حلقہ این اے-108 فیصل آباد
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم

ایک ہی سکے کے دو رخ: مہنگائی کے مارے فیصل آباد کے لوگ اپنی 'سیاسی وابستگیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں'۔

اجمل ملک

تاریخ اشاعت 13 اکتوبر 2022

محمد افضل کو اس ماہ بجلی کے بِل کی مد میں 18 ہزار سات سو روپے ادا کرنا پڑے ہیں۔ اگرچہ پچھلے ماہ ان کے بِل کی رقم تقریباً پانچ ہزار روپے کم تھی لیکن یہ بھی ان کی آمدنی کے تناسب سے بہت زیادہ تھی۔ 

وہ بطور سیلز مین ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں جہاں ان کی ماہانہ تنخواہ 38 ہزار روپے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ "اسے برداشت کرنا ہم جیسے کم آمدنی والے لوگوں کے بس کی بات ہی نہیں رہی"۔ 

وہ فیصل آباد میں المعصوم ٹاؤن نامی بستی میں رہتے ہیں جو قومی اسمبلی کے حلقے این اے-108 میں شامل ہے۔ اس حلقے میں 16 اکتوبر 2022 کو ضمنی انتخاب ہو رہا ہے کیونکہ یہاں سے 2018 کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے اپنی جماعت کے ایک فیصلے کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

محمد افضل نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس ضمنی انتخاب میں کس کو ووٹ دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں وہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے حامی رہے ہیں اور اسی کے انتخابی امیدواروں کو ووٹ دیتے چلے آئے ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق، "حالیہ مہنگائی خصوصاً بجلی کی قیمت میں اضافے نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں اپنی سیاسی وابستگی پر نظرثانی کروں"۔ 

حقیقت یہ ہے کہ این اے-108 میں ہونے والے ہر انتخابی اجتماع میں گفتگو کا مرکزی نکتہ بجلی کی قیمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار عابد شیر علی (جو اس جماعت کے قائد نواز شریف کے قریبی رشتہ دار ہیں) اس مسئلے کی اہمیت سے آگاہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنی انتخابی مہم کے ابتدائی ہفتوں میں وہ اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کو بجلی کے نرخوں میں اضافے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ 

اسی دوران جب وفاقی حکومت نے تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں لوگوں کے بِلوں میں کمی کرنے کا اعلان کیا تو عابد شیر علی نے مقامی مساجد میں اعلان کرائے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی مرکزی قیادت نے یہ قدم انہی کے کہنے پر اٹھایا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظر میں یہ اعلان مقامی ووٹروں کی رائے پر اثرانداز ہونے کا ایک خلاف ضابطہ طریقہ تھا اس لیے یہ کرنے جرم میں عابد شیر علی کو 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

پچھلے ماہ کے آخر میں مفتاح اسماعیل کے استعفے اور اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ بن جانے کے بعد عابد شیر علی اب بجلی کی بندش کے اوقات اور ڈالر کی قیمت میں کمی کو اپنی جماعت کی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ 

دوسری طرف این اے-108 کے ضمنی انتخاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار (اور سربراہ) عمران خان کی انتخابی مہم کے انچارج فرخ حبیب نہ صرف اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں کرائے گئے مختلف ترقیاتی کاموں کے بارے میں ووٹروں کو بتا رہے ہیں بلکہ وہ مہنگائی، بجلی کی بندش اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کی مبینہ بدعنوانیوں کی نشان دہی کرنے پر بھی خاصا زور لگا رہے ہیں۔ 

شکوے، شکایتیں، اختلاف

اگرچہ این اے-108 میں متوسط اور بالائی طبقے سے تعلق رکھنے والی چند آبادیاں بھی موجود ہیں لیکن اس میں رہنے والے بیشتر گھرانے تین سے پانچ مرلے کے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں مقیم ہیں۔ اسی طرح یہاں کے زیادہ تر ووٹر محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ 

اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں یوں تو 12 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن اصل مقابلہ عابد شیر علی اور عمران خان کے درمیان ہی ہے۔ تاہم مقامی سیاسی مبصروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں امیدواروں کو ووٹروں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ جہاں ایک طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنی گزشتہ چھ ماہ کی معاشی کارکردگی کی وجہ سے عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہے وہاں دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو وضاحت کرنا پڑ رہی ہے کہ وہ اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت (22-2018) میں عوامی مسائل حل کرنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی۔ 

پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقامی حمایتیوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران جب انہیں گرفتاریوں اور حکومتی سختیوں کا سامنا تھا تو عابد شیر علی خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے لندن چلے گئے تھے جہاں وہ تقریباً ساڑھے تین سال مقیم رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کو بھی اسی طرح کا شکوہ ہے کہ میاں فرخ حبیب انتخاب جیتنے کے بعد وزیر مملکت بن گئے تھے جس کے باعث ان کا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزرتا تھا۔ نتیجتاً وہ اس حلقے کے کئی حل طلب مسائل پر توجہ نہیں دے سکے۔

ان حالات میں ضمنی انتخاب کے دن این اے-108 میں ووٹ ڈالنے کی شرح خاصی کم رہ سکتی ہے۔اس کے باوجود مقامی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نشست پر ایک سخت مقابلہ متوقع ہے کیونکہ عابد شیر علی (اور ان کے والد چوہدری شیر علی) 1990 سے لے کر 2013 تک اس حلقے سے مسلسل منتخب ہوتے رہے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں بھی فرخ حبیب نے انہیں دو ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

اس شکست کی ایک اہم وجہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا اندرونی اختلاف تھا جس کے باعث عابد شیر علی کو اپنی ہی جماعت کے ایک اہم مقامی رہنما اور موجودہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ عابد شیر علی بھی نہیں چاہتے تھے کہ رانا ثنااللہ این اے-108 کی حدود میں واقع پنجاب اسمبلی کی نشست، پی پی-113،  سے انتخاب لڑیں اور جیتیں۔ اس باہمی کش مکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ہی ہار گئے۔ 

تاہم ضمنی انتخاب میں عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں نے اپنی کئی سال پرانی رنجش ختم کر دی ہے حالانکہ ماضی میں اسے نواز شریف بھی ختم نہیں کرا سکے تھے۔ اس صلح کے نتیجے میں عابد شیر علی اپنی جیت کے بارے میں خاصے پرامید ہیں اگرچہ ان کی مہم میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے کسی بھی مرکزی رہنما کے شریک نہ ہونے  سے انہیں کچھ نہ کچھ انتخابی نقصان ضرور ہو سکتا ہے۔  دوسری طرف عمران خان خود 4 ستمبر 2022 کو فیصل آباد میں ایک بڑا جلسہ کر چکے ہیں اور ان کی جماعت کے کئی سینئر ارکان بھرپور طریقے سے ان کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔  

پاکستان تحریک انصاف کو یہ بھی توقع ہے کہ این اے-108 میں رہنے والے 24 ہزار کے قریب رحمانی برادری کے ووٹروں میں سے بیشتر اسی کے امیدوار کو ووٹ دیں گے کیونکہ اس کے کئی سرکردہ لوگ اس جماعت کی ضلعی تنظیم میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ 

یہ برادری روایتی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایتی رہی ہے لیکن پچھلے دو انتخابات میں اس کے سیاسی اور انتخابی رجحانات میں واضح تبدیلی آئی ہے جس کے نتیجے میں 2013 میں اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک اصغر علی قیصر نے 21 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی لیکن 2018 کے عام انتخابات میں وہ پانچ ہزار سے بھی کم ووٹ لے سکے اور چوتھے نمبر پر رہے۔

نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید: 'سیاستدان مسیحی آبادیوں کا رخ صرف ضرورت پڑنے پر کرتے ہیں'۔

اجمل ملک

تاریخ اشاعت 12 اکتوبر 2022

فیصل آباد شہر کی ابنِ مریم کالونی میں رہنے والے 24 سالہ بادل مسیح صفائی کرنے والے مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے ذمہ دار سرکاری ادارے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں یومیہ اجرت پر ملازم ہیں۔ اگرچہ وہ 2018 کے عام انتخابات میں ووٹ دینے کی عمر کو پہنچ چکے تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں اور انتخابی امیدواروں سے اس قدر مایوس تھے کہ انہوں نے کسی کو بھی ووٹ نہیں دیا۔ 

ان کے مطابق اس مایوسی کی اہم وجہ تقریباً تین سو مسیحی گھرانوں پر مشتمل ان کی کالونی کی پس ماندگی ہے۔ یہاں کے باسیوں کی غالب اکثریت ڈیڑھ، دو اور ڈھائی مرلے کے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رہتی ہے۔ اس کے عقب میں ایک گندا نالہ بہتا ہے جس کی بدبو چوبیس گھنٹے اس کی فضا میں رچی رہتی ہے۔ اس کی کچی گلیوں میں رات کو اندھیرا چھایا رہتا ہے کیونکہ ان میں روشنی کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ اسی طرح اس کے استعمال شدہ گندے پانی کی نکاسی کے لیے بھی کوئی نظام نہیں بنایا گیا لہٰذا یہ پانی جگہ جگہ گھروں کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔    

بادل مسیح کہتے ہیں کہ اگر کوئی انتخابی امیدوار یہ تمام مسائل حل کرانے کا سچا وعدہ کرے اور ساتھ ہی انہیں مستقل نوکری لے کر دے دے تو وہ بخوشی اسے ووٹ دیں گے۔ بصورتِ دیگر وہ کبھی بھی ووٹ نہیں ڈالنا چاہیں گے۔ 

ان کے برعکس اسی کالونی کے رہنے والے شوکت جان کو شدت سے انتخابات کا انتظار ہے۔ وہ فیصل آباد کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) میں گندے پانی کی نکاسی پر متعین ہیں لیکن ان کی نوکری پکی نہیں بلکہ ہر تین مہینے بعد انہیں اس میں توسیع کے لیے اپنے سپروائزر کو درخواست دینا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لیے مستقل ملازمت کا مطالبہ تبھی کر سکیں گے جب مقامی سیاست دان انتخابی امیدواروں کی صورت ان کے پاس ووٹ مانگنے کے لیے آئیں گے۔ 

ابنِ مریم کالونی کے ان باشندوں کی طرح فیصل آباد کی دوسری مسیحی بستیوں کے باسی بھی شہری سہولیات کی کمی اور روزگار کے مستقل مواقع کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ وہ اس الجھن کا بھی شکار ہیں کہ آیا انتخابات ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں یا نہیں۔

ان بستیوں میں سے بیشتر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-108 کی حدود میں واقع ہیں جہاں 16 اکتوبر 2022 کو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں کیونکہ 2018 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے منتخب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے چند ماہ پہلے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حلقے میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو بڑی جماعتوں کے امیدوار اُن کے سارے ترقیاتی اور معاشی مسائل حل کرانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ امیدوار کچھ ترقیاتی منصوبوں پر کام بھی شروع کرا دیتے ہیں لیکن انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی یہ منصوبے ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

ابنِ مریم کالونی کو جانے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک اس طرزِعمل کی واضح مثال ہے۔ مقامی باسیوں کا کہنا ہے کہ اس کی تعمیر پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت (22-2018) کی ابتدا میں شروع کی گئی لیکن اسے بنانے والی کمپنی نے جلد ہی اسے ادھورا چھوڑ دیا اور اب اس کی تکمیل کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ 

تاہم فرخ حبیب کے بھائی نبیل ارشد کہتے ہیں کہ یہ سڑک اس لیے ادھوری رہ گئی ہے کہ اس کے لیے پنجاب حکومت کی طرف سے مختص کیے گئے 30 کروڑ روپے بروقت استعمال نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے میں واپس چلے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فرخ حبیب نے اس رقم کی "بحالی کے لیے صوبائی حکومت کو درخواست بھی دی تھی لیکن اس کی منظوری سے پہلے ہی وفاق اور صوبے میں ہماری جماعت کی حکومت ختم ہو گئی"۔

ابنِ مریم کالونی میں سیوریج کا ناقص نظامابنِ مریم کالونی میں سیوریج کا ناقص نظام

حالانکہ اب پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں دوبارہ حکومت میں آ گئی ہے لیکن سڑک کی تعمیر ابھی بھی شروع نہیں ہو سکی کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ "ضمنی انتخابات کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حلقے میں ترقیاتی کاموں پر پابندی لگا رکھی ہے"۔ 

اسی وجہ سے فیصل آباد سٹی کونسل کے سابق اقلیتی رکن الفونس سہوترا سمجھتے ہیں کہ یہ پابندی ناروا ہے۔ ان کے مطابق مسیحیوں کے ترقیاتی کام صرف انتخابی مہم کے دوران ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ تب ہی انہیں اپنے علاقے کے سیاست دانوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ جیتنے یا ہارنے کے بعد تو "انتخابی امیدوار انہیں پوچھتے تک نہیں"۔ 

عدم توجہ سے عدم دلچسپی تک

این اے-108 میں غیرمسلم ووٹروں کی تعداد 22 ہزار کے قریب ہے لیکن گزشتہ عام انتخابات میں ان کے ووٹ دو بڑی جماعتوں کے درمیان منقسم ہو گئے تھے۔ مثال کے طور پر ابن مریم کالونی کی بیشتر مسیحی برادری نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار عابد شیر علی کو ووٹ دیے تھے جبکہ داؤد نگر اور ملکھانوالہ نامی بستیوں کے رہنے والے زیادہ تر مسیحیوں نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار فرخ حبیب کی حمایت کی تھی۔ 

مقامی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ابن مریم کالونی سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے جیتنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ عابد شیر علی اور ان کا خاندان اس محلے میں ذاتی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ یہاں رہنے والے زیادہ تر مسیحی کم تعلیم یافتہ ہونے کے سبب سرکاری اداروں میں صفائی کے شعبے سے منسلک ہیں جہاں پچھلے 30 سالوں سے ان کا واسطہ پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے پڑ رہا ہے کیونکہ اس تمام عرصے میں یہ جماعت فیصل آباد کی انتخابی سیاست پر چھائی رہی ہے۔

دوسری طرف ملکھانوالہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جیتنے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ یہاں کے لوگ نسبتاً زیادہ پڑھے لکھے ہونے کے باعث یا تو نجی شعبے میں نوکریاں کرتے ہیں یا چھوٹے موٹے کارروبار کرتے ہیں۔ اس لیے ابن مریم کالونی کے باسیوں کے برعکس ان کے روزگار مقامی سیاست دانوں کی خوشنودی پر منحصر نہیں۔ اس کی دوسری وجہ عابد شیر علی کے اپنی ہی جماعت کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار رانا ثنااللہ سے اختلافات تھے جن کے نتیجے میں ان دونوں نے ایک دوسرے کے لیے ووٹ نہیں مانگے۔

تاہم 16 اکتوبر 2022 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں ان مسیحی بستیوں میں انتخابی نتائج ماضی کی نسبت مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ نہ صرف عابد شیر علی اور رانا ثنااللہ کی صلح ہو چکی ہے بلکہ پاکستان تحریک انصاف اپنے دورِحکومت میں فیصل آباد کی مسیحی آبادی کے ترقیاتی اور معاشی مسائل حل کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ تاہم دوسری طرف پچھلے چھ ماہ میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت بھی اس ضمن میں کوئی بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ اس لیے اسے بھی مسیحی ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔     

اس صورتِ حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل آباد شہر کے صدر رانا نعیم دستگیر کہتے ہیں کہ دراصل سبھی سیاسی جماعتوں نے مقامی مسیحی آبادی کو مایوس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ان ووٹروں سے کیے گئے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، ان کے محلوں میں ترقیاتی کام نہیں کرائے جاتے، انہیں پکی نوکریاں نہیں ملتیں اور نہ ہی کاروبار کے مناسب مواقع ان کے ہاتھ آتے ہیں"۔

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ مسیحی ووٹر سیاست کے قومی دھارے سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور بادل مسیح کی طرح انتخابات میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔