این اے- 45 کُرم
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم

نظریات بمقابلہ مفادات: مقامی لوگ اس دفعہ روپے پیسے کی بجائے اپنے 'ضمیر کی آواز سنیں گے'۔

وسیم سجاد

تاریخ اشاعت 30 اکتوبر 2022

اِس سال اپریل میں لوئر مندوری نامی آبادی کے تمام گلی کوچے پختہ ہو گئے۔ خیبرپختونخوا کے مغربی ضلع کُرم کے صدر مقام پاڑا چنار سے 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع اس گاؤں کے لوگوں نے 31 مارچ 2022 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اجتماعی طور پر ایک ایسے امیدوار کی حمایت کی تھی جس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے ووٹوں کے عوض وہ تمام مقامی گلیاں پختہ کرا دے گا۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی کی مقامی نشست این اے-45 کے لیے 19 فروری 2021 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی یہاں رہنے والے لوگوں نے ووٹ دینے کے عوض ایک انتخابی امیدوار سے مقامی مسجد کی مرمت کرا لی تھی۔ یہ انتخاب اس لیے کرایا گیا تھا کہ اس حلقے سے 2018 کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے امیدوار منیر خان اورکزئی 2 جون 2020 کو فوت ہو گئے تھے۔

اس ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک فخر زماں بنگش نے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم رواں سال اپریل میں ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کی جماعت کی وفاقی حکومت کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس لیے اس حلقے میں 30 اکتوبر 2022 کو ایک بار پھر ضمنی انتخاب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

لوئر مندوری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اِس بار بھی وہ انتخابی امیدواروں سے کوئی نہ کوئی اجتماعی فائدہ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کو ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال کرنے کا رجحان صرف این اے-45 تک ہی محدود نہیں بلکہ پاکستان بھر میں بیشتر ووٹر ایسا ہی کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ووٹ مانگنے کے لیے ان کے پاس آئے ہوئے سیاست دان ان کے مطالبات سننے اور ماننے پر مجبور ہیں۔

ان کی اس وضاحت کے باوجود کُرم اس معاملے میں باقی ملک سے ایک قدم آگے معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہاں انتخابی امیدواروں سے کھلے عام نقد رقم لینے کا رجحان بھی موجود ہے۔ گزشتہ تین انتخابات میں ایک امیدوار کے لیے ووٹ خریدنے والا ایک مقامی شخص اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتا ہے کہ 2021 کے ضمنی انتخاب میں اس نے ایک ہارنے والے امیدوار کی جانب سے 30 کروڑ روپے سے زیادہ نقد رقم ووٹروں کو دی تھی۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ چند ماہ پہلے ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحصیل چیئرمین کے عہدے کے لیے بھی اس نے ووٹروں میں قریباً چار کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔

اس کے مطابق یہ رقوم کسی تحریری معاہدے یا رسید کے بغیر ضامنوں کے ذریعے انتخابی امیدواروں سے ووٹروں کو منتقل ہوتی ہیں۔ اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے اس کا کہنا ہے کہ اگر پیسے دینے والے امیدوار کو ایک پولنگ سٹیشن سے مطلوبہ ہدف کے مطابق ووٹ مل جائیں تو ضامن وہاں کے لوگوں کو طے شدہ رقم پہنچا دیتے ہیں۔

اس رجحان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 2013 سے پہلے کُرم سمیت پاک-افغان سرحد پر واقع تمام قبائلی علاقوں میں انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوتے تھے۔ ایسے انتخابات میں امیدواروں کے پاس ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کوئی نظریہ یا کوئی سیاسی نعرہ موجود نہیں ہوتا تھا اس لیے وہ قبائلی رشتہ داری، مذہبی اور فرقہ وارانہ وابستگی، ترقیاتی کاموں کے وعدوں اور نقد رقم کی ادائیگی کے بل بوتے پر ہی ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

ماضی قریب میں ووٹ خریدنے والے کچھ لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ این اے-45 میں ہونے والے موجودہ انتخاب میں پہلی بار جماعتی سیاست کو قبائلی وابستگیوں اور روپے پیسے جیسے دوسرے انتخابی عوامل سے زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس کے باوجود ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حلقے میں کسی حد تک اب بھی ووٹوں کو پیسے کی ادائیگی یا ترقیاتی کاموں سے مشروط کیا جا رہا ہے۔

تاہم جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے امیدوار کے طور پر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے جمیل خان چمکنی اس بات کو درست نہیں سمجھتے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ''اب یہاں انتخابی عمل میں پیسے کا کوئی کردار نہیں رہا بلکہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہے ہیں"۔

عمائدین سے عوام تک

اس صدی کے آغاز تک کُرم اور دوسرے قبائلی علاقوں میں صرف قبائلی عمائدین (مَلِک) ہی ووٹ دے سکتے تھے۔لیکن 1997 کے عام انتخابات میں جب ان علاقوں کی تمام بالغ آبادی کو پہلی بار ووٹ دینے کا حق ملا تو سنٹرل کُرم اور لوئر کرم پر مشتمل انتخابی حلقے سے منیر خان اورکزئی نے کامیابی حاصل کی۔ 2008 کے عام انتخابات میں بھی اس حلقے سے وہی کامیاب ٹھہرے۔

یہ دونوں انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے یعنی ان میں حصہ لینے والے امیدواروں کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں تھا۔ تاہم27  اگست 2011 کو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ایک خصوصی آرڈیننس کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو اجازت دے دی کہ وہ نہ صرف قبائلی علاقوں میں اپنے دفاتر اور تنظیمیں بنا سکتی ہیں بلکہ وہاں انتخابی امیدوار بھی نامزد کر سکتی ہیں۔

اس آرڈیننس کے تحت قبائلی علاقوں میں پہلے انتخابات 11 مئی 2013 کو ہونا تھے لیکن سکیورٹی خدشات کی بنا پر کُرم میں ان کا انعقاد غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

25 جولائی 2018 کو بالآخر اس علاقے میں بھی پہلی مرتبہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہو گئے جن میں این اے-45 سے منیر خان اورکزئی ایک بار پھر 16 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اِس دفعہ وہ جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے امیدوار تھے۔ ان کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار سید جمال اورکزئی نے ساڑھے 13 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے۔ ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ تیسرے نمبر پر آزاد امیدوار ملک فخر زمان بنگش آئے۔ انہوں نے 11 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے۔

منیر خان اورکزئی کی وفات کے بعد 2021 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف نے انہی ملک فخر زمان بنگش کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ وہ 16 ہزار نو سو 11 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ ان کا مقابلہ جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے امیدوار جمیل خان چمکنی سے تھا جنہوں نے 15 ہزار سات سو 61 ووٹ لیے جبکہ سید جمال اورکزئی آزاد امیدوار کے طور پر 15 ہزار پانچ سو 59 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے۔

موجودہ ضمنی انتخاب میں جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے امیدوار ایک بار پھر جمیل خان چمکنی ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اس کے سربراہ اور سابق وزیرِاعظم عمران خان خود ہیں۔

نئی بساط، پرانے مہرے

ضلع کُرم کی انتخابی سیاست فرقہ وارانہ بنیادوں پر منقسم ہے کیونکہ  اس کی تحصیل اپر کرم میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ اکثریت میں ہیں جبکہ لوئر کُرم اور سنٹرل کُرم تحصیلوں میں سنّی العقیدہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ چونکہ این اے-45 میں لوئر کُرم اور سنٹرل کُرم کے علاقے شامل ہیں اس لیے 30 اکتوبر 2022 کو اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کوئی بھی شیعہ امیدوار موجود نہیں

یہ بھی پڑھیں

ضمنی انتخاب میں فیصلہ کن عوامل: سرکاری ترقیاتی منصوبوں، برادری، دھڑے بندیوں اور جماعتی وابستگیوں میں سے کس کا پلڑا بھاری رہے گا؟

این اے-45 کے اندر بھی اس سے ملتی جلتی ایک جغرافیائی تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کا ایک ثبوت اس سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اس وقت سامنے آیا جب سنٹرل کرم سے جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے امیدوار ڈاکٹر احسان اللہ احسان نے تحصیل چیئرمین کی نشست جیتی لیکن لوئر کرم سے پاکستان تحریک انصاف کے ارشد زمان تحصیل چیئرمین منتخب ہوئے۔

ضمنی انتخاب میں بھی بظاہر یہی صورتِ حال ہے۔ نتیجتاً جمیل خان چمکنی کو سنٹرل کُرم میں اور عمران خان کو لوئر کُرم میں انتخابی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے مقامی اہل کار کوثر منیر سمجھتے ہیں کہ اس بار ضمنی انتخاب میں ان کی جماعت کا ہر ووٹر ایک نئے جوش اور جذبے سے حصہ لے رہا ہے کیونکہ اسے "پہلی اور شاید آخری مرتبہ اپنی جماعت کے سربراہ کو براہ راست ووٹ دینے کا موقع مل رہا ہے"۔

این اے-45 میں عمران خان کی انتخابی مہم کی قیادت خیال رحمان اورکزئی کر رہے ہیں جو این اے-45 میں ان کے متبادل امیدوار بھی ہیں (یعنی عمران خان کی انتخابی نااہلی کی صورت میں ان کی جگہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہوتے)۔ تاہم 2021 کے ضمنی انتخاب میں وہ اِس جماعت کے امیدوار ملک فخر زمان بنگش کا ساتھ دینے کے بجائے آزاد امیدوار سید جمال اورکزئی کی حمایت کر رہے تھے جو خود بھی اس بار عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں۔

اسی طرح بنگش قبیلے سے تعلق رکھنے والے جمیعت علمائے اسلام (فضل) کے مقامی رکنِ خیبرپختونخوا اسمبلی ریاض خان نے بھی 2021 کے ضمنی انتخاب میں اپنی جماعت کے امیدوار جمیل خان چمکنی کے بجائے سید جمال اورکزئی کی حمایت کی تھی۔ اُس وقت منیر خان اورکزئی مرحوم کے بھائی ڈاکٹر عبدالقادر اورکزئی بھی اپنے قبیلے سے تعلق رکھنے والے سید جمال اورکزئی کا ساتھ دے رہے تھے۔

لیکن 30 اکتوبر 2022 کو ہونے والے انتخابات میں ریاض خان بنگش اور  ڈاکٹر عبدالقادر اورکزئی دونوں جمیل خان چمکنی کی حمایت کر رہے ہیں جو اپنے قبیلے، پاڑا چمکنی، میں بھی بہت اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ ان قبائلی عوامل کے باعث توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عمران خان کے ایک مضبوط حریف ثابت ہوں گے۔