دیہی آبادی کے لیے بجلی و گیس کے بھاری بلوں کا متبادل کیا ہے؟

postImg

عزیز الرحمن صباؤن

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

دیہی آبادی کے لیے بجلی و گیس کے بھاری بلوں کا متبادل کیا ہے؟

عزیز الرحمن صباؤن

loop

انگریزی میں پڑھیں

چھیالیس سالہ احسان اللہ، بلوچستان کے ضلع پشین کے رہائشی ہیں جو اپنی زندگی میں پہلی بار لوڈ شیڈنگ کے بغیر 24 گھنٹے بجلی و گیس کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ چند ماہ پہلے انہوں نے ڈیجٹل اور سوشل میڈیا پر لوک سجاگ کی ایک ویڈیو سٹوری دیکھی تھی جس میں لورالائی کے سکول ٹیچر سید خان ناصر کے ماحول دوست بائیو گیس پلانٹ سے متعلق بتایا گیا تھا۔

"مجھے معلوم ہوا کہ سید خان دو گائے کے ویسٹ (گوبر) سے بائیو پلانٹ چلا رہے ہیں جس سے وہ روزانہ ایک کلو سے زائد گیس حاصل کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ ہم نے تو گھر میں دودھ کے لیے چار گائے رکھی ہوئی ہیں، کیوں نہ اسی طرز کا پلانٹ لگا لیں جس پر خرچہ بھی زیادہ نہیں ہوتا۔"

احسان اللہ نے بتایا کہ انہوں نے سید خان ناصر کے پلانٹ کی پیروی میں ان سے نسبتاً بڑا بائیوگیس پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران انہوں نے سید خان سے رابطہ کیا اور ان سے پلانٹ لگانے میں مدد کی درخوست کی۔

"سید خان ناصر لورالائی سے کسی پس و پیش کے بغیر ہمارے پاس آ گئے اور انہوں نے پلانٹ لگانے میں ہماری مدد کی اور کوئی معاوضہ بھی نہیں لیا۔ اب ہمیں روزانہ کی بنیاد پر دو سے تین کلو گیس مل رہی ہے جبکہ گرمی کے موسم میں گیس کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔"

احسان بتاتے ہیں بائیو گیس کا استعمال گھر میں کھانا پکانے اور چائے وغیرہ کے لیے کرتے تھے لیکن جب زیادہ گرمی پڑنا شروع ہوئی تو گیس کے مقدار بڑھ گئی لیکن اس کا استعمال سردیوں کی نسبت کم ہو چکا تھا جس کی وجہ سے بہت ساری گیس ضائع ہو رہی تھی۔

"ہم نے فالتو گیس سے بجلی بنانے کے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور بازار سے گیس پر چلنے والا جنریٹر خرید لیا۔ اب اسی بائیوگیس سے گھر میں کھانا پکانے کی ضرورت پوری ہوتی ہے اور بجلی بھی 24 گھنٹے مفت میں مل رہی ہے۔"

اس شدید گرمی کے باوجود اب احسان اللہ کے گھر میں بائیوگیس کی بدولت نہ تو کوئی سرکاری بجلی آنے کا انتظار کرتا ہے اور نہ ہی سردیوں میں کسی کو ایندھن (کوئلہ، لکڑی وغیرہ) کی فکر ہوتی ہے۔

پاکستان کو طویل مدت سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے جس کے لیے دو تین عشرے قبل نجی کمپنیوں کے ذریعے بجلی بنانے والے کارخانے لگائے گئے تھے، جس كے باعث ملک میں بجلی كی پیداواری صلاحیت تو بڑھ گئی مگر پاور سیکٹر کا سرکولر ڈیٹ  کا حجم رواں سال جنوری میں 26 کھرب 36 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔

اقتصادے سروے 2023-24ء كے مطابق  پاکستان میں بجلی بنانے کی صلاحیت (انسٹالڈ کپیسیٹی) 41 ہزار میگا واٹ ہے جس میں سے پانی سے بننے والی بجلی کا تناسب 25.8 فیصد، تھرمل (تیل، کوئلہ اور گیس) بجلی کا 58.8 فیصد، ایٹمی بجلی 8.6 فیصد اور متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 6.8 فیصد بنتا ہے۔

ملک میں اگرچہ گرمیوں میں بھی زیادہ سے زیادہ طلب 26 ہزار میگاواٹ ( رواں سال جون) ہی رہتی ہے۔ تاہم تھرمل بجلی کے مہنگے ایندھن اور سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے یہ ڈیمانڈ بھی پوری نہیں ہو پاتی اور اکثر اوقات شارٹ فال  چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ جا تا ہے۔

ماہر معیشت اور یونیورسٹی آف بلوچستان كے پروفیسر شاكر علی كہتے ہیں کہ پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نرخ فی یونٹ 7.74 (100 یونٹ تک ) روپے سے 42 روپے (500 یونٹ سے زائد پر) فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں۔

"پٹرول گیس اور بجلی کی قیمتوں نے نہ صرف عام آدمی بلکہ پورے ملک کو افراط زر کی اذیت میں ڈبو دیا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ بڑھتی مہنگائی اور كم اجرت كے باعث مڈل كلاس کے لیے بھی بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی ناممکن ہو گئی ہے۔"

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ترجمان محمد افضل تصدیق کرتے ہیں کہ کیسکو بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی كے سبب طلب کے مطابق بجلی فراہم نہیں كر رہی جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں 20 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔

نیپرا کی 2022 -23 کی رپورٹ  کے مطابق کیسکو ملک کی سب سے زیادہ خسارے میں چلنے والی بجلی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو ماہانہ تقریباً 22 ارب روپے کا نقصان کر رہی ہے جبکہ وصولیوں کی شرح صرف 37 فیصد ہے۔

ملک میں گیس کی صورتحال بھی بجلی سے مختلف نہیں۔ اقتصادی سروے  بتاتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال مجموعی طور پر تین ہزار 258 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی گئی جس میں سے ایل این جی (امپورٹڈ) کا حصہ 631 ایم ایم سی ایف ڈی تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 907 ایم ایم سی ایف ڈی گیس گھروں میں استعمال کی گئی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ قدرتی گیس میں میتھین (جلنے والا عنصر) 85 سے 95 فیصد ہوتی ہے جبکہ بائیو گیس میں یہ تناسب 75 فیصد تک ہوتا ہے جو گھریلو استعمال کے لیے کافی ہے۔

ضلع لورالائی کے رہائشی سید خان ناصر پیشے کے اعتبار سے تو سکول ٹیچر ہیں مگر پچھلے چار سال سے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

بلوچستان: دیسی بائیو گیس پلانٹ ضرورت کے ساتھ منافع بھی

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں لوگ درختوں کو کاٹ کر ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے جنگلات کم ہو رہے ہیں اور اس کا ماحول پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے آگ جلانے کے لیے اپنے گھر میں بائیوگیس پلانٹ لگایا تھا۔

سید خان اس بات سے خوش ہیں کہ لوگ بائیو گیس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس پیشرفت سے نہ صرف درختوں کی کٹائی رک جائے گی بلکہ بائیوگیس اور بجلی مفت میں ملے گی۔ جبکہ بائیوگیس پلانٹ سے بچ جانے والا ویسٹ (گوبر) فصلوں اور باغات کے لیے بہترین کھاد کے طور پر استعمال ہو گا۔

سید خان ناصر کا ماننا ہے کہ دیہات میں جانوروں کا ویسٹ(گوبر) بڑی مقدار میں دستیا ب ہوتا ہے۔ اگر اس کو بائیو گیس کے لیے استعمال کیا جائے تو دیہی آبادی کو سرکاری گیس اور بجلی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اس سے نہ صرف لوگوں کو بلوں کی مصیبت سے چھٹکارا ملے گا بلکہ ملک کا قیمتی زرمبادلہ بھی بچے گا اور ماحولیاتی مسائل بھی کم ہوں گے۔

تاریخ اشاعت 24 جولائی 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عزیز الرحمن صباؤن میڈیا سٹڈیز میں ماسٹر کرنے کے بعد پچھلے چار سالوں سے میڈیا سے وابسطہ ہیں۔ ہیومن رائٹس،ریفیوجی اور بلوچستان میں مسلح تنیظیمیں ان کی دلچسپی کے موضوع ہیں۔

thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.