حلقہ این-اے 118 ننکانہ صاحب
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم

مذہب، ذات برادری یا ذاتی مقبولیت: ننکانہ صاحب کا گنجلک سیاسی میدان کس کے ہاتھ لگے گا؟

آصف ریاض

تاریخ اشاعت 14 اکتوبر 2022

پنجاب کے وسطی ضلع ننکانہ صاحب کے مرکزی بازار میں 9 اکتوبر 2022 کو ہزاروں لوگ عید میلادالنبی کے جلوس میں شریک ہیں۔ انہوں نے مختلف مذہبی اور سیاسی تنظیموں کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور اسلامی ترانوں اور نعتوں کی دھنوں پر جھوم رہے ہیں۔  

جب یہ جلوس بازار کے مغربی سرے پر واقع سکھوں کی اہم ترین عبادت گاہ، گوردوارہ جنم استھان، کے پاس پہنچتا ہے تو اس میں شامل دو بچے، جن کی عمریں دس سال سے بھی کم ہوں گی، بجلی کے ایک قریبی کھمبے پر لگے پاکستان تحریک انصاف کے پوسٹر کو پھاڑ کر اتار دیتے ہیں۔ تاہم وہ اس کے عین نیچے موجود تحریک لبیک پاکستان کا پوسٹر اسی طرح لگا رہنے دیتے ہیں۔ 

یہ پوسٹر قومی اسمبلی کے مقامی حلقے این اے-118 میں 16 اکتوبر 2022 کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں لگائے گئے تھے۔ اس انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار پیر سید افضال حسین شاہ اسی ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک ممتاز مذہبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے اسی جماعت کے امیدوار کے طور پر 50 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔

جلوس میں شامل کئی لوگ بھی ان کے نام کے پوسٹر اور ان کی جماعت کے جھنڈے تھامے ہوئے ہیں۔ ان میں موجود 45 سالہ محمد اجمل کا دعویٰ ہے کہ جلوس کے شرکا کی اکثریت ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان کو ہی ووٹ دے گی۔ 

تاہم مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس حلقے میں ذات برادری کی سیاست نظریات اور مذہب کی سیاست سے زیادہ اہم رہی ہے۔ اس ضمن میں وہ شذرہ منصب علی خان کھرل کے والد رائے منصب علی خان کھرل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ 1985 سے لے کر 2013 تک یہاں قومی اسمبلی کے لیے ہونے والے آٹھ انتخابات میں سے پانچ میں فاتح رہے تھے کیونکہ مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ ان کی کھرل برادری پر مشتمل ہے۔ 2015 میں اپنے انتقال کے وقت بھی وہ اسی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن تھے۔ 

اگرچہ این اے-118 میں ڈوگر، راجپوت، شیخ، جٹ اور آرائیں برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں اور، 2017 کی مردم شماری کے مطابق، اس میں 18 ہزار دو سو 26 غیر مسلم بھی مقیم ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کھرل برادری کی سیاسی برتری کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی دو عمر بیٹیوں کے ساتھ عید میلادالنبی کے جلوس میں شامل محمد منظور کھرل واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ وہ پچھلے کئی انتخابات میں کھرل برادری سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ووٹ دے چکے ہیں اور اس بار بھی شذرہ منصب علی خان کھرل کو ہی ووٹ دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ووٹ دینا کوئی مذہبی معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ" ہے جس کی بنیاد "ذات برادری یا دھڑے بندی" تو ہو سکتی ہے لیکن "مذہب اس کی بنیاد نہیں بن سکتا"۔  

دھاندلی کا شور

شذرہ منصب علی خان کھرل 2018 کے عام انتخابات میں بھی این اے-118 سے پاکستان مسلم لیگ نواز کی امیدوار تھیں لیکن وہ 61 ہزار تین سو 95 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔ ان کے مقابلے میں جیتنے والے امیدوار سابقہ بریگیڈئر سید اعجاز احمد شاہ تھے جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ انہوں نے 61 ہزار تین سو 95 ووٹ لیے تھے۔  

محمد منظور کھرل الزام لگاتے ہیں کہ "انٹیلی جنس ایجنسیوں نے شذرہ منصب علی خان کھرل کو پڑنے والے ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کو مسترد قرار دلوا کر دھاندلی سے سید اعجاز احمد شاہ کو جتوایا تھا" کیونکہ وہ خود 2000 کی دہائی میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

انتخابی نتائج اس حد تک ان کی بات کی تائید کرتے ہیں کہ 2018 کے عام انتخابات میں این اے-118 صوبہ پنجاب میں واقع قومی اسمبلی کے ان چار حلقوں میں شامل تھا جہاں نو ہزار سے زیادہ ووٹ مسترد ہوئے تھے۔ اسی طرح یہ پنجاب کے ان 22 حلقوں میں سے ایک تھا جہاں جیتنے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کا فرق مسترد شدہ ووٹوں سے کہیں کم تھا۔ 

پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقامی حامی اسی ضمن میں ایک اور دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ این اے-118 میں شکست کے باوجود ان کی جماعت نے اس کی حدود میں واقع پنجاب اسمبلی کی دونوں نشستوں، پی پی-133 اور پی پی-134، میں کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ ان میں مسترد کیے گئے ووٹوں کی مجموعی تعداد سات ہزار سات سو 58 تھی جو قومی اسمبلی کے انتخاب میں مسترد کیے جانے والے ووٹوں سے کم تھی۔ 

اس حوالے سے ان کی تیسری دلیل یہ ہے کہ رائے منصب علی خان کھرل کی وفات کے بعد 2015 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں شذرہ منصب علی خان کھرل نے 80 ہزار دو سو 41 ووٹ لیے تھے جبکہ سید اعجاز احمد شاہ نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے طور پر صرف 41 ہزار نو سو 44 ووٹ حاصل کیے تھے۔ 

تاہم اُس وقت مرکز اور پنجاب دونوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومتیں تھیں جن کی موجودگی شذرہ منصب علی خان کھرل کی انتخابی مہم کے لیے ایک واضح تقویت کا باعث تھی۔ اسی طرح اُس انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان کے پیر سید افضال حسین شاہ امیدوار نہیں تھے۔ 

شذرہ منصب علی خان کھرل کا کہنا ہے کہ ان کے انتخابی حلقے میں اس وقت بھی 2015 جیسے حالات ہیں اس لیے وہ ابھی بھی اتنے ہی بڑے فرق سے جیتیں گے جتنے فرق سے وہ سات سال پہلے جیتی تھیں۔ اِس وقت انہیں اپنے سابقہ انتخابی حریفوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے مقامی امیدوار رائے شاہ جہاں احمد بھٹی اور اسی جماعت کے صوبائی اسمبلی کے مقامی امیدوار سید ابرار شاہ، کی حمایت بھی حاصل ہے۔  رائے شاہ جہاں احمد بھٹی کا خاندان ماضی میں اسی علاقے سے کئی انتخاب جیت چکا ہے جبکہ، ان کے سیاسی مشیر رائے اعجاز احمد بھٹی کے مطابق، اب بھی 20 ہزار کے لگ بھگ مقامی ووٹر ان کی حمایت کرتے ہیں۔

لیکن یہ انتخابی حساب کتاب اتنا سیدھا نہیں جتنا نظر آتا ہے کیونکہ ایک طرف تو 2015 کے برعکس اس وقت پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ دوسری طرف اس کے سربراہ عمران خان خود اس حلقے سے انتخابی امیدوار ہیں۔  

مذہبی ووٹ کس کو ملے گا؟

ننکانہ صاحب شہر سے 20 کلومیٹر جنوب میں واقع موڑ کھنڈا نامی قصبے کے قریبی گاؤں ڈھڈیاں سے تعلق رکھنے والے چوہدری ساجد امین ماضی میں بلدیاتی نمائندے رہ چکے ہیں۔ وہ 16 اکتوبر 2022 کو ہونے والے انتخابات میں نہ صرف عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ اپنے گاؤں اور اس کی آس پاس کی بستیوں میں ان کے لیے ووٹ بھی مانگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ این اے-118 میں عمران خان اتنے مقبول ہیں کہ 25 ہزار سے زیادہ ووٹ تو وہ اپنی مقبولیت کی بنا پر حاصل کر لیں گے۔ مزید برآں، ان کے خیال میں، 2018 میں پیر سید افضال حسین شاہ کو ووٹ دینے والے بہت سے لوگ بھی اس دفعہ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے کیونکہ انہیں پتہ چل چکا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 

وہ اپنے گاؤں کی مثال دیتے ہیں ہوئے کہتے ہیں کہ پچھلے عام انتخابات میں یہاں سے تحریک لبیک پاکستان کو تین سو کے قریب ووٹ پڑے تھے لیکن اس مرتبہ سبھی مقامی لوگوں نے متفقہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ "توہینِ رسالت اور اسلام کے بارے میں مغربی رویوں کے خلاف عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا وہی موقف ہے جو  تحریک لبیک پاکستان کا ہے"۔ 

لیکن تحریک لبیک پاکستان کی انتخابی مہم کے انچارج محمد فیصل محمدی سیفی کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت کے ووٹ کسی دوسری جماعت کو منتقل نہیں ہوں گے۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ این اے-118 میں اصل مقابلہ ہی سید افضال حسین شاہ اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی امیدوار کے درمیان ہے کیونکہ "پاکستان تحریک انصاف کے قائد یا ان کے مقامی حمایتی تو جگہ جگہ جا کر ووٹ بھی نہیں مانگ رہے"۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سید افضال حسین شاہ کو پچھلے عام انتخابات میں سیدوالا اور بڑا گھر نامی قصبوں اور ان کے قرب و جوار میں واقع 10 دیہات سے کم ووٹ ملے تھے لیکن "اس بار انہوں نے اس علاقے میں ایک بھرپور مہم چلائی ہے" جس کے نتیجے میں "اگر انہیں اس علاقے سے انتخابی برتری مل گئی تو ان کی کامیابی یقینی ہو جائے گی"۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کرادہ اعدادوشمار کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں ان قصبوں اور ان کے نواحی دیہات میں شذرہ منصب علی خان کھرل کامیاب ہوئی تھیں۔

شہر کو میں نے دیکھا تھا اک رات مسجد کے مینار سے: 'مذہب کا نام استعمال کر کے لوگوں کو بھڑکانا آسان ہوتا ہے'۔

آصف ریاض

تاریخ اشاعت 10 اکتوبر 2022

اگست 2022 کے آخری ہفتے کی ایک گرم دوپہر سید افضال حسین شاہ لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک مذہبی شخصیت ہونے کے ناطے وہ ان کے ووٹوں کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ گھروں اور دکانوں میں جا جا کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ تاہم ایک دکان دار کا کہنا ہے کہ "انہیں تو ووٹ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ان کے (ممکنہ) ووٹروں میں ان کے عقیدت مند بڑی تعداد میں موجود ہیں جو 2018 کے عام انتخابات میں بھی انہیں ووٹ دے چکے ہیں"۔

اس دکان دار کا تعلق وسطی پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے گنجان آباد قصبے موڑکھنڈا سے ہے جہاں سید افضال حسین شاہ قومی اسمبلی کے مقامی حلقے این اے-118 میں 16 اکتوبر 2022 کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اس حلقے سے 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سید اعجاز احمد شاہ منتخب ہوئے تھے لیکن اِس سال اپریل میں اپنی جماعت کے ایک فیصلے کے نتیجے میں انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے باعث یہاں دوبارہ انتخاب کرایا جا رہا ہے۔ 

سید افضال حسین شاہ موڑکھنڈا کے ایک نزدیکی گاؤں ریحان والا میں رہتے ہیں جہاں دفن ایک روحانی شخصیت کے جانشین کے طور پر انہیں پورے ضلع ننکانہ صاحب میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مزیدبرآں وہ ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان نامی جماعت کے امیدوار ہیں جو انتخابی سیاست کو مذہبی مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ 

انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں اسی جماعت کے امیدوار کے طور پر اسی انتخابی حلقے سے 50 ہزار کے قریب ووٹ لیے تھے۔ یہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے کسی بھی حلقے میں تحریک لبیک پاکستان کو پڑنے والے سب سے زیادہ ووٹ تھے۔

اگرچہ انہوں نے جیتنے والے امیدوار سے 14 ہزار چار سو 19 ووٹ کم لیے تھے اور تیسرے نمبر پر آئے تھے لیکن پنجاب میں قومی اسمبلی کے کسی بھی حلقے میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں اور کامیاب امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کے درمیان یہ مختصر ترین فرق تھا۔ اگرچہ اس صوبے کے دو اور حلقوں (این اے-87 حافظ آباد اور این اے-68 گجرات) سے بھی اس جماعت کے امیدواروں نے 40 ہزار یا اس سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے لیکن ان دونوں حلقوں میں ان کے ووٹ جیتنے والے امیدواروں سے بالترتیب ایک لاکھ اور 60 ہزار کم تھے۔ 

ننکانہ صاحب شہر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن عابد حمید فاروقی کا خیال ہے کہ سید افضال حسین شاہ کی اس انتخابی کارکردگی کی وجہ محض ان کے ساتھ لوگوں کی عقیدت مندی نہیں تھی بلکہ یہ بھی تھی کہ 2018 کے انتخابات کے دوران پنجاب کے وسطی اضلاع میں تحریک لبیک پاکستان کا حرمتِ رسول اور توہین رسالت کے قانون کے تحفظ کا بیانیہ اپنے عروج پر تھا۔  

ناراض اکثریت

این-اے 118 کا مرکزی شہر ننکانہ صاحب سکھ مذہب میں ایک انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے بانی گورو نانک 1469 میں یہیں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی بھی یہیں بسر کی تھی۔ انیسویں صدی میں پنجاب کے سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کی یاد میں یہاں گوردوارہ جنم استھان تعمیر کرایا جس کی زیارت کرنے کے لیے پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا بھر کے سکھ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ننکانہ صاحب آتے ہیں۔ 

گوردوارہ جنم استھان کی وسیع و عریض سفید عمارت یہاں کے سب سے بڑے بازار کے مغربی سرے پر واقع ہے۔ اس اگست میں اس کے مرکزی دروازے سے تھوڑا پہلے واقع چائے کی ایک دکان پر بیٹھے ہوئے 50 سالہ امانت علی نے 2018 کے عام انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان کو ووٹ دیا تھا۔ 16 اکتوبر 2022 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی وہ اسی جماعت کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ ان کا ووٹ ان مبینہ حکومتی پالیسیوں سے ناراضگی کا اظہار ہے جن کی وجہ سے "ننکانہ صاحب میں رہنے والے سکھوں کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے" (حالانکہ اس شہر میں رہنے والے 80 ہزار کے قریب لوگوں میں سے سکھوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار کے قریب ہے)۔ جب ان کی اس بات کے دوران چائے کی دکان میں بجلی چلی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ "اس وقت یہاں دن میں 14 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے لیکن جب یہاں گورونانک کا میلہ لگے گا تو اس وقت یہ ایک پل کے لیے بھی نہیں جائے گی"۔

وہ 2005 میں ننکانہ صاحب کو ضلع کا درجہ دینے کے حکومتی فیصلے کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ یہ اقدام صرف "سکھوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے" کیونکہ، ان کے بقول، اس تبدیلی سے صرف "گورودوارے کی عمارت اور مقامی سکھوں کی معاشی حالت میں بہتری آئی ہے"۔

ان کا کہنا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر ان کی طرح بہت سے مقامی باشندوں نے پچھلے عام انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان کو ووٹ دیا تھا۔ ان کے مطابق ان سب لوگوں کو خدشہ ہے کہ ننکانہ صاحب میں "ایک دن صرف سکھ رہ جائیں گے جبکہ مسلمانوں کو یہاں سے نکال باہر کیا جائے گا"۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خدشے کا شکار لوگ ضمنی انتخاب میں بھی اسی جماعت کو ووٹ دیں گے۔

گوردوارہ جنم استھان کے پڑوس میں رہنے والے جواں سال سکھ دلاور سنگھ تسلیم کرتے ہیں کہ مقامی مسلمان یہاں سکھوں کی آمدورفت کو سہل بنانے کے لیے کیے جانے والے کئی اقدامات سے خوش نہیں۔ وہ اپنے بزرگوں سے سنی ہوئی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ان کے مطابق جنرل پرویز مشرف کی حکومت ننکانہ صاحب کو ایک بین الاقوامی معیار کا شہر بنانا چاہتی تھی جس میں فائیوسٹار ہوٹلوں کے علاوہ ایک عجائب گھر، ائرپورٹ اور گورونانک کے نام پر ایک یونیورسٹی بھی تعمیر کیے جانے تھے"۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ مقامی مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ ان منصوبوں کی تعمیر اور تکمیل سے انہیں اپنے گھربار چھوڑںا پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے "انہوں نے ننکانہ صاحب کو ضلع بنانے کے خلاف بھی شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا اور اس دوران بدامنی کے کچھ واقعات بھی ہوئے"۔ 

ان کے خیال میں اس ردِعمل کی ایک اہم وجہ گوردوارہ جنم استھان سے وابستہ 16 ہزار تین سو 91 ایکڑ ایسی زمین ہے جسے مقامی مسلمان رہائشی اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ 

عابد حمید فاروقی بھی یہی کہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس زمین کو استعمال کرنے والے مسلمانوں کو ہمیشہ یہ خطرہ رہتا ہے کہ باہر سے آنے والے سکھوں کو سفر اور قیام کی سہولتیں فراہم کرنے اور یونیورسٹی وغیرہ بنانے کے لیے "ان سے یہ زمینیں واپس لی جا سکتی ہیں"۔ وہ مقامی نوجوانوں میں کھیل کے دوران ہونے والے کچھ جھگڑوں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں بھی "پولیس اکثر سکھ برادری کی طرفداری کرتی ہے جس سے مسلمانوں کے ان خدشات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ سرکاری ادارے ان کے مقابلے میں سکھوں کو ترجیح دیتے ہیں"۔

ان کا کہنا ہے کہ "ننکانہ صاحب کے مسلمان اسی لیے اب ایسے کسی جھگڑے کی شکایت لےکر پولیس کے پاس نہیں جاتے بلکہ اس کے بجائے ایک مجمع اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے انتظامیہ پر عوامی دباؤ ڈال سکیں"۔ وہ 2016 میں پیش آنے والے ایک ایسے ہی واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس سال جب حکومت نے گوردوارہ جنم استھان سے منسلک زمینیں "ناجائز قابضین سے واگزار کرانے کی کوشش کی تو مقامی مسلمانوں نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور گوردوارے کے بالکل پہلو میں واقع متروکہ وقف املاک بورڈ کے دفتر کو آگ لگا دی جس سے یہاں رکھا بہت سا ریکارڈ جل گیا"۔ 

سکھ کونسل آف پاکستان نامی غیرسرکاری تنظیم کے سیکرٹری جنرل اور ننکانہ صاحب کے سابقہ کونسلر سردار سرجیت سنگھ کنول ایسے واقعات کو ایسے گروہوں کی موجودگی سے جوڑتے ہیں جو مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ "مذہب کا نام استعمال کر کے لوگوں کو اکٹھا کرنا آسان ہوتا ہے"۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ "مارچ 2020 میں محض ایک شخص کے بھڑکانے پر بہت سے مسلمان گوردوارہ جنم استھان کے سامنے جمع ہوئے اور چار گھنٹے تک وہاں ایک اشتعال انگیز مظاہرہ کرتے رہے"۔

سوشل میڈیا پر موجود اس مظاہرے کی ویڈیو میں عمران چشتی نامی ایک مقامی مسلمان سکھ برادری کو دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق اس کے بھائی پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے ایک مقامی سکھ لڑکی کو زبردستی مسلمان کر کے اس سے شادی کر لی ہے۔ 

سردار سرجیت سنگھ کنول کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی مذہبی انتہا پسندی این اے-118 میں تحریک لبیک پاکستان کو ملنے والی انتخابی حمایت کی ایک اہم وجہ ہے۔ ان کے مطابق "ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے اس جماعت نے 2018 کے انتخابات میں ایسی کئی باتیں کیں جو پاکستان میں رہنے والی تمام مذہبی اقلیتوں کے لیے تشویش کا باعث تھیں"۔ ان کے مطابق "ان باتوں کی وجہ سے ہمیں یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ اگر یہ جماعت برسر اقتدار آگئی تو ہمارا یہاں رہنا محال ہوجائے گا"۔ 

سیاست: ایک مذہبی فریضہ؟

ننکانہ صاحب کے مرکزی بازار میں سب سے نمایاں عمارت ایک بلند مینار ہے جو گوردوارہ جنم استھان کے سامنے واقع مدینہ مسجد کا حصہ ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ویسے تو یہ مسجد کافی پرانی ہے لیکن 2013 میں اسے نئے سرے سے اس طرح بنایا گیا کہ گوردوارے میں آنے والا کوئی شخص اسے نظرانداز نہ کر سکے۔ 

عابد حمید فاروقی کہتے ہیں کہ اس مسجد کی تعمیرِنو کے دوران مقامی سکھ برادری کے کچھ زعما نے دبے لفظوں میں اس کے منتظمین سے استدعا کی تھی کہ وہ اسے اس طرح ڈیزائن نہ کریں کہ جیسے اس کا اور گوردوارے کا کوئی مقابلہ ہو۔ لیکن، ان کے مطابق، جب ان کی شکایات کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے مسجد کی تعمیر جاری رکھی گئی تو "انہوں نے چپ سادھ لی"۔ 

اسی طرح کی مذہبی تقسیم گوردوارے کے جنوب میں واقع رہائشی آبادی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جہاں رہنے والے بیشتر مسلمانوں نے اپنے گھروں کے دروازوں پر مذہبی عبارتیں لکھوا رکھی ہیں تاکہ ان کی شناخت ان کے پڑوس میں رہنے والے سکھوں کی شناخت سے گڈ مڈ نہ ہو جائے۔ 

امانت علی اور ننکانہ صاحب شہر کے متعدد دیگر لوگ کہتے ہیں کہ مقامی مسلمانوں میں پائے جانے والے ان مذہبی جذبات کی سیاسی عکاسی صرف تحریک لبیک پاکستان کرتی ہے اس لیے یہ لوگ "اس کی حمایت کرنا ایک مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں"۔ سید افضال حسین شاہ خود بھی صحافیوں اور ووٹروں سے بات کرتے ہوئے متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہی مذہبی جذبات کی بنا پر ان کی جماعت کے کارکن اور ووٹر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ 

تاہم عابد حمید فاروقی کا خیال ہے کہ اس انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان شاید اتنے ووٹ نہیں لے پائے گی جتنے اس نے 2018 کے عام انتخابات میں حاصل کیے تھے کیونکہ، ان کے خیال میں، اس کا سیاسی نقطہِ عروج گزر چکا ہے۔ اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ اسے ملنے والے ووٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کی امیدوار شذرہ منصب کو انتخابی نقصان پہنچائیں گے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان اور سید افضال حسین شاہ ننکانہ صاحب شہر اور موڑ کھنڈا کے جن علاقوں میں زیادہ مقبول ہیں وہاں ماضی میں عام طور پر بیشتر ووٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کو ہی ملتے تھے۔