رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟

postImg

عرفان الحق

postImg

رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟

عرفان الحق

رحیم یار خان، جغرافیائی لحاظ سے پنجاب کا ایک متنوع ضلع ہے، اس وسیع ریگستانی خطے کے کھیتوں کو تین بڑی نہروں سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع کی نسبت یہ زیادہ مقدار میں بہترین معیار کی کپاس پیدا کرتا ہے۔

کپاس کو بنیادی طور پر دھاگے کے حصول کے لیے کاشت کیا جاتا ہے لیکن اس کے بیج سے نکلنے والا تیل بطور ویجیٹبل آئل بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اب کپاس کے زیادہ تر کاشت کار گنے کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں کیونکہ مختلف عوامل جیسا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات،  گرمی کا بڑھتا ہوا دورانیہ اور غیر معیاری کیڑے مار زرعی ادویات کی وجہ سے اس کی پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے تو دوسری طرف زرعی مداخل اور مزدوری کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔

کسانوں کے مطابق ان وجوہات کی بنا پر ان کو مناسب مالی فوائد نہیں مل پاتے۔

رحیم یار خان میں کپاس کے بڑے کاشت کار عمیر یزدانی مسلم چوک کے رہائشی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ سال پہلے وہ 125 ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کیا کرتے تھے لیکن اب انھوں نے اس کی جگہ گنا کاشت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں  گنے کی زیادہ کاشت کی وجہ سے زمین اور ہوا میں نمی کی مقدار بڑھنے لگی ہے اسی لیے کپاس کی فصل پر کیڑوں کا شدید حملہ ہونے لگا ہے۔

"مون سون کی آمد کے دنوں میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پچیس سال پہلے کپاس کی بوائی مئی اور جون میں ہوتی تھی جب ہوا میں نمی کا تناسب بہت کم ہوتا تھا، لیکن اب خشک گرمی کا موسم سکڑ گیا ہے اور نم دار موسم کے دورانیے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ہوا میں نمی زیادہ ہو تو کپاس کی فصل پر سفید مکھی اور دیگر کیڑوں کے حملے بڑھ جاتے ہیں۔ لاکھ زہر کش ادویات کے استعمال سے وہ کنٹرول نہیں ہوتے"۔

ان کے بقول کسانوں نے اس کا توڑ یہ نکالا ہے کہ وہ فروری یا مارچ میں کپاس کاشت کرنے لگے ہیں تاکہ مون سون کے موسم سے پہلے وہ مناسب پیداوار حاصل کر سکیں لیکن ان کے مطابق اس سے نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ان کے علاقے میں گندم کی کاشت کم ہو رہی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں کپاس  کی چنائی کی مزدوری بھی کم تھی لیکن اب ایک من چنائی کی مزدوری ایک ہزار روپے ہو گئی ہے۔

کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی آر آئی) خان پور ضلع رحیم یار خان نے کپاس کی فصل کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی سمارٹ ورائٹیز تیار کرکے اپنا حصہ ڈالا ہے۔

سی آر آئی کے ریسرچر سید احتشام مسعود نے لوک سجاگ کوبتایا  کہ پاکستان میں سال  2002ء سے بی ٹی جین کی پہلی نسل پر مشتمل کپاس کاشت کی جا رہی ہے۔ اس وقت بھی تقریبا 98 فیصد کپاس، بی ٹی جین کی دیگر اقسام کے تحت کاشت کی گئی ہے۔

وہ  مزید کہتے ہیں کہ جب بولوورم (Helicoverpa zea) حملہ کرتا ہے تو  جنیاتی طور پر تبدیل کی گئی کپاس ایسے کیمیائی مادے پیدا کرتی ہے جو کیڑوں کو مار بھگاتے ہیں لیکن  نان بی ٹی کپاس پر جب کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ فصل کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

"تاہم، نقصان دہ کیڑوں نے بی ٹی فصلوں کے خلاف بھی مزاحمت پیدا کر لی ہے۔ اس فصل کو پانی کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس کی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کم ہوتی ہے"۔

مسعود بتاتے ہیں کہ موسمیاتی عوامل، جیسا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت (گلوبل وارمنگ)، معمول سے زیادہ بارشیں، سیلاب اور ناکافی آب پاشی کا کپاس کی پیداوار پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔

"درجہ حرارت اور بارش کے انداز کا براہ راست اثر کپاس کی نمو پر پڑتا ہے۔ کپاس کی مستحکم پیداوار اور اس کے نکلنے والے فائبر کے معیار کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ شدید درجہ حرارت کا زرعی فینولوجی پر شدید اثر پڑتا ہے جس سے کپاس کی فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے"۔

ضلع رحیم یار خان کبھی کپاس کی پیداوار میں سرفہرست تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے  میں کپاس کی فصل میں کمی کے بعد گزشتہ پانچ برس سے وہ شوگر کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار نبھا رہا ہے۔

پنجاب کے محکمہ زراعت کے ادارے کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق 1990 میں ضلع رحیم یار خان میں چھ لاکھ 44 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس اور  73 ہزار 800 ایکڑ رقبے پر گنا کاشت ہوا تھا لیکن سال 2021-22 میں اس ضلع میں کپاس کی کاشت کم ہوکر چار لاکھ 45 ہزار ایکڑ رہ گئی جبکہ گنے کی کاشت بڑھ کر چار لاکھ 91 ہزار ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔

رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت میں کمی اور  گنے کی کاشت میں زیادہ اضافہ 2012 کے بعد سے ہوا ہے۔

سید احتشام مسعود بتاتے ہیں کہ یہ وہی عرصہ ہے جب پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کپاس کی فصل متاثر ہونا شروع ہوئی ہے۔

ایک طرف سرکاری سطح پر پالیسی سازی میں ناکامی ہوئی تو دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے رحیم یار خان میں نہ صرف کپاس کی پیداوار میں کمی بلکہ زیر کاشت رقبے میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملکی ٹیکسٹائل کی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

"کسانوں کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نبٹنے کے لیے کاٹن سیزن کو فروری اور مارچ تک لے جائیں (3 جین اقسام کے لیے 15 فروری اور بی ٹی سنگل جین اقسام کے لیے 15 مارچ)۔ اس طرح بہت سارے مسائل حل ہوں گے۔ فصل جلدی تیار ہو جائے گی، ان پٹ رسپانس کم، کپاس کی فصل میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی اور مون سون کی بارشوں اور سفید مکھی کے حملے سے ہونے والے نقصان سے بچا جاسکے گا"۔

کراپ رپورٹنگ سروسز کے مطابق ضلع رحیم یار خان  میں کپاس کا زیر کاشت رقبے میں کمی کے علاوہ فی ایکڑ پیدوار میں بھی بہت کمی آئی ہے۔ 2019-20ء میں  رحیم یار خان میں فی ایکڑ پیداوار 21 من سے زائد تھی لیکن سال 2022-23ء میں فی ایکڑ پیدوار  تقریباً سوا نو من رہی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020-21ء میں ضلع رحیم یار خان پاکستان کی کل ملکی پیداوار میں چھ لاکھ 17 ہزار گانٹھوں کی پیداوار کے ساتھ کپاس پیدا کرنے والے شہروں میں تیسرے نمبر پر تھا۔ جو کل ملکی پیدوار کا نو فیصد حصہ بنتی ہے۔ جبکہ 2022-23ء میں ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی پیداوار تین لاکھ 62 ہزار 700 گانٹھیں تھیں۔

ضلع رحیم یار خان پاکستان میں کپاس اور کپاس پر مبنی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

لیکن 2022-23ء میں اچانک موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ضلع رحیم یار خان میں مارچ اور مئی میں درجہ حرارت میں سات سے دس ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبپاشی کے پانی کی کمی، شدید گرمی کی لہر نے کپاس کی نمو، بیج کی نشوونما میں رکاوٹ ڈالی اور پتے بھی قبل از وقت مرجھا گئے۔اسی سال کپاس کے سیزن کے دوران بارشوں نے بھی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

لیکن صرف موسم ہی کپاس کی تباہی کی واحد وجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

ضلعی محکمہ زراعت شعبہ کراپ رپورٹنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد کاشف کے مطابق سال 2022-23ء کے دوران فصل کی کاشت سے پہلے بی ٹی جین تھری کے بارے میں کسانوں کو بتایا گیا کہ اس کے استعمال سے فصل جلد پک جائے گی اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت بھی پیدا ہو گی۔ یوں لگ بھگ 20 من  فی ایکڑ کی اوسط پیداوار کے ساتھ تقریبا پانچ لاکھ 61 ہزار رقبے (بشمول چولستان) کو کاشت کیا گیا لیکن سفید مکھی کے شدید حملے کے باعث متوقع پیداوار سے تقریباً 30-40 فیصد تک کم ہوئی۔

کاشت شدہ رقبہ میں اضافہ کپاس کی مناسب امدادی قیمت کے تعین کی وجہ سے ہوا تھا جس نے کسانوں کو زیادہ کپاس کاشت کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔  

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے چیئرمین وحید ارشد نے لوک سجاگ کو بتایا کہ جنرز( روئی بیلنے والے، روئی سے بیج الگ کرنے والی مشین) کپڑے کی صنعتوں اور آئل ملوں کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ دعوی کرتے ہیں کہ جیننگ فیکٹریوں سے لاکھوں افراد کی روزی روٹی بندھی ہے۔ "موسمی تبدیلیوں کے ساتھ غیر متوقع  صورت حال اور سیاسی ماحول نے بھی اس صنعت کو یچھے دھکیلنے میں کردار ادا کیا ہے"۔

ارشد بتاتے ہیں کہ کپاس کی کم پیداوار کی وجہ سے اس وقت صرف 471 جننگ فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جبکہ ماضی میں یہ تعداد  1200 سے زائد ہوا کرتی تھی۔

تاریخ اشاعت 24 فروری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے عرفان الحق گزشتہ دو دہائیوں سے زراعت، صحت، تعلیم اور دیگر سماجی مسائل پر رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.