سانحہ آرمی پبلک سکول: سوالات اٹھانے والے والدین میڈیا کوریج سے کیوں محروم ہیں؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سانحہ آرمی پبلک سکول: سوالات اٹھانے والے والدین میڈیا کوریج سے کیوں محروم ہیں؟

لحاظ علی

postImg

سانحہ آرمی پبلک سکول: سوالات اٹھانے والے والدین میڈیا کوریج سے کیوں محروم ہیں؟

لحاظ علی

اس سال 16 دسمبر کی شدید سردی میں صبح 10 بجے پشاور کے خیبر روڈ پر چونگی چوک کے تین اطراف — صوبائی اسمبلی، ورسک روڈ اور گورا قبرستان — سے آنے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں۔ 

یہاں تقریباً 80 کے قریب افراد — جن میں زیادہ تر خواتین ہیں — نے دھرنا دے رکھا ہے جو "ہمیں حق دو" اور "ہمارے بچوں کے قاتلوں کو گرفتار کرو" کے نعرے لگا رہے ہیں۔

ان تین سڑکوں کے سنگم پر واقع چونگی چوک سے چند سو میٹر کے فاصلہ پر آرمی پبلک سکول اینڈ کالج ہے جہاں 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردی کے ایک دلخراش واقعہ میں 147 افراد — جن میں 132 بچے شامل تھے — کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ 

اس سانحہ کے فوری بعد غمزدہ والدین کی دلجوئی کے لئے بچوں کو حکومتی سطح پر مختلف طریقوں سے خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ لیکن دوسری جانب روزِ اوّل سے متاثرہ والدین کا ایک ایسا دھڑا بھی متحرک رہا جو اس واقعہ کی عدالتی کمیشن کے ذریعہ انکوائری چاہتا تھا۔

اس سانحہ کے تقریباً چار سال بعد اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل ایک رکنی کمیشن قائم کیا جسے چھ ہفتے میں اس واقعے کی مفصل رپورٹ عدالت عظمٰی میں پیش کرنا تھی۔ کمیشن نے 21 ماہ بعد یعنی جولائی 2020 میں 525 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی۔ لیکن متاثرہ والدین کا ایک گروپ یہ سمجھتا ہے کہ اس سانحہ میں غفلت کے مرتکب سیکورٹی اہلکاروں کے لئے قرار واقعی سزا تجویز نہیں کی گئی۔

'ہم نہ بھولیں گے'

اس سال انہیں یہ شکوہ بھی ہے کہ اس واقعہ کو کماحقہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ 

احتجاج کرنے والوں میں شامل لگ بھگ 50 سالہ سکینہ بی بی، جن کا بیٹا اس واقعہ میں قتل ہوا تھا، روتے ہوئے اٹھیں اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ "یہاں احتجاج سے ہمیں کچھ نہیں ملنے والا۔ ہمیں کچھ ہی فاصلہ پر کور کمانڈر کے گھرکے سامنے دھرنا دینا چاہئے۔" کچھ خواتین نے ان کی تائید کی اور ان کے ساتھ کور کمانڈر کے گھر جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ لیکن وہاں تعینات خواتین پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ 

عتیق الرحمٰن افسر کا بیٹا ایمن خان بھی اس واقعہ میں دہشت گردوں کی بربریت کا شکار ہوا۔ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ علاقائی اور ملکی میڈیا پر ان کے احتجاج کی خبر تو کیا نیوز چینلوں نے اسے ٹِکرز (ٹیلی وژن چینلوں میں معمولی نوعیت کی خبریں جو سکرین پر ایک پٹی کی صورت میں چلائی جاتی ہیں) کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ 

عتیق الرحمن نے سُجاگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر میڈیا کے کئی دوستوں کو اس احتجاج کو کوَر کرنے کی درخواست کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ "سیکورٹی کے ایک ادارے نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر رکھا ہے۔"

صبح 10 بجے شروع ہونے والا یہ احتجاج سہ پہر تقریباً چار بجے تک جاری رہا جب ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ان والدین کو ایک دستاویز تھمائی جس کے تحت اگلے سال سے صوبے کے تمام سکولوں میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول کے شہداء کی یاد میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ 

اس سانحہ میں قتل ہونے والے 15 سالہ اسفند خان کے والد اجُون خان، جو اس قسم کے احتجاجوں میں سب سے آگے ہوتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "جس سکول کو سات سال قبل معصوم بچوں کی قتل گاہ بنایا گیا آج اس سکول میں ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں خلافِ معمول کور کمانڈر کی بجائے ایک بریگیڈئر نے شرکت کی۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے سیکورٹی اداروں کے نزدیک اس واقعہ کی کیا اہمیت باقی رہ گئی ہے۔" 

زباں پہ مہر لگی ہے۔۔۔

سنہ 2015 میں اس سانحہ کی پہلی برسی کے موقع پر دو الگ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ایک تقریب آرمی پبلک سکول اینڈ کالج میں منعقد کی گئی جبکہ دوسری تقریب پشاور ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز اینڈ لائبریریز کی عمارت میں صوبائی حکومت کے تحت ہوئی۔ اس تقریب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مہمان خصوصی تھے۔

آرکائیوز ہال میں عمران خان کی تقریر کے آغاز میں ہی وہاں موجود متاثرہ والدین نے احتجاج شروع کر دیا جس پر مجبوراً عمران خان کو انہیں سٹیج پر بلا کر مائیک پر بات کرنے کو کہنا پڑا۔ وہاں ناراض والدین کے نمائندہ فضل خان ایڈوکیٹ نے اپنی تقریر میں ایک طرف تو عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا کہ انہوں نے قتل ہونے والے بچوں کے گھروں میں جا کر تعزیت تک کی زحمت گوارا نہیں کی تو دوسری طرف پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے سکول کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکامی پر ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

لیکن نیوز چینلز پر سیکورٹی اداروں کے حوالہ سے مطالبہ کو کوریج نہ مل سکی۔ 

یوں ہر گزرتے سال کے ساتھ ان والدین کی طرف سے سیکورٹی اداروں میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا گیا جس کی وجہ سے انہیں ملکی میڈیا نے از خود یا کسی جانب سے دباؤ کی وجہ سے نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ 

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک نِجی نیوز چینل کے بیورو چیف نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر سُجاگ کو بتایا کہ دسمبر 2016 میں اس واقعہ کی دوسری برسی کے موقع پر انہیں سیکورٹی ادارے کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے واضح ہدایات تھیں کہ سیکورٹی اداروں کے کردار پر سوال اٹھانے والے متاثرہ والدین میں سے کسی کا انٹرویو نشر نہیں کرنا۔ 

پشاور ہی کے ایک اور صحافی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ بھی مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ 

انہوں نے کہا کہ 2017 میں پشاور پریس کلب میں آرمی پبلک سکول کے مقتول بچوں کے والدین کی پریس کانفرنس کے دوران انہیں ایک نامعلوم نمبر سے یہ تنبیہہ کی گئی کہ انہیں کسی صورت کوریج نہیں دینی۔ اس پریس کانفرنس میں بھی والدین نے اپنے بچوں کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا جسے نہ تو کسی اخبار میں جگہ مل سکی اور نہ ہی کسی نیوز چینل نے اس کے ٹِکرز تک چلائے۔ 

اسی طرح خیبر پختونخوا کابینہ کے ایک اہم رکن کا کہنا ہے کہ اس سال سیکورٹی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے صوبائی حکومت کو کہا کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے لئے سرکاری سطح پر کسی قسم کی تقریب کا انعقاد نہ کیا جائے۔ کابینہ کے رکن کے مطابق اُس افسر کا استدلال تھا کہ "متاثرہ والدین سکیورٹی اداروں کے متعلق سوالات اٹھانا شروع کر دیتے ہیں جسے میڈیا نشر کر دیتا ہے جس سے ہماری سُبکی ہوتی ہے۔" 

یہی وجہ ہے کہ اس سال انہیں ان کے بچوں کے نام سے ہی منسوب آرکائیوز ہال میں بھی تقریب منعقد کرنے کی اجازت نہ مل سکی۔ 

اس بارے میں ضلعی انتظامیہ کے ایک ذمہ دار اہلکار نے سُجاگ کو بتایا کہ اگرچہ ان والدین نے آرکائیوز ہال میں تقریب کے لئے انتظامیہ کو کوئی تحریری درخواست نہیں دی لیکن 13 اگست کو انہوں نے پشاور کے شیر شاہ سوری روڈ پر احتجاج کے دوران اس ہال میں تقریب کی اجازت کا مطالبہ کیا تھا لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے واضح ہدایات کی وجہ سے ان کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

بہا کر لے گیا سیلاب سب کچھ: خیرپور کی بستی مہیر ویسر کا سرکاری سکول تین ماہ سے زیر آب، بچوں کی تعلیم چھوٹ گئی

پچھلے سال بھی اجازت نہ ملنے پر کچھ والدین نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ جمع کروائی تھی جس کے بعد اس سانحہ کی برسی سے ایک دن پہلے (15 دسمبر) انہیں آرکائیوز ہال میں تقریب کی اجازت دے دی گئی۔

یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ ابلاغیات کے پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان اشرف کہتے ہیں کہ متاثرہ والدین چاہتے ہیں کہ 16 دسمبر کے واقعہ کو ہر سال خصوصی طور پر منایا جائے۔ لیکن دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ ان تقاریب میں شریک لوگ بچوں کو تحفظ دینے کے حوالہ سے ہونے والی کوتاہیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔ 

ڈاکٹر عرفان کہتے ہیں کہ سیکورٹی اداروں سے خائف میڈیا ایسی چیزوں کو نشر نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول "یہ واقعہ ہوا ہے، اس بات کو تو میڈیا پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے لیکن یہ واقعہ کیوں ہوا؟ اس کی اجازت دینے کو ریاستی ادارے تیار نہیں۔" 

اس سانحہ میں قتل ہونے والے ایک اور بچے شہزادہ عمر خان کے والد فضل خان ایڈوکیٹ نے پانچ سال قبل پشاور پریس کلب میں آرمی پبلک سکول کے بچوں کے لئے منعقد کی گئی ایک تقریب میں راقم سے سرگوشی کرتے ہوئے کہا تھا کہ "جب تک یہ والدین زندہ ہیں اس واقعہ کے متعلق سوالات اٹھتے رہیں گے۔ لیکن بیس پچیس سال بعد جب یہ نہیں رہیں گے تو یہ واقعہ بھی صرف مُحرم کی طرح منایا جائے گا جس میں کربلا میں ہونے والی شہادتوں پر تو افسوس کیا جائے گا لیکن اس واقعہ میں یزید کے کردار کے متعلق کوئی سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔"

تاریخ اشاعت 21 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

لحاظ علی پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں۔ گورننس، پارلیمانی امور، سیاست اور قبائلی علاقہ جات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ