حلقہ پی پی-167 لاہور
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم

ضمنی انتخاب میں فیصلہ کن عوامل: سرکاری ترقیاتی منصوبوں، برادری، دھڑے بندیوں اور جماعتی وابستگیوں میں سے کس کا پلڑا بھاری رہے گا؟

آصف ریاض

تاریخ اشاعت 13 جولائی 2022

کرسچن کالونی محض دو گلیوں پر مشتمل ایک کچی آبادی ہے۔ جولائی 2022 کے پہلے ہفتے میں ان میں سے ایک گلی آدھی کُھدی ہوئی ہے اور اس میں پلاسٹک کے پائپ بچھے ہوئے ہیں۔ درجن بھر مزدور باقی گلی کو کھودنے اور اس میں پائپ بچھانے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ان کے ذریعے مقامی آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔ 

اس آبادی کے بیچوں بیچ ایک گندہ نالہ بہتا ہے جس میں سے قریب ہی واقع فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ اور سیوریج کا گندا پانی گزرتا ہے۔ اس کے دونوں اطراف درجنوں چھوٹے چھوٹے گھر آباد ہیں جن میں چند سو مسیحی خاندان رہتے ہیں۔  

کرسچن کالونی لاہور میں واقع پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی-167 میں شامل ہے جہاں 17 جولائی 2022 کو ضمنی انتخاب ہونے والے ہیں۔ جب پنجاب کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار نذیر احمد چوہان 29 جون کو یہاں ووٹ مانگنے آئے تو مقامی لوگوں کا ان سے صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ انہیں پینے کا صاف پانی دیا جائے۔ ان کے دورے کے فوراً بعد حکومتِ پنجاب نے یہاں پانی کی فراہمی کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔ 

شفاقت مسیح نامی مقامی نوجوان اپنا مطالبہ پورا ہونے پر خوش دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہماری گلی میں کل 78 خاندان رہتے ہیں جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں اسی لیے ووٹ نہیں ڈالے تھے کہ انہیں صاف پانی نہیں مل رہا تھا"۔ اب جب کہ یہ مسئلہ حل ہو رہا ہے تو، ان کے مطابق، "یہ تمام خاندان نذیر احمد چوہان کو ہی ووٹ دیں گے"۔

انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ پانی کے پائپ بچھا کر اس انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کے تحت ضمنی انتخاب کے امیدوار ووٹ لینے کے لیے سرکاری ترقیاتی منصوبوں کا سہارا نہیں لے سکتے۔ اس کے بجائے ان کا کہنا ہے کہ "اگر اس طرح غریبوں کا بھلا ہو رہا ہے تو اس میں برائی ہی کیا ہے"۔

گرین ٹاؤن، کرسچن کالونی میں پینے کےصاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے گرین ٹاؤن، کرسچن کالونی میں پینے کےصاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے 

شفاقت مسیح کی گلی سے تھوڑی دور واقع مریم کالونی نامی مسیحی بستی کے رہائشیوں سے بھی نذیر احمد چوہان نے وعدہ کیا ہے کہ انہیں بھی جلد ہی پینے کا صاف پانی فراہم کر دیا جائے گا۔ اس کالونی میں رہنے والے ارشد بھٹی کے بقول یہ وعدہ پورا کرنے کے لیے چند روز پہلے سرکاری محکموں کے کچھ اہلکار ان کے علاقے میں ایک سروے بھی کر چکے ہیں تاہم انہیں ٹیوب ویل لگانے کے لیے کوئی مناسب مقام نہیں مل سکا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ مقامی باشندوں نے اس مقصد کے لیے اب خود ہی ایک جگہ کا انتخاب کر لیا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ سرکاری اہل کار اسے جلد ہی خرید کر وہاں ٹیوب ویل لگا دیں گے۔

نئے انتخاب، پرانے حربے

پی پی-167 پنجاب اسمبلی کے ان 20 حلقوں میں شامل ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے منتخب اراکین کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج اس قدر اہم ہیں کہ 22 جولائی 2022 کو ہونے والے وزیرِاعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ ان حلقوں میں صوبے کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز جیتتی ہے یا اپوزیشن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف۔ ارشد بھٹی کے الفاظ میں "دونوں جماعتیں اسی لیے یہ انتخابات جیتنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کر رہی ہیں"۔

پی پی-167 میں چلائی جانے والی انتخابی مہم سے ان کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔ مقامی گلیاں، محلے، چوک اور شاہراہیں تشہیری بینروں اور پوسٹروں سے اٹی پڑی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں اشتہاری پمفلٹ گھر گھر پھینکے جا رہے ہیں اور امیدوار گلی گلی جا کر لوگوں سے براہِ راست ووٹ مانگ رہے ہیں۔

امیدواروں کے ذاتی روپے پیسے اور سرکاری فنڈز کا وسیع پیمانے پر استعمال بھی پورے حلقے میں بہ خوبی عیاں ہے.

اس حلقے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار نذیر احمد چوہان لاہور کی انتخابی سیاست میں نووارد نہیں بلکہ 2000 کی دہائی سے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اُس وقت ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) سے تھا۔'

ان کے سب سے نمایاں حریف شبیر احمد گجر لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ ونگ کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ خود تو پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ان کے بڑے بھائی خالد محمود گجر 2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار رہ چکے ہیں۔ وہ اسی جماعت کے امیدوار کے طور پر ایک ضمنی انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ 

تاہم شبیر احمد گجر اس حلقے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا پہلا انتخاب نہیں تھے بلکہ اس نے شروع میں چوہدری محمد عاطف کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا جو 2013 میں لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے-123 میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے پرویز ملک کے خلاف انتخاب میں حصہ لے کر 40 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن انہیں اپنی انتخابی مہم شروع کیے ہوئے کچھ ہی روز ہوئے تھے کہ ان کی جماعت کی قیادت نے ان کی نامزدگی کو منسوخ کر کے شبیر احمد گجر کو اپنا امیدوار بنا لیا۔ 

پی پی-167 میں ضمنی انتخاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کے دونوں مرکزی امیدوار پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور دونوں ہی حلقے میں بڑی تعداد میں موجود گجر برادری کے ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے اس برادری سے اپنے تعلق کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے بعض کارکنان تو اس بات کو بھی مشتہر کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ نذیر احمد چوہان دراصل گجر نہیں بلکہ راجپوت ہیں۔

کرسچن کالونی کو مہیا پینے کے پانی کے پائپ مقامی گندے نالے سے گزر رہے ہیں کرسچن کالونی کو مہیا پینے کے پانی کے پائپ مقامی گندے نالے سے گزر رہے ہیں 

ان دونوں امیدواروں کے درمیان انتخابی رقابت درحقیقت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان کے حمایتی ایک دوسرے پر آتشیں اسلحے سے حملے بھی کر چکے ہیں۔ تشدد کے یہ واقعات اتنے شدید تھے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کے بارے میں تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے تاکہ ان میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

شبیر احمد گجر کے حمایتی پنجاب پولیس پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے ایما پر ان کے انتخابی دفاتر پر چھاپے مار رہی ہے اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ 

دوسری طرف نذیر احمد چوہان اپنے مخالف امیدوار کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پراپرٹی کے کاروبار میں ان کے شاگرد رہنے کے باوجود آج ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ شبیر احمد گجر پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ان کا خاندان مختلف جرائم میں ملوث ہے اور اس خاندان کے کئی افراد پر بہت سے مقدمے درج ہیں۔ 

شبیر احمد گجر کے حامی ووٹرز جواباً کہتے ہیں کہ اس طرح کے ذاتی الزامات لگانا نذیر احمد چوہان کا پرانا شیوہ ہے جس کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پچھلے سال جب وہ ابھی پاکستان تحریک انصاف میں تھے تو انہوں نے اپنی ہی جماعت کی وفاقی حکومت میں احتساب اور داخلہ کے مشیر شہزاد اکبر پر احمدی ہونے کا الزام لگایا تھا۔ شہزاد اکبر نے 20 مئی 2021 کو لاہور کے تھانہ ریس کورس میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس الزام کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس مقدمے کے نتیجے میں نذیر احمد چوہان نے کچھ روز حوالات میں بھی گزارے تھے۔

مستقبل براستہ ماضی

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پی پی-167 سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کی کل تعداد 32 تھی جو چانچ پڑتال اور کاغذات واپس لینے کے مراحل کے بعد کم ہوکر 11 رہ گئی۔ ان میں سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار نذیر احمد چوہان، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شبیر احمد گجر، تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار حسنین احمد شہزاد اور جماعت اسلامی کے امیدوار خالد احمد بٹ نمایاں ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف جماعت اسلامی کے امیدوار اس حلقے کے رہنے والے ہیں۔ تمام باقی اہم امیدواروں کی رہائش لاہور کے دوسرے علاقوں میں ہے۔

گرین ٹاؤن کےعلاقے باگڑیاں چوک میں امیدواروں کی تشھیری مہم گرین ٹاؤن کےعلاقے باگڑیاں چوک میں امیدواروں کی تشھیری مہم 

اس حلقے میں ہونے والے پچھلے چار انتخابات میں تین مختلف جماعتوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ 2002 کے عام انتخابات میں یہاں سے مذہبی جماعتوں کے اتحاد، متحدہ مجلس عمل، کے احسان اللہ وقاص جیتے تھے جو لاہور میں جماعت اسلامی کے ایک اہم رکن ہیں۔ 2008 میں اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار آصف اشرف کا انتخابات سے کچھ ہی روز پہلے انتقال ہوگیا جس کے باعث یہاں ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔ بعد میں پاکستان مسلم لیگ نواز ہی کے سید زعیم حسین قادری اس حلقے سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے (حالانکہ اس مقصد کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایک لاکھ 35 ہزار مقامی ووٹروں میں سے صرف 6.4 فیصد نے ووٹ ڈالے)۔

زعیم حسین قادری 2013 میں بھی اسی حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے لیکن 2018 کے انتخابات سے پہلے ان کے اپنی جماعت کی قیادت سے اختلافات ہو گئے۔ چنانچہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے اُن انتخابات میں میاں محمد سلیم کو اپنا امیدوار نامزد کیا جو پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نذیر احمد چوہان سے تقریباً دو ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ 

پی پی-167 کے مقامی سیاست دان ساجد سردار جوئیا کہتے ہیں کہ موجودہ ضمنی انتخابات میں اس حلقے میں لگ بھگ وہی صورتِ حال پائی جا رہی ہے جو 2018 کے عام انتخاب میں یہاں موجود تھی۔

ان کا خاندان 1979 سے اس حلقے کی انتخابی سیاست میں سرگرم ہے۔ وہ خود بھی دو بار یہاں سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑ چکے ہیں اور 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے طور پر دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حلقے میں برادریوں اور دھڑے بندی کا انتخابی سیاست میں عمل دخل دوسرے سیاسی عوامل کی نسبت کم ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد جماعتی وابستگیوں کی بنیاد پر ووٹ ڈالتی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر اس دفعہ لوگ برادری اور دھڑے بندی کی بنیاد پر ووٹ دیں تو پھر حلقے میں رہنے والے مسیحیوں کے زیادہ تر ووٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کو پڑیں گے اور بیشتر گجر پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے۔ 

میاں محمد سلیم بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پی پی-167 میں جماعتی سیاست کو فوقیت حاصل ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس بار ان کی جماعت کو اس لیے برتری حاصل ہے کہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے یونین کونسلوں کے سربراہوں، نائب سربراہوں اور کونسلروں کی اکثریت اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ 

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اُن بلدیاتی انتخابات میں پورے لاہور سے بالعموم اور پی پی-167 سے بالخصوص پاکستان مسلم لیگ نواز سے وابستہ امیدواروں کی اکثریت نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ باقی ماندہ کامیاب نمائندوں کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ ان کے مطابق اِس ضمنی انتخاب میں دونوں جماعتوں کے منتخب بلدیاتی نمائندے پاکستان مسلم لیگ نواز کا ساتھ دے رہے ہیں۔

نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی: 'نہ معلوم کیوں ہر سیاسی جماعت مسیحیوں کے مسائل کو نظر انداز کرتی ہے'۔

آصف ریاض

تاریخ اشاعت 4 جولائی 2022

وسط جون 2022 کی ایک شام کرسچن کالونی کی ایک گلی میں بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ چارپائیوں، بنچوں اور گھروں کی دہلیزوں پر بیٹھے ہیں۔ کچھ خواتین چارپائیوں کے ساتھ بندھے کپڑے کے جھولوں میں ننھے بچوں کو جھلا رہی ہیں۔ کئی نوجوان ٹولیوں کی شکل میں اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اس علاقے میں پنجاب اسمبلی کی ایک خالی نشست، پی پی-167، کے لیے چند روز میں ہونے والا ضمنی انتخاب پاکستان مسلم لیگ نواز جیتے گی یا پاکستان تحریک انصاف۔ 

گلی میں اندھیرا آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا ہے پھر بھی اس میں موجود لوگ اپنے گھروں کو نہیں جا رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بستی میں بجلی نہیں آ رہی اور اندھیرے میں ڈوبی گلی ان کے تنگ و تاریک مکانوں کی نسبت زیادہ ہوادار ہے۔

دو گلیوں پر مشتمل کرسچن کالونی جنوبی لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں ایک گندے نالے کے کنارے واقع ہے۔ اس کی ایک گلی میں واقع گھروں کے مرکزی دروازے عین نالے کی جانب کُھلتے ہیں جس کے گندے پانی کی بو ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ 58 سالہ مریم بی بی اس کی عقبی گلی میں ایک چارپائی پر بیٹھ کر اپنے پوتے کو جھولا جھلا رہی ہیں۔

ان کا خاندان 15 افراد پر مشتمل ہے جن میں ان کے علاوہ ان کے چار شادی شدہ بیٹے، ان کی بیویاں اور ان کے چھ بچے شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا مجموعی رقبہ چار سو 76 مربع فٹ (پونے دو مرلے) کے قریب ہے۔ ان کے ساتھ ہی چھ سو 12 مربع فٹ (سوا دو مرلے) کے مکان میں ان کے شوہر کے دو بھائیوں کے بچے رہتے ہیں جن کی تعداد 10 ہے۔ مجموعی طور پر ان تینوں گھرانوں میں 15 لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ 

لیکن وہ سیاسی گفتگو میں مشغول نوجوانوں کو جھڑکنے کے انداز میں کہتی ہیں کہ "چپ کر جاؤ۔ ہمیں انتخابات سے کیا لینا دینا۔ کوئی جیتے یا ہارے ہماری زندگیوں پر کون سا فرق پڑنے والا ہے"۔ ان کے مطابق "ہر بار ہم اس امید پر ووٹ دیتے ہیں کہ شاید ہمارے بچوں کا مستقبل بہتر ہو جائے لیکن کیا کبھی ایسا ہوا ہے"۔ ان کے پاس ہی صرف ایک نیکر میں ملبوس ایک دس سالہ بچہ روٹی کا ایک سوکھا ٹکڑا چبا رہا ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ پوچھتی ہیں کہ "کیا  یہ ہے ہمارا مستقبل؟"

نوجوان بھی فوراً ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان میں سے 28 سالہ عابد مسیح اپنی چھ ماہ کی بچی کو اپنے بازوؤں میں سہلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقامی مسیحیوں کے لیے انتخابات ایک بہت اہم سیاسی سرگرمی ہوتے ہیں کیوں کہ "یہ واحد موقع ہوتا ہے جب ہمیں احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم ملک کے مسلم شہریوں کے برابر ہیں"۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ "جیسے ہی انتخابات ختم ہوتے ہیں تو یہ احساس بھی ختم ہو جاتا ہے"۔

اپنی بات کے ثبوت کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ 2018 کے عام انتخابات کے کچھ ہی دن بعد وہ اپنی بھتیجی کو ایک نزدیکی سرکاری سکول میں داخلے کے لیے لے کر گئے لیکن وہاں کی انتظامیہ نے اسے داخلہ نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس امتیازی سلوک کی ایک ہی وجہ تھی کہ "بچی کا تعلق مسیحی گھرانے سے ہے"۔ 

فریاد بھٹی نامی ایک مقامی سیاسی و سماجی مسیحی رہنما کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انتخابات کے دنوں کے علاوہ "نہ معلوم کیوں ہر سیاسی جماعت مسیحیوں کے مسائل  کو نظر انداز کرتی ہے"۔ اگر کبھی سرکاری بجٹ میں ان کی بہتری کے لیے کوئی رقم مختص ہو بھی جائے تو، ان کے مطابق، اس کے فوائد بھی ان تک نہیں پہنچتے کیونکہ "کمزور اور غریب طبقوں کو مقتدر حلقوں تک رسائی نہیں ہوتی اس لیے انہیں ملنے والے ترقیاتی فنڈز میں خورد برد اور بدعنوانی بھی زیادہ ہوتی ہے"۔ 

ہار یا جیت: فیصلہ مسیحی کریں گے

پی پی-167 ماڈل ٹاؤن تحصیل کا حصہ ہے جس میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق دو لاکھ 11 ہزار چھ سو 10 مسیحی رہتے تھے (جو لاہور کی اُس وقت کی کل مسیحی آبادی کا تقریباً 37 فیصد بنتے ہیں)۔ اس حلقے میں شامل آبادیاں جوہر ٹاؤن کے مشرقی حصے، وفاقی کالونی، ٹاؤن شپ اور گرین ٹاؤن پر پھیلی ہوئی ہیں جن میں پچھلی مردم شماری کے مطابق 20 ہزار سے زیادہ مسیحی رہتے تھے۔ فریاد بھٹی کہتے ہیں کہ پچھلے پانچ سال میں اس علاقے کی مسیحی آبادی میں اور بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد کرسچن کالونی اور مریم کالونی میں رہتی ہے (جن میں بالترتیب ساڑھے تین سو اور چار سو کے قریب گھرانے موجود ہیں)۔ اسی طرح شاہ دی کھوئی نامی آبادی میں بھی تین سو 76 مسیحی خاندان رہتے ہیں (اگرچہ یہاں اس سے زیادہ تعداد میں مسلمان خاندان بھی رہتے ہیں)۔ یوحنا کالونی، فیروزیاں والا پنڈ اور بھیڑ پنڈ جیسی کچھ دیگر بستیوں میں بھی مجموعی طور پر کئی سو مسیحی خاندان رہتے ہیں۔

فریاد بھٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی پی-167 میں ہار جیت کا فیصلہ مسیحی آبادی کے ووٹوں کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس حلقے میں رہنے والی مسلم برادریوں میں سے کسی ایک کے ووٹروں کی تعداد بھی پانچ چھ ہزار سے زیادہ نہیں لیکن، ان کے بقول، "یہاں 18 ہزار سے 20 ہزار مسیحی ووٹر موجود ہیں"۔ 

یوحنا کالونی کے رہائشی اشفاق مسیح مقامی مسیحی برادری کی انتخابی اہمیت ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ 2021 میں اسی علاقے میں قومی اسمبلی کے لیے ہونے والے ایک ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے  امیدوار اسلم گِل نے 32 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے کیونکہ مقامی مسیحی ووٹروں نے انہیں بڑھ چڑھ کر ووٹ دیے تھے۔ ورنہ، ان کے بقول، اسی پارٹی کو 2018 کے عام انتخابات میں اس علاقے سے چھ ہزار ووٹ بھی نہیں پڑے تھے۔

پچھلے عام انتخابات میں پی پی-167 میں جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کے ووٹوں کے درمیان دو ہزار سے بھی کم ووٹوں کا فرق تھا۔ اشفاق مسیح کا دعویٰ ہے کہ یہ فرق بھی مسیحی ووٹوں کا مرہونِ منت تھا۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف اس حلقے سے اس لیے جیت پائی کہ ان کی بستی کے اکثر لوگوں نے اس کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ اس جیت کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پورے لاہور میں "شاید صرف ہماری گلی ہے جہاں قدرتی گیس کی سہولت موجود نہیں ہے" لیکن، ان کے مطابق، 2018 کے انتخابات کے دوران جب پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار اُن سے ووٹ مانگنے آئے تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ہر صورت میں یہ مسئلہ حل کر دیں گے جس کی بنا پر ان کے بستی کے زیادہ تر لوگوں نے اسی جماعت کو ووٹ دیے۔ 

لیکن  انہیں شکایت ہے کہ اس وعدے کی پاسداری نہیں کی گئی۔

ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شبیر احمد گجر بھی مانتے ہیں کہ مسیحی ووٹر انہیں اس ضمنی انتخاب میں بھی برتری دلا سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسیحی آبادیوں پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں چنانچہ، ان کے اپنے الفاظ میں "انتخاب سے پہلے میں ہر مسیحی گھر میں جا کر ووٹ مانگوں گا اور منتخب ہونے کے بعد ان کے ترقیاتی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کراؤں گا"۔

ان کے مدِمقابل پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار نذیر احمد چوہان (جو 2018 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے) کے انتخابی رابطہ کار یوسف خان کا دعوی ہے کہ پچھلی بار منتخب ہونے کے بعد انہوں نے مسیحی آبادیوں میں بہت زیادہ ترقیاتی کام کروائے ہیں اور وہ ابھی بھی ان کے مسائل حل کرانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یوسف خان کے بقول نذیر احمد چوہان چاہتے ہیں کہ "اس حلقے میں پائی جانے والی ایسی تمام کچی آبادیوں کے باسیوں کو اپنے مکانات کے مالکانہ حقوق مل جائیں جہاں مسیحی رہتے ہیں"۔ انہوں نے اس سلسلے میں "وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے بھی ملاقات کی ہے"۔

لیکن مریم کالونی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق اقلیتی کونسلر ارشد بھٹی اس دعوے کو ایک انتخابی نعرہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2018 میں بھی سب امیدواروں نے ووٹ لینے کے لیے یہی کہا تھا لیکن بعد میں مالکانہ حقوق تو ایک طرف کسی نے مسیحی آبادی کے دوسرے بنیادی شہری مسائل کے حل کی طرف بھی توجہ نہیں دی۔ نتیجتاً پی پی-167 کے مسیحی باشندے ابھی بھی گندے نالوں کے کنارے چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں نہ تو بجلی، گیس اور پانی پوری طرح دستیاب ہیں اور نہ ہی صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ "اس بار ہم لوگ کسی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے اور اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کریں گے"۔