گلگت بلتستان کے انتخابات: اگلی حکومت کس کی ہو گی؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

گلگت بلتستان کے انتخابات: اگلی حکومت کس کی ہو گی؟

جلال الدین مغل

postImg

گلگت بلتستان کے انتخابات: اگلی حکومت کس کی ہو گی؟

جلال الدین مغل

گلگت بلتستان میں 15 نومبر کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی وجہ سے سیاسی ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے۔ ہر شہر میں جلسے ہو رہے ہیں، ہر گلی میں نعرے لگ رہے ہیں اور ہر دیوار پر انتخابی پوسٹر چسپاں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے  یکم نومبر کو بظاہر گلگت بلتستان کے یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے اس خطے کا دورہ کیا تاہم عملاً یہ جلسہ ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی انتخابی مہم کا حصہ تھا۔ اسی طرح اگرچہ خطے کے الیکشن کمیشن نے وفاقی وزراء اور وزیرٰ اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی پر انتخابی مہم میں شرکت پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر علی امین گنڈا پور بغیر کسی روک ٹوک کے مسلسل اپنی جماعت کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی پچھلے دو ہفتوں سے گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور کئی حلقوں میں انتخابی جلسے کر چکے ہیں۔ مریم نواز بھی اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دوسرے رہنماوں کے ہمراہ ایک ہفتے کے دورے پر گلگت بلتستان پہنچ چکی ہیں اور انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہی ہیں۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی 33 اراکین پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 24 ارکان براہ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ نو مخصوص نشستوں میں سے چھ خواتین کے لیے اور تین ٹیکنوکریٹس کے لیے رکھی گئی ہیں۔ تاہم 15 نومبر کو 23 نشستوں پر انتخابات ہوں گے کیونکہ حلقہ گلگت- 3 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار جعفر شاہ کے انتقال کی وجہ سے ووٹنگ ملتوی ہو گئی ہے۔

یہ انتخابات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان کے بعد گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کر کے اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جا سکتا ہے جس سے  اسے  قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی مل جائے گی اور قومی مالیاتی کمیشن میں بھی اس کا حصہ متعین ہو جائے گا۔

اس خطے کو نیم صوبائی حیثیت اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورنینس آرڈر کے تحت دی جس کے نتیجے میں یہاں پہلی قانون ساز اسمبلی قائم ہوئی۔ اب ستمبر 2020 میں عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ایک اہم ملاقات کے بعد اس علاقے کو ایک باقاعدہ صوبہ بنانے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کا اعلان وزیر اعظم عمران خان نے یکم نومبر کو یہاں پر اپنے خطاب میں بھی کیا۔

البتہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اس اعلان پر شدید احتجاج کیا کیونکہ ان کا الزام تھا کہ اس سے خطے میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اثر پڑے گا۔ اس احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے عمل کو انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دیا۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف ابھی بھی وزیرِ اعظم کے اعلان کو اپنی انتخابی مہم کے دوران استعمال کر رہی ہے۔

سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی

گلگت بلتستان میں انتخابات اگست میں منعقد ہونے تھے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے انھیں ملتوی کر دیا گیا۔ اس دوران  خطے کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے کئی اہم امیدوار اپنی پارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ ان میں سابق اسپیکر اسمبلی فدا ناشاد اور سابق صوبائی وزراء ڈاکٹر محمد اقبال، حیدر خان، ابراہیم ثنائی اور ثوبیہ مقدم قابل ذکر ہیں۔

مقامی صحافی عبدالرحمان بخاری کا کہنا ہے کہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوگوں کے پیش نظر یہ امر ہے کہ عام طور پر گلگت بلتستان میں وہی جماعت انتخابات جیتتی ہے جو وفاق میں حکومت کر رہی ہوتی ہے لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ 'بظاہر مستقبل میں وزارتیں حاصل کرنے  کے لیے ان لوگوں نے اپنی جماعت بدلنے کا فیصلہ کیا ہے'۔

اتنے اہم مقامی رہنماؤں کی طرف سے جماعت چھوڑنے کے بعد گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی پوزیشن کافی کمزور ہو گئی ہے۔ بعض مقامی تجزیہ کار اس کی وجہ سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کے دور میں پائی جانے والی بد انتظامی کو بھی قرار دیتے ہیں۔

ایک مقامی صحافی،  صفدر علی،  کے بقول خود حافظ حفیظ الرحمان بھی انتخابات کے نتائج کے بارے میں بد دلی کا شکار نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'یوں بھی گلگت بلتستان میں کسی بھی امیدوار کے لئے دو لگاتار انتخابات جیتنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے'۔

پانچ سال پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب خطے میں پانچ سال حکومت میں رہنے کے باوجود اس کے امیدوار پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدواروں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا گئے۔

پارٹی پوزیشن

2015 کے انتخابات میں ہارنے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی نے حالیہ نتخابی مہم میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ اصل معرکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان ہی ہو گا۔

 

یہ بھی پڑھیں

postImg

لاہور کا ضمنی انتخاب: کیا پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی سیاست میں واپس آ گئی ہے؟

دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے یہ انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ وفاق میں حکومت میں ہونے کے باوجود اگر اس جماعت کو یہاں شکست ہوئی تو اس کا اثر لازماً ملک میں ہونے والے اگلے عام انتخابات پر بھی پڑے گا۔

مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف گلگت بلتستان اسمبلی میں چھ سے آٹھ نشستیں جیت لے گی جبکہ ایک نشست اس کی اتحادی جماعت مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں بھی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نصف درجن کے قریب آزاد امیدوار بھی اپنے اپنے حلقوں میں کافی مقبول ہیں جو جیتنے کے بعد یقینی طور پر اس جماعت میں شامل ہو جائیں گے جس کی حکومت بننے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

حکومت سازی کے لیے ہر جماعت کو اسمبلی میں 17 نشستیں درکار ہیں لیکن کوئی جماعت بھی اپنے طور پر اتنی نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لیے انتخابی نتائج آنے کے بعد حکومت سازی کا عمل جوڑ توڑ کے کئی مراحل سے گزرے گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 6 نومبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 10 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔