علاج یا نشہ: کنٹرولڈ آئٹمز میں شامل کیٹامین دوا کی ضرورت سے زیادہ درآمد کے پیچھے کیا راز ہے؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

علاج یا نشہ: کنٹرولڈ آئٹمز میں شامل کیٹامین دوا کی ضرورت سے زیادہ درآمد کے پیچھے کیا راز ہے؟

حنیف قمر

postImg

علاج یا نشہ: کنٹرولڈ آئٹمز میں شامل کیٹامین دوا کی ضرورت سے زیادہ درآمد کے پیچھے کیا راز ہے؟

حنیف قمر

لاہور میں ملتان روڈ پر اورنج لائن ٹرین کے سمن آباد سٹیشن پر ایک ستون سے ٹیک لگائے بابر اسلم ویران آنکھوں سے ہر آتے جاتے کو تکتے رہتے ہیں۔ ان کے بکھرے بال، بے ترتیب داڑھی اور میلا کچیلا لباس دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ وہ نشے کے عادی ہیں۔ کبھی کبھار راہ چلتے لوگ ترس کھا کر انہیں بھیک دے دیں تو وہ اس سے نشے کا انجیکشن خرید کر چند گھنٹوں کے لیے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ اس انجیکشن میں وہ کیٹامین نامی دوا استعمال کرتے ہیں جو نہ صرف سستی ہے بلکہ عام میڈیکل سٹور پر با آسانی مل جاتی تھی۔ انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد بھی زیادہ تر یہی دوا استعمال کرتے ہیں کیونکہ اسے خریدنے میں انہیں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑتی۔ 

کیٹامین ایک دوا ہے جو عام طور پر آپریشن تھیٹر میں مریضوں کو بے ہوش کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ کیٹامین کے انجکشن مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے تیار کر رہی ہیں جو مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں۔ ان میں کیٹا سول، کیٹا رول، کیٹا فاسٹ، کیٹا لار اور کیٹا وِم زیادہ معروف ہیں۔

سرجری کے علاوہ اس دوا کا کسی بھی مقصد کے لیے استعمال غیر قانونی ہے۔ دنیا بھر میں اس کی درآمد، برآمد، استعمال، سٹوریج اور تلفی کے حوالے سے خصوصی قوانین بنائے جاتے ہیں۔ میو ہسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منیر ملک کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں معالج کی نگرانی کے بغیر اس دوا کی خریداری اور استعمال ممنوع ہے لیکن پاکستان میں یہ دوا عام میڈیکل سٹور سے انجکشن کی صورت میں با آسانی مل جاتی ہے۔

کیٹامین پاکستان میں نہیں بنتی بلکہ یہ مختلف ممالک سے خام مال کی شکل میں درآمد کی جاتی ہے۔ اس کا شمار کنٹرولڈ آئٹم میں ہوتا ہے۔ ایسی دوائیں مخصوص کوٹے کے تحت ہی درآمد کی جاتی ہیں اور کمپنیوں کو جتنا کوٹہ ملے وہ بیرون ملک سے اتنی ہی مقدار میں یہ دوائیں منگوا سکتی ہیں۔ چونکہ ایسی دواؤں کے منشیات میں استعمال ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اس لیے ان کی درآمد، تیاری اور استعمال کی خصوصی نگرانی کی جاتی ہے۔ 

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، وزارتِ صحت، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور محکمہ انسداد منشیات کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی دوا ساز کمپنیوں کو کیٹامین کی درآمد کا اجازت نامہ جاری کرتی ہے۔

 ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے معیاری طریقہ کار کے مطابق کمپنیاں الاٹ شدہ کوٹے کے مطابق ہی کیٹامین درآمد کر سکتی ہیں اور متذکرہ بالا کمیٹی اس سارے عمل کی نگرانی کرتی ہے۔ کمپنی اس دوا کی پاکستان آمد، انجیکشن کی تیاری اور اس کی فروخت سمیت تمام ریکارڈ رکھنے اور اسے کمیٹی کو دینے کی پابند ہے۔

نور محمد شاہ کے مطابق اس دوا کے ایک ایک انجیکشن کا حساب رکھا جاتا ہے کہ وہ کہاں تیار ہوا، کہاں فروخت ہوا اور کتنی دوا استعمال نہیں ہوئی۔ بچ جانے والی دوا کو بھی اس کمیٹی کے سامنے ہی تلف کیا جاتا ہے اور اس تمام عمل کا ویڈیو ریکارڈ بھی تیار کیا جاتا ہے۔ 

ہزاروں کلو کیٹامین کہاں جاتی ہے؟

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں کیٹامین کا سٹیٹس بدلتا رہتا ہے۔ یہ دوا کبھی کنٹرولڈ آئٹمز کی فہرست میں شامل کر لی جاتی ہے اور کبھی چپکے سے اسے اس فہرست سے نکال دیا جاتا ہے اور اس دوران یہ عام دوا کے طور پر درآمد کر لی جاتی ہے۔ تاہم اتھارٹی کے حکام اس کی وجوہات بتانے سے گریزاں ہیں۔ 

6 اپریل 2020 کو وزارت انسداد منشیات نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے اس دوا کو کنٹرولڈ آئٹمز کی فہرست میں شامل کیا اور اسی سال 9 ستمبر کو وزارت قومی صحت کے کنٹرولڈ ڈرگ ڈویژن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے تحت اسے کنٹرولڈ آئٹمز کی فہرست سے نکال کر عام ادویات کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق 15 اکتوبر 2021 کو یہ دوا ایک مرتبہ پھر کنٹرولڈ آئٹمز کا حصہ بن گئی۔

دوا سازی کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر شہریار ناصر اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ بعض دواساز کمپنیاں کیٹامین کی ضرورت سے زیادہ درآمد میں ملوث ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے کچھ دیر کے لئے اسے کنٹرولڈ آئٹمز کی فہرست سے نکلوا دیتی ہیں اور جب وہ من چاہی مقدار میں کیٹامین درآمد کر لیتی ہیں تو اسے دوبارہ کنٹرولڈ آئٹمز کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ 

پاکستان فارما مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو گزشتہ سال 8 اپریل کو ایک خط میں کہا تھا کہ کیٹامین کو کنٹرول آئٹمز کی فہرست میں شامل نہ کیے جانے کے باعث اس کی درآمد میں بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ کیٹامین کی درآمد کی تفصیل جاننے کے لئے جب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عاصم رؤف سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ریکارڈ فراہم نہیں کیا اور اسی بات پر اصرار کرتے رہے کہ اس دوا کی درآمد میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق 2015 سے 2020 تک 13 دواساز کمپنیوں نے 33 ہزار 905 کلو گرام کیٹامین در آمد کی۔ ان کمپنیوں میں امیر فارما سرفہرست ہے جس نے اس عرصہ میں 8,600 کلو کیٹامین منگوائی۔ اسی طرح اِنورٹر فارما نے 2018 سے 2020 تک 8,100 کلوگرام، ایف این وائے کے فارما نے 5,900 کلو گرام اور ایم ٹی آئی فارما نے 4,425 کلو گرام کیٹامین درآمد کی۔ 

اتھارٹی کے ایک عہدیدار  نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ صرف ان کمپنیوں کا ڈیٹا ہے جنہوں نے 2015 سے 2020 تک قانونی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے کیٹامین درآمد کی تھی۔ ان کے علاوہ کئی ایسی کمپنیاں بھی ہیں جنہوں نے کیٹامین درآمد کرنے کے باوجود اس کا ریکارڈ نہیں رکھا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

قصور میں صنعتی فضلہ صاف کرنے کا پلانٹ: سرطان جیسی بیماریوں اور آبی آلودگی کا بڑا ذریعہ۔

پاکستان فارما مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر قاضی منصور دلاور کا کہنا ہے کہ کسی کمپنی کی جانب سے پانچ سال میں 33 ہزار 905 کلو گرام کیٹامین کی درآمد پاکستان میں اس دوا کے قانونی استعمال سے بہت زیادہ ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئیے۔

ڈاکٹر شہریار ناصر ان سے متفق ہیں کہ جتنی بڑی مقدار میں کیٹامین منگوائی گئی ہے اس کا اتنا زیادہ استعمال ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادویہ ساز کمپنیاں اپنی دواؤں کی فروخت کا ڈیٹا انٹرنیشنل مارکیٹ سیلز (آئی ایم ایس) پر ظاہر کرتی ہیں لیکن کیٹامین درآمد کرنے والی بیشتر کمپنیاں ایسا نہیں کرتیں جس کی وجہ سے اس معاملے پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ 

ریکارڈ کہاں سے لائیں۔۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان فارما مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے کئی اجلاسوں میں کیٹامین کی درآمد کا ریکارڈ ترتیب دینے کی بات ہو چکی ہے لیکن ایسا ہونا اس لیے ممکن نہیں کہ یہ ریکارڈ پیش کرنا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کے پاس نہیں ہے اور وہ پچھلے پانچ سال میں درآمد کی گئی کیٹامین کا ریکارڈ پیش کرنے سے استثنیٰ مانگ رہی ہیں۔ تاہم، اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی انہیں استثنیٰ دے دیتی ہے تو وہ خود قانون کی گرفت میں آتی ہے کیونکہ کیٹامین کی فروخت کا ریکارڈ حاصل کرنا اتھارٹی کی قانونی ذمہ داری ہے۔ 

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ عاصم رؤف کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ کمپنیوں سے ہر صورت ریکارڈ حاصل کرے گا جبکہ پاکستان فارما مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چئیرمین قاضی منصور دلاور کا کہنا ہے کہ ''کمپنیاں اتنے سال کا ریکارڈ کہاں سے لائیں گی۔ ہمیں ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا اور آئندہ کے لئے شفاف طرز عمل اپنانا ہو گا''۔

ڈاکٹر شہریار ناصر کے مطابق نشے کے انجیکشن کی صورت میں گلی محلے میں کیٹامین کی فروخت اس کے غیر قانونی استعمال کی ادنیٰ شکل ہے جب کہ اس سے کہیں زیادہ سنگین جرم اس کی سمگلنگ ہے۔ بعض کمپنیاں بھاری مقدار میں کیٹامین منگواتی ہیں اور انجکشن تیار کرنے کے بجائے اسے خام شکل میں ہی فروخت کر دیتی ہیں جو غیر قانونی اور سنگین جرم ہے۔ ان کمپنیوں سے یہ دوا خریدنے والے ڈرگ ڈیلر مبینہ طور پر اسے منشیات کی ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ 

13 فروری 2022 کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے کراچی ائیر پورٹ سے کیٹامین کی بھاری مقدار قبضے میں لی تھی جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت 34 ارب روپے بتائی گئی۔ ماہرین کے مطابق دوا کے لئے درآمد کی جانے والی کیٹامین کی قیمت زیادہ سے زیادہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی کلو گرام ہوتی ہے لیکن جب اسے بطور منشیات سمگل کیا جاتا ہے تو اس کی فی کلو قیمت کروڑ روپے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔

تاریخ اشاعت 29 نومبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد حنیف قمر صحافی، ٹی وی میزبان، کالم نگار، اور سماجی کارکن ہیں اور مفاد عامہ سے متعلق مسائل پر تحقیقی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ