حلقہ پی پی-140 شیخوپورہ
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم

ارائیں بمقابلہ جاٹ: 'برادری اور جماعت کے ووٹ مل کر ہی انتخابی نتائج کا فیصلہ کریں گے'۔

کلیم اللہ

تاریخ اشاعت 16 جولائی 2022

یکم جولائی 2022 کا سورج دن بھر گرمی برسانے کے بعد جیسے ہی ڈھلنے لگتا ہے وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے اکبر بازار کے سامنے سے گزرنے والی شاہراہ پر پاکستان تحریک انصاف کا ایک انتخابی جلوس نمودار ہو جاتا ہے۔

اگرچہ عید الاضحیٰ قریب ہونے کی وجہ سے بازار میں معمول سے زیادہ خریدوفروخت ہو رہی ہے لیکن جلوس کے شرکا کی تعداد اور ان کا جوش و خروش دیکھ کر دکان دار، مزدور اور خریدار تینوں پنجاب اسمبلی کے مقامی حلقے پی پی-140 میں 17 جولائی 2022 کو ہونے والے ضمنی انتخاب کا ذکر کرنے لگتے ہیں۔ ان میں ایک مقامی جنرل سٹور میں کام کرنے والے سات مزدور بھی شامل ہیں۔ ان میں سے تین کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ دیں گے جبکہ دو پاکستان تحریک انصاف اور دو تحریک لبیک پاکستان کو ووٹ دینے کے حق میں ہیں۔

شیخوپورہ کے تاجروں کی نمائندہ تنظیم، انجمن تاجران شیخوپورہ، بھی ضمنی انتخاب کے حوالے سے ان مزدوروں کی طرح منقسم نظر آتی ہے۔ میاں ذیشان پرویز، جو پاکستان مسلم لیگ نواز کی حمایت کرنے والے دھڑے کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ پی پی-140 میں تاجروں کے 60 ہزار کے لگ بھگ ووٹ ہیں۔ لہٰذا، ان کے مطابق، "پچھلے کئی انتخابات میں یہاں سے وہی جماعت کامیابی حاصل کرتی رہی ہے جسے ان تاجروں کی اکثریت کے ووٹ ملے ہوں"۔ 

تاہم ان کا کہنا ہے کہ مقامی تاجر ووٹ دینے کا فیصلہ نہ صرف جماعتی بنیادوں پر کرتے ہیں بلکہ حلقے کے دوسرے ووٹروں کی طرح وہ اس بات کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں کہ متحارب امیدواروں کا تعلق کون سی برادریوں سے ہے۔ لہٰذا ان کا خیال ہے کہ ضمنی انتخاب میں تاجروں کی اکثریت پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار میاں خالد محمود کو ووٹ دے گی کیونکہ وہ ارائیں ہونے کے ناطے پی پی-140 کی اکثریتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

شیخوپورہ کی مقامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مقامی صحافی اسلام غازی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اس حلقے میں وہی امیدوار کامیاب ہو گا جو تاجروں اور ارائیوں کے زیادہ تر ووٹ حاصل کرے گا۔ وہ پچھلے تین عام انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں دو بار (2008 اور 2018 میں) ایسے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جنہیں تاجروں اور ارائیں برادری کی اکثریت نے ووٹ دیے تھے۔

ان کے مطابق 2008 میں اس حلقے سے جیتنے والے امیدوار کا نام چوہدری غلام نبی تھا۔ وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ لیکن ان کی جیت میں ایک اہم کردار اس امر کا بھی تھا کہ ان کا تعلق ارائیں برادری سے ہے۔ ان کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے الطاف حسین ورک دوسرے نمبر پر آئے کیونکہ انہیں جاٹوں سمیت حلقے کی اقلیتی برادریوں کی حمایت حاصل تھی۔

اگرچہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے جاٹ امیدوار محمد عارف خان سندھیلہ کامیاب ہوئے تھے لیکن اسلام غازی کا کہنا ہے کہ ان کی جیت کی ایک اہم وجہ ارائیں اور تاجر برادریوں کے ووٹوں کی دو سے زیادہ امیدواروں میں تقسیم تھی۔ ان میں سے پاکستان تحریک انصاف کے ارائیں امیدوار حاجی محمد شفیق نے 19 ہزار چھ سو سے زیادہ ووٹ لیے تھے جبکہ میاں خالد محمود نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے تقریباً 12 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ ایک تیسرے ارائیں امیدوار، میاں محمد پرویز، نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔ اسی طرح تین آزاد تاجر امیدواروں کو مجموعی طور پر  پانچ ہزار کے قریب ووٹ پڑے تھے۔ 

انجمن تاجران کے سربراہ اسلم بلوچ، جن کا دھڑا پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کر رہا ہے، سمجھتے ہیں کہ اس بار بھی ارائیں برادری کے ووٹ مختلف وجوہات کی بنا پر تقسیم ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے ارائیں تاجر "پہلے ہی سرِعام پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خرم شہزار وِرک کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں" جبکہ اس برادری سے تعلق رکھنے والے کئی تاجر اور دوسرے ووٹر "تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار میاں جاوید اقبال کو ووٹ دیں گے کیونکہ وہ بھی ارائیں ہیں"۔ 

میاں خالد محمود کی انتخابی کارکردگی بھی کچھ اسی طرح کی صورت حال کی نشان دہی کرتی ہے۔

وہ پہلی بار 2002 میں پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے امیدوار کے طور پر پنجاب اسمبلی کے رکن بنے لیکن اگلے دونوں انتخابات میں وہ تیسرے نمبر پر آئے اور ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد ساڑھے 11 ہزار کے قریب رہی۔ لیکن 2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف نے انہیں اپنا امیدوار نامزد کیا تو وہ دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ دوسرے لفظوں میں نہ تو انہیں ہمیشہ ارائیں برادری کے تمام ووٹ ملے ہیں اور نہ ہی کسی اہم جماعت کی حمایت کے بغیر وہ جیت پائے ہیں۔
اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اس حلقے میں بڑی سیاسی جماعتوں کے نظریاتی ووٹر ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ پچھلے عام انتخابات میں میاں خالد محمود کے مدِ مقابل پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار یاسر اقبال کو ملنے والے ووٹوں سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ ان کا تعلق گُجر برادری سے ہے جس کی پی پی-140 میں آبادی اتنی نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کُن انتخابی کردار ادا کر سکے۔ اس لیے مقامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے انہیں پڑنے والے زیادہ تر ووٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ جماعتی وابستگی کی بنیاد پر ہی ڈالے گئے تھے۔ 

اُن انتخابات کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ان میں جاٹ برادری سے تعلق رکھنے والے امیدواروں میں سے کسی کے پاس بھی کسی بڑی جماعت کا ٹکٹ نہیں تھا۔ اس کے باوجود آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں حصہ لینے والے ایک جاٹ امیدوار طیب راشد سندھو  نے 22 ہزار چھ سو 59 ووٹ حاصل کئے۔ اگرچہ وہ اس اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار خرم شہزاد وِرک کے رشتہ دار ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک ان کی حمایت کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔   

واضح اور پراسرار سیاسی عناصر

خرم شہزاد ورک شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ضمنی انتخاب میں مقامی وکلا بھی انہیں ووٹ دیں گے۔

اگرچہ وہ پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں لیکن پی پی-140 میں ان کے خاندان کا خاصا سیاسی اثرورسوخ موجود ہے کیونکہ اسی علاقے سے ان کے رشتہ دار نذیر وِرک اور سعید وِرک قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ اسلام غازی سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے انہیں اسی خاندانی اثرورسوخ کی وجہ سے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے "حالانکہ شروع میں اس کے ٹکٹ کیلئے رجوع کرنے والے 11 امیدواروں میں ان کا نام شامل نہیں تھا"۔ 

وہ اپنی انتخابی مہم میں بہت متحرک دکھائی دیتے ہیں اور ان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف ان کے حریف میاں خالد محمود اپنی انتخابی مہم خود چلانے کے بجائے پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں پر انحصار کر رہے ہیں کہ وہ گھر گھر ان کا انتخابی پیغام پہنچائیں۔ 

تاہم اسلام غازی کہتے ہیں کہ میاں خالد محمود "گلی محلے کی سیاست کو خوب جانتے ہیں"۔ یہی وجہ ہے کہ 2015 میں منتخب ہونے والے شیخوپورہ کے بلدیاتی نمائندوں کی ایک بڑی تعداد ان کا ساتھ دے رہی ہے جس کے باعث، اسلام غازی کے بقول، "انہیں اپنے مخالف امیدوار پر قدرے برتری حاصل ہے"۔   

تاہم اس انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان ایک  ایسا پرسرار عنصر ہے جو انتخابی نتائج پر ایک بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے امیدوار قیصر ظہور گوندل نے 2018 کے عام انتخابات میں پی پی-140 سے 11 ہزار دو سو 77 ووٹ حاصل کیے تھے لیکن ان کی جماعت نے اس بار انہیں اپنا امیدوار نامزد کرنے کے بجائے ارائیں برادری کے میاں جاوید اقبال کو انتخابی میدان میں اتارا ہے (جنہوں نے پچھلے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر ایک ہزار دو سو 89 ووٹ حاصل کیے تھے)۔ 

اگرچہ وہ الزام لگاتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ انہیں اپنی جماعت کے "پوسٹر، جھنڈے اور اشتہار نہیں لگانے دے رہی" اس کے باوجود انہیں یقین ہے کہ وہ انتخاب والے دن بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

انتخابی اعدادوشمار کم از کم اس حد تک ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں کہ پچھلے دو عام انتخابات میں پی پی-140 میں موجود ان کے سنی بریلوی فرقے کے ووٹوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر 2013 کے انتخابات میں اس فرقے کی نمائندہ جماعت، پاکستان سنی تحریک، نے صرف چھ ہزار ووٹ لیے جو جیتنے والے امیدوار کے ووٹوں سے لگ بھگ 35 ہزار ووٹ کم تھے۔ لیکن 2018 کے انتخاب میں اس فرقے کی نئی نمائندہ جماعت، تحریک لبیک پاکستان، نہ صرف تیسرے نمبر پر آئی بلکہ جیتنے والے امیدوار سے اس کے ووٹوں کا فرق بھی کم ہو کر ساڑھے 21 ہزار کے قریب رہ گیا۔  

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جماعت اپنے ووٹوں میں مزید اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان مسلم لیگ نواز کی انتخابی حمایت منفی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔