حلقہ پی پی-7 راولپنڈی
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم

فوجی گھرانے، ذات برادری یا جماعتی اثر و نفوذ: ہار جیت کا فیصلہ کون کرے گا؟

عمر فاروق

تاریخ اشاعت 16 جولائی 2022

انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ظہیرالاسلام عباسی جون 2022 میں شاید پہلی بار ضلع روال منڈی کی تحصیل کہوٹہ کے عام لوگوں میں دکھائی دیے۔ انہوں نے وہاں ایک جلسے سے خطاب کیا اور مقامی لوگوں سے کہا کہ وہ آئندہ ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ دیں۔

اس واقعے سے سوشل میڈیا پر ہل چل مچ گئی اور اس پر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسروں کی طرف سے  پاکستان تحریک انصاف کے لیے مبینہ حمایت کے حوالے سے بہت سی باتیں ہونے لگیں۔ بعدازاں ظہیرالاسلام کو وضاحت دینا پڑی کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں اور (پی پی-7 جو پنجاب اسمبلی کے ان حلقوں میں شامل ہے جہاں 17 جولائی 2022 کو ضمنی انتخابات ہوئے ہیں) میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے لیے ان کی حمایت خالصتاً مقامی وجوہات کی بنا پر تھی کیونکہ وہ بھی اسی علاقے کے رہنے والے ہیں۔

بہرحال، چند مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد عام طور پر نظروں سے دور رہنے والے ان جنرل صاحب کی اس حلقے سے کوئی سیاسی یا انتخابی قوت نہیں ہے۔ مقامی رپورٹر اکرم قریشی کے مطابق ''وہ کہوٹہ میں رہتے بھی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ جب کبھی وہ کہوٹہ میں اپنے آبائی گھر کا دورہ کرتے ہیں تو اس وقت یہاں اس قدر سکیورٹی ہوتی ہے کہ عام لوگوں کا ان کے گھر کے آس پاس بھٹکنا  بھی ممکن نہیں ہوتا۔''

ایک اور مقامی رہائشی اور پاکستان نیوی کے سابق سربراہ عبدالعزیز مرزا کا بھی اس علاقے سے کچھ ایسا ہی تعلق ہے۔ وہ کلرسیداں نامی قصبے کے رہنے والے ہیں جو کہوٹہ کی طرح پی پی-7 کا حصہ ہے لیکن اکرم قریشی کے مطابق ''وہ کبھی کبھار ہی یہاں آتے ہیں اور کبھی عام لوگوں سے نہیں ملتے''۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حلقے سے تعلق رکھنے والے متعدد دیگر نمایاں سابق فوجی حکام کا مقامی آبادی کے ساتھ بہت کم سماجی اور سیاسی رابطہ رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ عام لوگوں سے بات بھی نہیں کرتے۔ اسی لیے ان کا انتخابی سیاست پر بھی کوئی اثر نہیں ہے۔

بعض مقامی مبصرین کہتے ہیں کہ انتخابی سیاست میں سابق فوجی حکام کی اہمیت نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پی پی-7 میں خاص طور پر اور پوری تحصیل کہوٹہ میں عمومی طور پر ریٹائرڈ فوجی حکام جس طرح مقامی لوگوں سے میل جول یا دوری رکھتے ہیں یہاں کے سیاسی حالات سے کوئی مطابقت نہیں ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوے ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی آبادی کو تین نمایاں حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ مسلح افواج میں ملازمت کرتا ہے جبکہ اتنی ہی بڑی تعداد میں لوگ امریکہ اور یورپ میں رہتے ہیں۔ بقیہ آبادی چھوٹے کسانوں، سبزی کے کاشتکاروں اور مزدور طبقے پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے قریبی میل جول رکھ کر گزربسر کرتے ہیں۔ایک مقامی صحافی آصف شاہ کہتے ہیں کہ یہ تیسرا طبقہ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں بروقت شریک ہوتا ہے اور جو لوگ ایسے مواقع سے دور رہیں وہ یہاں اپنی سماجی اہمیت کھو دیتے ہیں''۔

'فوجی علاقہ'

مقامی اندازوں کے مطابق حلقہ پی پی-7 کی 70 فیصد سے زیادہ بالغ مرد آبادی ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی ملازمین پر مشتمل ہے۔ آصف شاہ کے مطابق ''اس علاقے سے تعلق رکھنے والے فوجی ملازمین میں سپاہی اور افسر دونوں شامل ہیں''۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ فوجی ملازمت کرنے والے ان تمام لوگوں کے خاندان ایک ہی سیاسی جماعت یا ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔ البتہ اس علاقے میں ایسے لوگوں کی غالب اکثریت کے باعث مقامی سطح پر سامنے آنے والے دو بڑے سیاسی کرخانوادوں کا تعلق بھی براہ راست یا بالوسط طور پر فوج سے ہے۔

ان میں سے ایک خاندان راجہ ظفرالحق کا ہے۔ وہ جنرل ضیاالحق کی کابینہ میں وزیر اطلاعات تھے جب 1985 کے عام انتخابات میں وہ اس حلقے میں ایئرفورس کے ریٹائرڈ افسر خاقان عباسی کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ لیکن خاقان عباسی 1988 میں راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ میں گولہ بارود کا ذخیرہ پھٹنےکے نتیجے میں ایک راکٹ کا ٹکڑا سر پر لگنے سے انتقال کر گئے۔

بعدازاں ان کے بیٹے شاہد خاقان عباسی نے ان کی سیاسی وراثت سنبھالی اور آزاد امیدوار کے طور پر 1988 کے انتخابات میں اپنے والد کی طرح راجہ ظفرالحق کو شکست دی۔راجہ ظفرالحق اس انتخاب میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے امیدوار تھے جو پاکستان مسلم لیگ نواز اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی متعدد دیگر جماعتوں کا اکٹھ تھا۔ بعدازاں شاہد خاقان عباسی نے بھی پاکستان مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے پلیٹ فارم سے متعدد انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ وہ کئی مرتبہ وفاقی کابینہ میں وزیر رہے اور 18-2017 میں مختصر عرصہ کے لیے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق 1988 کے بعد ایک ہی سیاسی جماعت کا حصہ ہونے کے باوجود مقامی سطح پر ایک دوسرے کے سیاسی حریف رہے ہیں۔ یہ سیاسی مخالفت 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی واضح طور پر دیکھی گئی جب شاہد خاقان عباسی نے مخالف دھڑے پر کاری وار کیا اور راجہ ظفرالحق کے بھتیجے راجہ صغیر احمد کو پی پی-7 میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار راجہ محمد علی کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا کر دیا۔ ان کے مقابل امیدوار محمد علی کو راجہ ظفرالحق کی حمایت حاصل تھی۔ راجہ صغیر احمد یہ انتخاب تقریباً دو ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت گئے۔

تاہم یہ فیصلہ دو اعتبار سے شاہد خاقان عباسی کو الٹا پڑ گیا۔ ایک تو وہ اپنے آبائی علاقے سے قومی اسمبلی کا انتخاب ہار گئے اور یہ ان کی اپنے سیاسی کیریئر میں دوسری انتخابی شکست تھی۔ انہیں دوسرا دھچکا یہ لگا کہ جیتنے والے امیدوار راجہ صغیر احمد نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ رسمی طور پر کبھی تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوئے تاہم اپریل 2022 میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے بعد وہ اس بنیاد پر اسمبلی رکنیت سے محروم ہوئے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کا رکن ہوتے ہوئے اس کی پالیسی سے انحراف کیا تھا۔ چنانچہ پی پی-7 میں ضمنی انتخاب کے لیے انہیں پاکستان مسلم لیگ نواز کا ٹکٹ مل گیا اور اب انہیں شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق دونوں کی حمایت حاصل ہے۔

ذات بمقابلہ جماعت

 پی پی-7 کی سیاست میں تین برادریوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان میں جنجوعے (راجہ ظفرالحق کا خاندان اسی ذات سے تعلق رکھتا ہے) عباسی اور ستی شامل ہیں۔ اگرچہ ستی برادری کے لوگوں کو بقیہ دونوں ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں جیسی انتخابی کامیابیاں کبھی نہیں ملیں لیکن مقامی سیاست میں ان کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کے غلام مرتضیٰ ستی نے 2018 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے چالیس ہزار ووٹ حاصل کیے تھے اور انہیں صرف چار ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی تھی۔

2002 میں بھی ستی برادری کے لوگوں ںے یکجا ہو کر انہیں ووٹ دیا تھا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے تھے۔ اگر اِس مرتبہ بھی اس برادری کے لوگ اسی یکجائی کا مظاہرہ کریں تو وہ ضمنی انتخابات میں اپنے پسندیدہ امیدوار کو فتح دلا سکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) شبیر اعوان کو امید ہے کہ ستی برادری کا بیشتر ووٹ انہیں ملے گا کیونکہ اس ضمنی انتخابات میں اس برادری کی جانب سے کوئی نمایاں امیدوار الیکشن نہیں لڑ رہا۔

تاہم ستی برادری کے بغیر بھی حلقے میں ان کا اپنا اچھا خاصا ووٹ بینک بھی موجود ہے۔ وہ 2002 سے اس حلقے میں انتخاب لڑتے چلے آئے ہیں۔ اس سال پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں صرف تین ہزار ووٹوں کے فرق سے دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ 2008 میں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے جبکہ 2013 میں انہیں راجہ صغیر احمد کے ہاتھوں شکست ہوئی جو اُس وقت آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑ رہے تھے۔

اگر ستی برادری شبیر اعوان کی حمایت نہیں کرتی تو وہ اس حلقے کے شہری نصف حصے میں ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کریں گے جو کلرسیداں اور گردوانواح پر مشتمل ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی حصوں سے آنے والے لوگ یہاں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں اس لیے یہاں ذات پات کے بجائے پارٹی نظریے کی بنیاد پر ووٹ دینے کا رجحان مضبوط ہے۔

روایتی طور پر کلرسیداں کے ووٹروں کی اکثریت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حامی رہی ہے۔ تاہم ایسے علاقے میں عمران خان کا امریکہ مخالف بیانیہ اور آزاد خارجہ پالیسی کے نعرے بھی مقامی ووٹروں کی توجہ کھینچ سکتے جہاں پاکستان کا سب سے بڑا جوہری مرکز واقع ہے۔