تاہم کچھ مقامی پولیس اہلکار اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتے ہیں کہ بھاری نفری کی موجودگی بھی شاید مجمعے کو محمد مشتاق کے قتل سے نہ روک پاتی کیونکہ پولیس کی طرف سے اسے منتشر کرنے کے لیے اٹھایا گیا کوئی بھی سخت قدم اس میں شامل لوگوں کو مزید مشتعل کر سکتا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس والے اس طرح کے حالات میں کوئی سخت اقدام اٹھانے سے اس لیے بھی گریز کرتے ہیں کہ اگر اس کے نتیجے میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک ہو جاتا ہے تو انہیں محکمانہ انکوائریوں اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ان کے مطابق، پولیس کے پاس وہ ارادہ، انتظامی صلاحیت اور اختیارات موجود ہی نہیں جو محمد مشتاق کے قتل جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے اشد ضروری ہیں۔ 

لہو کا سراغ

شاہ مقیم مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر جنگل ڈیرے والا نامی گاؤں ایک بڑی نہر کے کنارے آباد ہے۔ محمد مشتاق کی جان لینے والے مجمعے میں شامل بیشتر لوگوں کا تعلق یہیں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

تلمبہ میں مبینہ توہینِ مذہب پر مہلک تشدد: 'کاش لوگ مقتول کی ذہنی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرتے'۔

اس گاؤں میں 15 فروری 2022 کی شام کو مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے، اس کی گلیاں سنسان ہیں اور مقامی دکانوں کو تالے لگے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کے بیچوں بیچ بنی مسجد کے اندر بھی کوئی موجود نہیں ہے۔ اپنے گھروں سے باہر نکلنے والی اکا دکا خواتین گلی میں اجنبی لوگوں کو دیکھتے ہی واپس اندر چلی جاتی ہیں۔ 

ایک بند دکان سے متصل مکان میں رہنے والی ایک بزرگ خاتون ایک مختصر سی بات چیت میں کہتی ہیں کہ محمد مشتاق کی ہلاکت کے فوراً بعد پولیس نے جنگل ڈیرے والا سے تعلق رکھنے والے درجنوں مردوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان کے مطابق "جو لوگ گرفتار شدہ افراد کو رہا کرانے کے لیے پولیس کے پاس گئے انہیں بھی پکڑ لیا گیا جس کے بعد گاؤں کے تقریباً تمام مرد یا تو زیرِ حراست ہیں یا گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں"۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے گاؤں سے گرفتار کیے گئے لوگوں کو مقامی تھانے کی حوالات میں نہیں بلکہ کسی خفیہ جگہ پر رکھا گیا ہے۔

تاہم پنجاب پولیس نے 13 فروری 2022 کو ٹویٹر کے ذریعے جاری کیے گئے ایک بیان میں اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی گرفتاریوں کی تصدیق کرنے کے بجائے صرف یہ کہا کہ قتل میں ملوث 15 مرکزی ملزمان کی شناخت کی جا چکی ہے جبکہ "سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مزید کی شناخت کا عمل جاری ہے"۔ (اس بیان کی عجیب بات یہ ہے کہ جائے واردات پر یا اس کے ارد گرد کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نصب نہیں۔)

 جنگل ڈیرے والا نامی گاؤں میں درجنوں ملزموں کی گرفتاری کے بعد ویرانی کا منظر۔ جنگل ڈیرے والا نامی گاؤں میں درجنوں ملزموں کی گرفتاری کے بعد ویرانی کا منظر۔

اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے ہائی کورٹ کے وکیل اسد جمال (جو توہینِ مذہب کے متعدد مقدمات میں پیش ہو چکے ہیں) کا کہنا ہے کہ پولیس زیرِ حراست لوگوں کو نامعلوم مقامات پر اس لیے رکھتی ہے کہ وہ ان کی گرفتاری ریکارڈ پر نہیں لانا چاہتی۔ ان کے مطابق "اس دوران وہ ان لوگوں پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ ایسے بیانات دیں جن سے وہ اپنی تحقیقات میں پائی جانے والی خامیوں پر قابو پا سکے"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کرنے کے بجائے "پولیس کو اصل مجرموں کی شناخت اور گرفتاری پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے" کیونکہ بڑی تعداد میں کی گئی گرفتاریاں مقدمے کی عدالتی سماعت کے دوران اس کے لیے کئی قانونی مشکلات پیدا کرتی ہیں "جن کی وجہ سے اس کے لئے ہی اپنے بنائے ہوئے مقدمے کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے"۔ وہ کہتے ہیں کہ مشتعل مجمعے کے ہاتھوں ہونے والے قتل کے اکثر مقدمات میں عدالتیں ملزموں کو اس لیے سزا نہیں دے پاتیں کیونکہ پولیس یہ تعین کرنے میں ناکام رہتی ہے کہ تشدد کے حقیقی ذمہ دار کون لوگ تھے اور ان میں کس کے وار سے مقتول کی موت ہوئی۔ 

حال ہی میں یہ صورتِ حال ایک ایسے واقعے کی عدالتی سماعت کے دوران دیکھنے میں آئی جس میں سیالکوٹ کے رہنے والے مغیث بٹ اور منیب بٹ نامی دو بھائیوں کو ایک مشتعل مجمعے نے 2010 میں ہلاک کر دیا تھا۔ ابتدائی طور پر ایک عدالت نے اس دوہرے قتل میں ملوث سات افراد کو سزائے موت سنائی تھی لیکن ان کی اپیل کی سماعت کرنے کے بعد 23 اکتوبر 2019 کو سپریم کورٹ نے ان کی سزا دس دس سال قید میں تبدیل کر دی۔ 

اس رپورٹ کی تیاری میں خانیوال سے محمد عامر حسینی نے بھی حصہ لیا ہے۔ 

تاریخ اشاعت 25 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔