بڑا ہی زور ہے اس بار مینہ کے قطروں میں: 'اس سال خیرپور میں کھجور کے کا شت کار قرض کیسے اتاریں گے، مزدور گھر کیسے چلائیں گے؟'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بڑا ہی زور ہے اس بار مینہ کے قطروں میں: 'اس سال خیرپور میں کھجور کے کا شت کار قرض کیسے اتاریں گے، مزدور گھر کیسے چلائیں گے؟'

ایوب راجپر

postImg

بڑا ہی زور ہے اس بار مینہ کے قطروں میں: 'اس سال خیرپور میں کھجور کے کا شت کار قرض کیسے اتاریں گے، مزدور گھر کیسے چلائیں گے؟'

ایوب راجپر

پرویز احمد لانگھا اپنے کھجور کے درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک پر عموماً 90 کلو گرام سے سو کلو گرام کھجوریں لگتی ہیں لیکن اِس سال ان کی پیداوار صرف 30 کلو گرام فی درخت رہی ہے۔ 

انہوں نے شمالی سندھ کے شہر خیر پور کے نواحی علاقے ٹھڑی سٹاپ میں 13 ایکڑ اراضی پر کھجور کے ایک ہزار سے زیادہ درخت لگا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کم پیداوار کی وجہ "غیر معمولی بارشیں ہیں جو چھ جولائی کو شروع ہوئیں اور دو اگست کو جا کر تھمیں"۔ یہ ایسا وقت تھا "جب کھجوریں پک کر درختوں سے اتارے جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں لیکن ان بارشوں کے باعث ان کی ایک بڑی مقدار کو اتارا ہی نہیں جا سکا"۔

کاشت کاروں کی صوبائی تنظیم سندھ آباد گار بورڈ کا کہنا ہے کہ ایک پرویز احمد لانگھا ہی نہیں بلکہ کئی ہزار زمین داروں کو اسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں اس سال صوبے میں کھجوروں کی 68 فیصد پیداوار تباہ ہو گئی ہے۔ اس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2022 میں سندھ میں مجموعی طور پر "دو لاکھ 20 ہزار ٹن کھجوروں کی پیداوار متوقع تھی لیکن ان میں سے ڈیڑھ لاکھ ٹن بارشوں کی نذر ہو گئی ہیں"۔ 

صوبائی حکومت نے بھی اس فصل کو پہنچنے والے نقصان کا کم و بیش یہی تخمینہ لگایا ہے۔ اس کے محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ خیرپور میں 75 ہزار سے 80 ہزار ایکڑ اراضی پر لگے کھجور کے باغات صوبے میں پیدا ہونے والی تمام کھجوروں کا تین چوتھائی پیدا کرتے ہیں "جن میں سے تقریباً 78 فیصد خراب ہو گئی ہیں"۔

پرویز احمد لانگھا اس خرابی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی 50 سالہ زندگی میں انہوں نے پہلے کبھی ایسی بارشیں نہیں دیکھیں کیونکہ، ان کے مطابق، اِس سال ان کا دورانیہ اور شدت دونوں ہی پہلے سے کہیں زیادہ تھے۔  

وفاقی وزارت برائے موسمياتى تبدیلی ان کی اس بات کی تائید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے لے کر 9 جولائی تک سندھ میں عام طور پر ساڑھے 10 ملی میٹر (آدھے انچ سے بھی کم) بارش ہوتی ہے لیکن اس سال اس عرصے میں اس صوبے میں 72.1 ملی میٹر (تقریباً تین انچ) بارش ہوئی جو معمول سے لگ بھگ سات گنا زیادہ ہے۔ 

ان بارشوں کا پرویز احمد لانگھا جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشت کاروں پر شدید منفی اثر پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی فصل تیار کرنے کے لئے مقامی بیوپاریوں سے نقد رقم، کھاد اور دیگر ضروری سامانِ کاشت کاری ادھار لے رکھا ہے۔ لیکن، ان کے مطابق، کھجوروں کی پیداوار میں شدید کمی کی وجہ سے وہ نہ تو اپنا قرض چکا پائیں گے اور نہ ہی ان کے پاس آئندہ فصل کے لیے کھاد وغیرہ خریدنے کے پیسے ہوں گے۔

ایک مزدور کھجوریں سکھاتے ہوئےایک مزدور کھجوریں سکھاتے ہوئے

'کھجوریں کم ہوں گی تو مزدوری کم ملے گی'

خیرپور میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ براہِ راست کھجوروں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان میں کاشت کار، باغات میں کام کرنے والے مزدور اور کھجوروں کی صفائی ستھرائی اور پیکنگ کرنے والے کارخانوں کے ملازم شامل ہیں۔ تاہم 2017 میں انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر سال کھجوروں کی فصل کے عروج کے دوران کم از کم تین لاکھ مزید لوگ اس سے بالواسطہ طور پر اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ان میں کھجوروں کے بیوپاری، ٹرک ڈرائیور اور کاشت کاروں کو تیل، کھاد اور دوسری اشیائے ضروریات فروخت کرنے والے تاجر اور دکان دار شامل ہیں۔ 

سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کی تحصیل کنڈیارو سے تعلق رکھنے والے علی نواز بھی ہر سال چند ہفتے اس فصل سے اپنا روزگار کماتے ہیں۔ سینکڑوں دیگر مزدوروں کی طرح وہ ہر جولائی-اگست میں خیرپور کی کھجور منڈی میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ باغات سے لائی جانے والی کھجوروں کو ٹرکوں سے اتارنے اور دوسرے شہروں کو بھیجی جانے والی کھجوروں کو گاڑیوں میں لادنے کا کام کرتے ہیں۔ 

تاہم اِس بار جب وہ منڈی میں آئے تو انہیں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے اپنے وہ دوست کہیں دکھائی نہ دیے جو کئی سال سے ان کے ساتھ یہاں کام کرتے چلے آ رہے تھے۔ جب انہوں نے اس کی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو انہیں پتہ چلا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں کیونکہ بارشوں کے باعث اس مرتبہ کھجوروں کی پیداوار اتنی کم رہی ہے کہ انہیں کام ہی نہیں مل سکا۔ علی نواز خود بھی اپنے علاقے سے 27 دیگر لوگوں کو مزدوری کرنے کے لیے ساتھ لائے تھے لیکن ان میں سے آدھے کام نہ ملنے کے باعث واپس جا چکے ہیں۔ 

اگرچہ انہیں ایک بوری کھجوریں ٹرک پر لادنے یا اتارنے کے عوض صرف 35 روپے ملتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ پچھلے برسوں میں کام اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ وہ ایک دن میں آٹھ سو سے ہزار روپے تک کما لیتے تھے۔ اس کے برعکس "اِن دنوں کام اتنا کم ہے کہ میں اور میرے 13 ساتھی مل کر ایک دن میں بمشکل سو بوریاں ہی لاد یا اتار پاتے ہیں"۔ اس طرح ان کا ایک دن کا مجموعی معاوضہ ساڑھے تین ہزار روپے بنتا ہے جس سے ہر مزدور کے حصے میں صرف دو سو 70 روپے آتے ہیں۔

کھجوروں سے چھوہارے بنانے کا عملکھجوروں سے چھوہارے بنانے کا عمل

درجنوں مقامی کارخانوں میں کھجوروں کی صفائی اور پیکنگ کا کام کرنے والی سینکڑوں مزدور عورتوں کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔

ان میں سے رقیہ راجپوت کا تعلق ضلع خیر پور کے علاقے پنج ہٹی سے ہے۔ وہ اپنی دو شادی شدہ بیٹیوں اور ایک 15 سالہ غیرشادی شدہ بیٹی سمیت تقریباً 45 مزید عورتوں اور بچیوں کے ساتھ مل کر ایک کارخانے میں تین سو 30 روپے فی کس روزانہ معاوضے پر کھجوروں کی صفائی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے 2003 میں اُس وقت یہ کام شروع کیا تھا جب ان کے شوہر گردے کی بیماری کے باعث کام کاج سے معذور ہو گئے تھے اور گھرداری کا سارا مالی بوجھ ان کے کندھوں پر آ پڑا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اِس مرتبہ منڈی سے کارخانے میں لائی جانے والی کھجوروں کی مقدار گزشتہ سالوں کی نسبت بہت کم ہے۔ لہٰذا وہ پریشان ہیں کہ اگر اس بنا پر "کارخانے کے مالکان نے ہماری اجرت میں کمی کر دی تو ہم اپنا گھر کیسے چلائیں گی"۔

تاریخ اشاعت 27 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ایوب راجپر سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے جامع سندھ جامشورو سے صحافت کی ڈگری حاصل کی ہے اور پچھلے چار سالوں سے فری لانس جرنلزم کر رہے ہیں

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔